10 اپریل 2020
تازہ ترین

ایک سفر تمام ہوا ایک سفر تمام ہوا

مجھے کچھ اشیائے ضروریہ خریدنے کا خیال آیا، گاڑی نکالی اور گھر کے قریب فورٹریس سٹیڈیم میں ایک سٹور کے قریب پہنچ گیا، فٹ پاتھ پر سامنے سے خوش شکل خوش لباس شخص آتا دکھائی دیا، قریب پہنچ کر اس نے نہایت پُرتپاک انداز سے سلام کیا اور مجھے گلے لگالیا، مجھے یاد نہ آسکا کہ وہ کون ہے؟ میں مروتاً خاموش رہا، اس نے کہا، سر میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں، میجرعزیزبھٹی صاحب میری خواہش ہے کہ آج آپ میرے ساتھ چائے پئیں، میں نے ٹالنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا، اس نے بڑھ کر اس ریسٹورنٹ کا دروازہ کھولا جس کے باہر ہم ملے تھے، اس ریسٹورنٹ میں بیشتر عملہ ارکان گزشتہ پچیس برس سے ملازمت کررہے ہیں، سب جان پہچان والے تھے، سیلفیوں سے فارغ ہوئے تو ایک میز کے گرد جابیٹھے، میزبان نے پوچھا، سر چائے یا کافی، بات چائے سے چلی تھی، چائے پر ختم ہوئی۔
اس نے بتایا کہ اس کا لندن میں وسیع کاروبار ہے، سٹور، بلڈنگیں ہیں، فارم اور فارم ہائوس ہیں، بحری، ہوائی جہاز ہیں اور بہت کچھ، پھر اس نے بتایا کہ اس نے ڈبل پی ایچ ڈی کی ہے، میں اس کی ڈگریوں کا سن کر چونکا اور اس سے پوچھا کہ اس نے کس مضمون میں پی ایچ ڈی کی ہے، اس نے بتایا کہ جھوٹ اور فراڈ میں۔ اس کا جواب غیرمتوقع تھا مگر میں نے سنبھل  کر دوسرا سوال داغ دیا، آپ نے ریسرچ کس چیز یعنی کس موضوع پر کی، اس نے کہا کرکٹ ورلڈکپ پر۔ میرے میزبان کا جواب میرے لیے خاصی دلچسپی کا حامل تھا، ویٹر آیا اور چائے رکھ کر چلاگیا، اس نے دونوں کپ میں چائے بنائی۔
میں نے اسے کہاکہ میں کرکٹ اور ورلڈکپ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا، وہ چہک اٹھا، اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اس عظیم کھیل اور عالمی مقابلے کے تمام اسرار ورموز مجھے  ایک ہی نشست میں سمجھا کر دم لے گا۔ اس نے کہا، سرجی کرکٹ ورلڈکپ ایک سائنس ہے، ہر شخص یہ سائنس نہیں سمجھتا، یہ بالکل اسی طرح سے ہوتا ہے جیسے عالمی مقابلہ حسن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک رات قبل ہی لندن سے لاہور پہنچا ہے اور جاری کرکٹ ورلڈکپ کے کئی میچ اس نے گرائونڈ میں دیکھے ہیں۔
وہ بتانے لگا کہ کرکٹ کبھی شرفاء کا کھیل تھا مگر اب نہیں، مگر اس کے باوجود کچھ شرفاء کھیل کو کھیل سمجھ کر بے وقوف بننے کے لیے سارا سال تیار رہتے ہیں، اس نے انکشاف کیا کہ جاری ورلڈکپ کی طرح ہر ورلڈکپ اپنے افتتاحی میچ سے ایک ڈیڑھ ماہ قبل شروع ہوتا ہے، میزبان ملک ٹیم جیسی بھی ہو ایک کمزور ٹیم اس کا دورہ کرتی ہے اور اس دورے میں اپنے تمام میچ اس خوبصورتی سے ہارتی ہے کہ ہار کا یا فکسڈ میچ کا گمان نہیں ہوتا، مہمان ٹیم کے تمام میچ ہارنے کا مقصد میزبان ٹیم کو طاقتور اور فیورٹ کا درجہ دلانا ہوتا ہے۔
اس نے اپنی چائے ختم ہونے سے قبل ہی مزید گرم چائے لانے کا آرڈر دیا، اس نے بتایا، اس عالمی مقابلے کے لیے ٹیموں کے دو گروپ بنائے جاتے ہیں اور شائقین کے نقطۂ نظر سے مختلف ٹیموں کو مخالفانہ گروپوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ میچ مزید دلچسپ ہوں، گیٹ منی کے ساتھ سپانسرشپ زیادہ سے زیادہ ملے۔ اس کھیل کو چار چاند لگانے کے لیے ایک نئی اور کمزور ٹیم کو عالمی مقابلے میں شرکت کا چانس دیا جاتا ہے، کہنے کو تو یہ ٹیم نئی اور کمزور ہوتی ہے لیکن اس سے ایک بڑا کام لینا مقصود ہوتا ہے، وہ ہدایات کے مطابق رنگ میں بھنگ ڈالتی ہے، اپنے سے کئی درجہ مضبوط ٹیم کو میدان میں چاروں شانے چت کرکے اس کے سینے پر سوار ہوکر بھنگڑے ڈالتی ہے، تماشائی اور شرطیں لگانے والے اسے کرکٹ کا حُسن سمجھتے ہیں، انہیں اپنے لُٹ جانے کا احساس نہیں ہوتا۔
میزبان ٹیم اچھا کھیلے  یا برا، سیمی فائنل تک پہنچنا اس کا استحقاق سمجھا جاتا ہے، میزبان ٹیم اگر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے تو گیٹ منی اور سپانسر پر برا اثر پڑتا ہے، عالمی کپ کا اصل سودا تو میزبان ملک کے تماشائیوں کو بیچنا ہوتا ہے، دیگر ملکوں سے آئے لوگوں کی تعداد تو محض آٹے میں نمک سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔
میچوں میں اکثر ٹیموں کے اہم کھلاڑی حق نمک ادا کرتے واضح نظر آتے ہیں، وہ پہلی بال پرآئوٹ ہوکرکمال کرتے یا ایک ایسا اہم کیچ جان بوجھ کر  گراتے ہیں، جس سے میچ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے، بولر آخری اوورز اس انداز میں کراتا ہے کہ اس کی خوب مار پڑتی ہے، عموماً آخری اوور میں بیس پچیس رنز دینے سے مخالف ٹیم میچ جیت جاتی ہے۔
فائنل میچ میں تماشائیوں کے پیسے پورے کرانے کے لیے میچ گرگٹ کی طرح کئی رنگ بدلتا ہے، اول بیٹنگ کرنے والی ٹیم کم ترین سکور پر آئوٹ ہوجائے تو دوسری ٹیم اس سے دو رنز قبل ہی آئوٹ ہوکر انوکھا کارنامہ انجام دیتی ہے، اسی طرح ایک ٹیم رنز کا پہاڑ کھڑا کردے تو بظاہر نظرآتا ہے کہ اب فتح اسی کا مقدر ہے، لیکن دوسری ٹیم اپنی باری آنے پر ایک پہاڑ کے بجائے دوپہاڑ کھڑے کرکے ناممکن کو ممکن بناکر ورلڈکپ اٹھالے جاتی ہے۔
ورلڈکپ کے پہلے مرحلے میں آئوٹ ہونے والی ٹیم آخری میچ جیت کر وطن واپس آتی ہے، تاکہ چھترول کا خدشہ کم ہو۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں اس شریفانہ  کھیل کی بہتری کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے تو انہوں نے گراں قدر مشوروں کے انبار لگادیے۔
انہوں نے فرمایا کہ اگر ٹیم کا کپتان ایک میچ ہارنے کے بعد کہے کہ ہم نے اپنی اس ہار اور غلطیوںسے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب غلطیاں نہیں دہرائیں گے تو اس کو فوراً ٹیم سے باہر نکال دیں، کیونکہ وہ اگلے میچ میں پرانی غلطیوں کو دہرانے کے ساتھ نئی غلطیاں کرنے کا وعدہ کرچکا ہوتا ہے۔ اگر کسی کھلاڑی کی بیوی غیرملکی ہے تو اس ملک کے ساتھ میچ کی صورت میں اس غیرملکی بیوی کے شوہر کو ٹیم میں شامل نہ کریں ورنہ ملکی ٹیم عبرت ناک شکست سے دوچار ہوگی جب کہ سسرالی ٹیم زبردست فتح حاصل کرے گی۔ جس ٹیم کے جس کھلاڑی کا یہ آخری ورلڈکپ ہو اسے تو ٹیم میں شامل کرنا اور اہم میچ میں کھلانا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنا ہے، ایسا کھلاڑی عزت کے لیے کم اور ثروت کی خاطر کھیلنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
ورلڈکپ شروع ہونے سے قبل جو فرد جو ادارہ یہ سلوگن دیتا ہے کہ تم ہارو یا جیتو ہمیں تم سے پیار ہے، اسے اول تو سنگسار کردیں، نہیں کرسکتے تو زندہ درگور کردیں۔ زندہ قوموں کی ٹیمیں
ہارنے کا معاملہ طے کرکے میدان میں نہیں اترتیں، وہ جیت کے جذبے سے سرشار نظرآتی ہیں، مقابلہ کرتی ہیں، پھر  ہار جائیں تو کوئی افسوس نہیں۔
چائے کا دوسرا کپ ختم ہوا تو میرے میزبان کا چشم کُشا تھیسیس بھی ختم ہوا، جھوٹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے میرے دوست کی سب باتیں جھوٹی ہیں لیکن اگر آپ اس میں سے کچھ سوچ تلاش کرنا چاہیں تو اس پر کوئی پابندی نہیں، جھوٹ کا ورلڈکپ اور اس میں ہمارا سفر تمام ہوا۔
بقیہ: صورتحال