17 اگست 2019
تازہ ترین

الجزائر اور سوڈان کے بعد مشرق وسطیٰ کا مستقبل الجزائر اور سوڈان کے بعد مشرق وسطیٰ کا مستقبل

پچھلے ماہ دس دن سے بھی کم عرصہ میںالجزائر اور سوڈان نے اپنے حکم رانوں کا اقتدار ختم ہوتے دیکھا ۔عمر حسن البشیر اور عبدالعزیز بوتفلیقہ جو کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے اقتدار کی کرسی پر براجمان تھے انہیں بالآخر رخصت ہونا پڑا ۔حالیہ اہم واقعات اور تبدیلیاں ایک اہم سوال ذہنوں میں پیدا کرتی ہیں کہ کیا دوسری عرب اسپرنگ کا آغاز ہورہا ہے؟ایک طرف توسوڈانی عوام کا اس بات پر اصرار ہے کہ وہ اپنے ملک کو ایک سول ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ،ان کے خیال میں اگرملٹری کونسل کا وجود باقی رہتا ہے تو ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عرصہ تک بر سر اقتدار رہنے والے حسن البشیر بھی فوج سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے جانے کے بعد بھی ملٹری کونسل ملکی معاملات کو کنٹرول کرتی رہے تو سوڈانیوں کو یہ خوف ہے دوبارہ وہی کچھ ہوگا جو سابق صدر کے دور میں ہوتا رہا اور یہ صدر حسن البشیر کا پرتو ہوگا۔سوڈان میں ابھی تک جاری رہنے والے پرامن مظاہروں کے باوجود ملٹری کونسل اپنے اختیارات چھوڑنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی حالاں کہ صدر بشیر کے بعد اختیارات سنبھالنے والے ملٹری کمانڈر عواد بن عوف محض دو دن میں ہی کونسل کی کمان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ 
دوسری طرف الجزائر میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے کیوں کہ الجزائری عوام سابقہ حکومت کی کسی نشانی کو کسی حکومتی عہدے پر دیکھنے کو تیار نہیںاورعبدالعزیز بوتفلیقہ کی رخصتی کے بعدوہ ہی کچھ چاہ رہے ہیں جو سوڈانی عوام کا مطالبہ ہے کیوں کہ الجزائر میں بھی کمان ایک فوجی عبدلقادر بن صالح کے ہاتھ میں ہے اگرچہ انہوں نے عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ 4جوالائی کو انتخابات کروائیں گے لیکن حزب مخالف نے کسی فوجی حکم راں کی نگرانی میں انتخابات کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔الجزائر اور سوڈان کے حالیہ واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح2011ء کی عرب اسپرنگ کی وجوہات تھیں وہ اب دوبارہ سا منے آرہی ہیںاور وہ ہیں بنیادی انسانی ضروریات کی عدم فراہمی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جس نے عرب نوجوانوںکو اپیل کی اور اب ایک دفعہ پھراحساس محرومی ،معاشرتی انصاف ،عزت نفس کی بحالی اور حکومتی اداروں کی بڑھتی ہوئی کرپشن اور اقرباپروری اس کی بنیاد بن رہی ہے۔ 
آٹھ سال سے زائد عرصہ ہونے کو ہے جب سے عرب اسپرنگ کی لہر اٹھی تھی لیکن ابھی تک مشرق وسطی کے بارے میں اندیشے اور خدشات باقی ہیں اور مسائل روز بروز پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔تجزیہ کار خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کا جائزہ  لے رہے ہیں جس سے اس مسئلہ کی نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں اور مستقبل کا ایک نیا نقشہ سامنے آرہا ہے مسئلے کے تجزیہ کا اصل پہلو یہ ہے کہ عرب اسپرنگ کی حقیقی وجوہات تلاش کی جائیں اور اسے علاقائی تناظر کے ساتھ ساتھ بین الا قوامی حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ور ہمیں یہاں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اس بارے میں مطلوبہ مواد نہ ہونے کے برابر ہے لہذا ممکنہ طور پرہو سکتا ہے کہ ایسی کوششیں زیادہ بارآور ثابت نہ ہوں ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آج کوئی یہ سمجھتا ہے کہ2011ء کے عرب اسپرنگ کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ میںحقیقی جمہوریت آگئی ہے تو وہ اس خطہ کے حالیہ نقشے کو دیکھ کر ضرورمایوس ہوگا اور وہ عرب اسپرنگ کی جگہ عرب’’عرب خزاں‘‘کی تعبیر استعمال کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔
 2011ء میں عرب اسپرنگ کی جو لہر اٹھی یہ اس خطہ میں اٹھنے والی بیداری کی پہلی لہر نہیں ہے جس نے عرب کی سیاسی وسماجی فضا میں ہلچل پیدا کردی ہو، در حقیقت یہ اس قسم کی تیسری لہر ہے جس سے عرب عوام کا واسطہ پڑا ہے سابقہ ہر دو لہروں کی اپنی منفرد خصوصیات، نظریات ، نعرے اور نتائج تھے۔ عرب بیداری کی پہلی لہر 1914ء میں اٹھی جسے گریٹ عرب ریولوشن کہا جاتا ہے جس کی سربراہی شریف حسین (شریف مکہّ) کر رہے تھے اور جس کا بنیادی مقصد اس خطے سے عثمانی خلافت کا خاتمہ تھا۔ اس لہر میں دو اہم واقعات یکجا تھے ، ایک علاقائی اور دوسرا بین الاقوامی ، جنگ عظیم اوّل بین الاقوامی وقعہ تھا جبکہ ترک سلطنت کا خاتمہ علاقائی واقعہ تھا۔ یہ لہر خطے کے باہر سے درآمد ہوئی تھی جسے برطانیہ کی بھر پور حمایت حاصل تھی تاکہ سلطنت عثمانیہ کیاجلد از جلد خاتمہ ہو سکے اس لہر کا بنیادی نظریہ عرب قومیّت تھا تاکہ ترکوں سے جان چھڑائی جا سکے ۔
دوسری بیداری کی لہر 1950 ء اور  1960 ء کی دہائیوں میں شروع ہوئی اور پہلی دفعہ عرب اسپرنگ کی اصطلاح استعمال کی گئی اور اس کا تعلق  1848 ء کے یورپین انقلاب سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ عرب بیداری کی پہلی لہر کی طرح یہ بھی دو اہم واقعات کے بعد وقوع پذیر ہوئی ،ایک علاقائی اور دوسرا بین الاقوامی ۔ بین الاقوامی معاملہ جنگ عظیم دوم کا تھا جبکہ اسرائیل کا قیام ایک بہت بڑا علاقائی واقعہ تھا جس نے عرب قومیت کو صیہونیت کے بالمقابل لا کھڑا کیا ۔ عرب قومیت کو خاص طور پر مصری صدر جمال عبدالناصر نے خوب پھیلایا اور کافی حد تک سامراجی طاقتوں کی بچھائی ہوئی بساط پلٹنا شروع ہوئی اور علاقائی خود مختاری کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ عرب قوم اغیار کی خلاف متحد ہے ۔ پا ن عرب کے نعرے نے عرب سیاسی رہنماوں کو بھی خاصا متاثر کیا اور بعث پارٹی اس دور میں قائم ہوئی ۔ مصر اور شام ایک متحد ریاست کی صورت میں سامنے آئے ۔ اس لہر نے براہ راست اسرائیل کو ہدف نہیں بنایا بلکہ خطے میں موجود استعماری عناصر کو شدید زک پہنچائی اور اس لہر کی وجہ سے خطے میں مغرب اور سوشلزم کا ٹکرائو رہا ۔
مشرق وسطیٰ میں کسی بھی طاقت کا قدم جمانا احتیاط کا متقاضی ہے اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ خطہ اس وقت پوری دنیا کا سب سے مضطرب اور متاثرہ خطہ ہے جس میں ہر بڑی طاقت کے مفادات ہیں جسے وہ کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتے ۔اس موڑ پر یہ بات معلوم کرنا قطعی مشکل نہیں کہ عرب عوام حالیہ دنوں میں کس محرومی اور بے اعتنائی کا شکار ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ قسمت پھر انہیں کس اور کے رحم و کرم پر نہ چھوڑدے لہٰذا اس موقع پر عرب حکمرانوں کی فراست اور دور اندیشی کا امتحان ہے۔ 
(تلخیص وترجمہ:محمد احمد۔۔۔بشکریہ:مڈل ایسٹ مانیٹر)