24 مئی 2019
تازہ ترین

آخری موقع…! آخری موقع…!

فی زمانہ ریاستوں کی مضبوطی و استحکام کا پیمانہ ان کی داخلی صورت حال یعنی امن و امان اور معاشی مضبوطی سے طے کیا جاتا ہے، گو دیگر عوامل و عناصر اتنے ہی اہم ہیں مگر ان کی حیثیت پھر بھی ثانوی رہتی ہے کہ اگر اول الذکر دو عنصر ریاستوں کے قابو میں ہوں تو وہ کسی بھی صورت حال سے باآسانی نمٹ سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں ریاستیں انہی دو عناصر کو یقینی بنانے کی کوششوں میں بھرپور توانائیاں صَرف کرتی ہیں۔ گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی واردات کے سدباب کے ضمن میں کیوی وزیراعظم جسینڈا نے روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر حکمت عملی اختیار کی اور دنیا بھر کو واضح پیغام دیا کہ نیوزی لینڈ میں کسی بھی قسم کی بدامنی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا اور یہاں کی قیادت ہر وہ قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اس کے اندرونی استحکام کے لیے ضروری ہو۔ ملک کے اندر رہنے والے تمام شہری یکساں حقوق کے حامل ہیں اور کسی ایک کا دکھ، پوری قوم کا دکھ اور ساری قوم کا سکھ ہی کسی ایک کا سکھ ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً فقط چند دنوں کے اندر ریاستی قوانین تبدیل ہوگئے اور پوری قوم یکجان و یکسو ہوکر اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی نظر آئی، کہیں سے کوئی ایسی آواز سنائی نہیں دی کہ دہشت گردوں کی بات بھی سنی جائے، ہوسکتا ہے ان کی بات میں کوئی وزن ہو۔ 
بالخصوص اس پس منظر میں جب عالمی سطح پر پاکستان کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم کرنے کی صرف باتیں ہی نہ ہورہی ہوں بلکہ مذموم مقاصد بروئے کار آرہے ہوں۔ پاکستان کی سیاسی سے زیادہ تاجرانہ ذہنیت والی قیادت ذاتی مفادات کے حصول میں ہر حد سے گزر جانے کے لیے تیار ہو اور ففتھ جنریشن وار کی غیر ارادی طور پر حاشیہ بنی نظر آتی ہو۔ ملکی وسائل کو نوچ نوچ کر اپنی تجوریاں بھر چکی ہو۔ جمہوریت کا رونا رونے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بھی ایسے ممالک اور سیاسی قیادت موجود ہیں جو نظام کے تحت رہتے ہوئے تمام امور سرانجام دے رہے ہیں، مہذب دنیا کے کسی بھی حصے میں ایسی کوئی واردات دیکھنے سننے میں نہیں آتی کہ جہاں اختیار کے نشے میں دھت، خودساختہ عوامی نمائندے کسی خائن کو اپنا رہبر تسلیم کرنے پر تیار ہوں۔ 
ایسا معاملہ صرف پاکستان میں ہے کہ عوامی قیادت کے نام پر وہ تاجر سیاستدان برسراقتدار آتے ہیں، جو ضمیر نام کی کسی چڑیا سے متعارف نہیں، ان کے نزدیک اقتدار کا مقصد صرف ذاتی تجوریاں بھرنا ہے جب کہ وہ اور ان کی آل اولاد بیرون ممالک کے شہری ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ چور مچائے شور کے مصداق، آج جب ان سے حساب کتاب ہورہا ہے تو بجائے حساب دینے کے الٹا حکومت وقت پران ناکردہ گناہوں کا تبریٰ بھیجا جارہا ہے، جو اس حکومت کے گناہ نہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی قطعاً نہیں کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی بہت اچھی یا پچھلی حکومتوں سے بہتر ہے۔ بظاہر اس حکومت کی کارکردگی بھی واجبی سی ہے۔ گو عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل ہی اس کا واشگاف اعلان کیا تھا کہ ملکی معیشت میں بہتری کی خاطر سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور مہنگائی بڑھے گی، عوام مگر ان چیزوں سے بے نیاز اور فوری نتائج کے متمنی رہتے ہیں۔ انہیں اس سے قطعاً کوئی غرض نہیں کہ ریاست کو گردن گردن ڈبونے والے ارسطو ہی آج حکومت وقت کو مہنگائی کے نام پر کوس رہے ہیں تو دوسری طرف ایک بار پھر عوام کو بہلا پھسلا کر سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں، تاکہ خود پر دباؤ کسی طرح کم ہوسکے۔ 
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی نظر آئی، جس میں گذشتہ حکومت کے کارناموں کو اس طرح اچھالا گیا کہ پچھلی حکومت نے اگر تیس ارب ڈالر کے قرض لیے تو اس نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا، پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری اور اسی طرح چند اور منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ قرض کی خطیر رقم کو سند بخشی گئی۔ ایسے کمال دانشوروں کی ذہنی استعداد پر رشک آتا ہے کہ ایک طرف وہ یہ جواز ڈھونڈتے ہیں تو دوسری جانب ان کی قیادت نجی محفلوں میں کہتی ہے کہ اگر اس کے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا؟ ان نابغوں کی حالت بعینہ ایسی ہے کہ رنگ لائے گی فاقہ مستی ایک دن… ریاست کے سب اثاثے گروی رکھ کر حاصل شدہ قرضوں سے ملکی معیشت کو سدھارنے والوں کو اتنی عقل نہیں کہ جب تک اس خطیر رقم کا استعمال ذرائع آمدن بڑھانے والے پروجیکٹس یعنی پیداواری منصوبوں میں نہ کیا جائے، ایسے قرضے ملکی معیشت کو دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی حالت بالکل ایسی ہے کہ قرضہ جات سے ایسے منصوبے لگائے گئے، جو مسلسل ملکی معیشت پر بوجھ ہیں، ان قرضوں کی واپسی کاوقت آن پہنچا اور ملکی خزانہ خالی ہے۔ ریاستی مشینری حکومت وقت کا ساتھ دینے سے بوجوہ کنی کترا رہی ہے اور کئی جگہوں پر تو سابقہ شاہی خاندانوں کو اندرونی خبریں بھی بہم پہنچائی جاتی ہیں، ایسے میں ملکی معیشت مزید زبوں حالی کا شکار ہے، سونے پہ سہاگہ بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینی پڑ رہی ہے۔ معیشت کا رونا رونے والے اگر واقعی ملک سے مخلص ہیں تو بیرون ملک پڑی اپنی دولت واپس کیوں نہیں لاتے؟ اگر واقعی یہ ان کا ملک ہے (فقط حکمرانی کی چراگاہ نہیں) تو اس وقت تو انہیں سب سے پہلے آگے بڑھتے ہوئے ملکی معیشت کو سہارا دینا چاہیے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ اگر انہیں اس وطن کا رتّی برابر بھی احساس ہوتا تو کبھی اس کے وسائل کو نہ لوٹتے۔ جب تک انہیں اس ملک میں اندھے پیروکار دستیاب ہیں، انہیں کسی کا خوف نہیں۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ جمہوریت کا رونا رونے والے بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی حکومت کے پاس قطعاً زیادہ وقت نہیں کہ پس پردہ بیٹھے ان کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور کوئی وقت جاتا ہے جب ان ڈاکوؤں کی دلی مراد بر آئے کہ اس حکومت کا بوریا بستر گول ہوجائے یا کردیا جائے، ہر دو صورتوں میں ان کی کامیابی ہے کہ عالمی سطح پر کسی غیر جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں کی حیثیت صفر سے زیادہ کچھ نہ ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ گذشتہ ادوار میں جس طرح لوٹ مار کی گئی، ذہن کے نہاں خانوں میں یہ صورت حال موجود رہی ہوگی کہ بس اقتدار و اختیار کا یہی موقع ہے، جتنا مال سمیٹا جاسکتا ہے سمیٹ لو، اس میں کوئی کمی رہنے نہیں دی گئی۔ دوسری طرف موجودہ حکومت کو بھی اس امر کا شدیداحساس ہے کہ اگر وہ کارکردگی نہ دکھا سکی تو نظام کی بساط لپیٹی جاسکتی ہے یا انہیں دوبارہ موقع نہ ملے، ہینگ پارلیمنٹ اپنی پوری فریب کاریوں کے ساتھ موجودہ حکومت کے ہاتھ پیر باندھے ہوئے ہے تو روایتی سیاست کے علمبردار پارٹی قائدین بھی طویل جدوجہد کے فوائد حاصل کرنے کا آخری موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے۔