18 اکتوبر 2019
تازہ ترین

اخلاقیات کا جنازہ… اخلاقیات کا جنازہ…

کسی زمانے میں اونچی آواز اور لہجے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اپنی آواز کے بجائے اپنے دلائل کو بلند کریں، کیونکہ بقول مولانا جلال الدین رومیؒ پھول بادل کے گرجنے سے نہیں برسنے سے اُگتے ہیں، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ اونچی آواز کو چھوڑیں اب تو الفاظ ہی بدل چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکل رہا ہے۔ سیاستدان، صحافی، سماجی کارکن، عام شہری یا شوبز کی شخصیات سب ٹرولنگ کی زد میں ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور یہ کون لوگ کررہے ہیں۔ اس کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔ دراصل ہمارا دل کتنا بڑا ہے اور ہم کتنے اعلیٰ ظرف ہیں۔ ان دو نکتوں سے بہت سے جواب ملتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر حالیہ ٹرولنگ اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔ منفی اور نہایت گری ہوئی سوچ پر مشتمل ٹرینڈز سوشل میڈیا پر پھیلائے جاتے ہیں اور پھر اسے ٹاپ ٹرینڈ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 
بہت پیچھے ماضی میں نہ جائیں تو حالیہ مثالوں میں سلیم صافی، حامد میر، سعید پیرزادہ، عاصمہ شیرازی، طلعت حسین، مطیع اللہ جان، نجم سیٹھی اور بہت سے دیگر صحافیوں کو سوشل میڈیا پر بہت کچھ سننے کو ملا۔ سیاستدانوں کی بھی فہرست طویل ہے، جن کو برا بھلا کہا گیا۔ میں (ن) لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی کسی بھی سیاسی جماعت کے نظریے کی طرف داری کیے بغیر اتنا ضرور کہوں گا کہ سوشل میڈیا کا اگر غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یقیناً جماعت اسلامی پہلے نمبر پر آتی ہے کہ ان کے سپورٹر منفی یا اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر پیپلزپارٹی، تیسرے نمبر پر (ن) لیگ اور آخر میں پاکستان تحریک انصاف کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا اگر فیاض الحسن چوہان کی جانب سے پاکستانی ہندو کمیونٹی کے بارے میں ان کی دل آزاری پر وزیراعظم عمران خان نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا تو اپنے سوشل میڈیا اور خصوصاً ٹویٹر پر موجود سپورٹر اورووٹرز کو بھی کہتے بلکہ ان کی رہنمائی کرتے کہ اختلاف اپنی جگہ مگر دوسرے کے لیے اخلاق سے گری ہوئی زبان مت استعمال کریں۔
یہ حیرت اور اچنبھے کی بات نہیں کہ کسی دن اچانک وینا ملک اٹھتی اور اپنی توپوں کا رُخ ایک سیاسی جماعت کی جانب کردیتی ہیں۔ اب ان کی ٹویٹس (جن میں غیر مناسب زبان بھی کئی جگہ دکھائی دیتی ہے) سے پی ٹی آئی کے لوگ تو خوش ہورہے ہیں جب کہ (ن) لیگ سے وابستہ لوگوں کے لیے وہ دل آزاری سے کم نہیں۔ اس صورت حال میں دونوں جماعتوں کی طرف سے جوابی حملے شروع ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ گالم گلوچ، اخلاق سے گرے لفظوں، فقروں اور القاب کی صورت سامنے آتا ہے۔ورلڈکپ کے ابتدائی میچوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے خراب کارکردگی کی وجہ سے کپتان سرفراز احمد سمیت بہت سے کھلاڑیوں کو بھی بہت کچھ اچھا بُرا سننا پڑا۔ کس کس موقع پر کیا کیا ہوا، ایک طویل فہرست ہے۔
کون کہتا ہے کہ آپ کوثر سے دھلی ہوئی زبان استعمال کریں، یہ بھی درست ہے کہ اپوزیشن اور حکومت آگ اور روئی کی طرح ہے، لیکن کیا بہت سوں کو یاد نہیں کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے تحمل کو کسی بھی موقع پر ہاتھ سے جانے نہیں دیا جب کہ (ن) لیگ کے دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے اور جلسوں میں جو زبان استعمال ہوئی، کیا آج ہم پی ٹی آئی کا بویا ہوا ہی کاٹ رہے ہیں؟ سچ میں جھوٹ کا کھوٹ ملا دیا جائے اور اس پر ڈھٹائی سے قائم رہا جائے۔ لفظوںکو بے توقیر کردیا جائے اوراس پر بھی کوئی شرمندگی محسوس نہ کرے۔ گالیاں دی جائیں اور کہا جائے ہم نے کیا غلط کہا ہے تو اخلاقیات کے جنازے ہی اٹھتے ہیں۔ آج ہم دلیل سے بات نہیں کرتے، بلکہ دوسرے کو ذلیل کرتے ہیں۔ حکومتی جماعت کے سوشل میڈیا کے آفیشل پیج سے مخالف جماعت کے لطیفے بناکر سوشل میڈیا پر چلائے جائیں اور صحافیوں کے ساتھ لفافوں کو جوڑا جائے تو دکھ بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی۔ حیرت اس لیے کہ حکومتی جماعت کے سوشل میڈیا کے سرپرستوں کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ جن چند بڑے صحافیوں کے ساتھ وہ لفافے جوڑتے ہیں، ان کی تنخواہیں اچھی خاصی ہیں۔ 
بہرکیف سوشل میڈیا پر ہونے والی گالم گلوچ کو روکنے اور ختم کرنے کی سب سے زیادہ ذمے داری حکومت کی بنتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے پانچ برسوں میں بہت کچھ ڈلیور کرنا ہے، اپنے وعدے پورے کرنے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے پشاور میں آر بی ٹی کی صورت میں جو میگا پروجیکٹ شروع کیا تھا، اس کا حال سب کے سامنے ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وزیراعظم عمران خان ترجیحی بنیادوں پر اسے مکمل کراتے اور پشاور کے عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولت ملتی، لیکن فوکس کچھ اور ہے۔ ایشوز کچھ اور ہیں اور اگر کوئی ایشو نہ بھی ہو تو پیدا کرلیا جاتا ہے، تاکہ عوام کی توجہ مہنگائی اور گزشتہ ایک سال میں ہونے والی بے روزگاری کی طرف نہ جائے۔
الزام تراشیاں، عدم برداشت اور تحمل سے خالی مزاج، لفظی گولا باری، ناپسندیدہ سیاسی، صحافی یا سماجی شخصیت کی کردار کشی، پچھلے دس برسوں میں ہمارے سینے رحم دلی سے خالی ہوگئے اور ہمارے الفاظ آگ برسانے لگے ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں اپنے اخلاق اور کردار کو تباہ ہونے سے ہر صورت بچانا ہے، سوشل میڈیا پر اس وقت نوجوان نسل سب سے زیادہ موجود ہے، اگر ہماری نوجوان نسل ہی بے راہ روی کا 
شکار ہوگی تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔ لہٰذا میری نوجوان نسل سے درخواست ہے کہ وہ اپنے کردار کو مضبوط بنائیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور خود میں تنقید اور اختلافی نقطۂ نظر کو سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ دوسری طرف حکومت، پیمرا اور دیگر اداروں (جو سوشل میڈیا پر کنٹرول رکھتے 
ہیں) کو چاہیے کہ منفی، غلیظ اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے والے اکائونٹس کو فوراً بلاک کردیا جائے۔ بہرکیف سب سے کارآمد پابندی ہمارے ضمیر کی ہوگی کہ ہمیں سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھنے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے، کیا ہمارا ضمیر اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ کیا ہم اپنے بہن، بھائی یا والدین کے لیے بھی وہ زبان استعمال کرسکتے ہیں جو دوسروں کے لیے کررہے ہیں؟ ہمیں یقیناً اپنے ضمیر کا جواب مل جائے گا۔
بقیہ: احمد نوید