15 ستمبر 2019
تازہ ترین

ایک اور این آر او یا ’’فرمائشی گرفتاری‘‘…؟ ایک اور این آر او یا ’’فرمائشی گرفتاری‘‘…؟

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا
کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھر یوں ہوا کہ… خود میرا چہرہ بدل گیا
جو آصف زرداری کی گرفتاری کو سنجیدہ لے رہے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، حمزہ کی گرفتاری کے باوجود بات سنجیدگی کی طرف نہیں جاتی۔ البتہ بات مالم جبہ ریفرنس کی جانب جائے تو کچھ سنجیدگی کا شائبہ ہو۔ اس سکینڈل کے مرکزی ملزمان میں پرویز خٹک، وزیراعلیٰ محمود خان اور پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے نام سرفہرست ہیں۔ تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، نیب کے پی کے ریفرنس داغنے کی حمایت میں ہے، دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ رہ گئی بات قوم کی وہ تو شدید جذباتی ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ جیل زرداری سے روٹھ گئی ہے، اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔ مجھے پتا نہیں کیوں رہ رہ کر سیاستدانوں کی فرمائشی گرفتاریوں کی ’’قابل رشک تاریخ‘‘ یاد آ رہی ہے۔ انتظامیہ سے سیاستدان ہمیشہ درخواست کرتے رہے کہ براہ مہربانی انہیں گرفتار کر لیا جائے تا کہ انگلی کٹوا کر اپنا نام شہیدوں کی فہرست میں درج کرا لیا جائے۔ فرمائشی گرفتاریوں کی تصاویر قابل داد ہوتی تھیں، ایسی تصاویر ہمیشہ فوٹو گرافروں کیلئے من و سلویٰ ثابت ہوئی ہیں جبکہ انتظامیہ کے بھاگوں تو ویسے ہی چھینکا ٹوٹ جاتا ہے۔ جیسے نوازشریف کی سعودی عرب سے پہلی آمد پر چودھری نثار علی خان ایف ٹین اور جاوید ہاشمی لاجز سے گرفتار ہو گئے تھے، احسن اقبال نے اپنا عارضی سٹیج زیرو پوائنٹ پر سجایا۔ بہرحال (ن) لیگ میں سے 12 اکتوبر کے دوسرے روز گرفتاری اصلی تھی، کراچی پریس کلب کے باہر مشاہد اللہ خان، طارق خان اور شکیل خان شامل تھے۔ اس روز انتظامیہ نے ان کی اصلی تواضع کی تھی، پھٹے خون آلود کپڑے گواہی دے رہے تھے کہ گرفتاری دیوانوں کی ہے۔
عجیب بات ہے کہ ’’جمائی راجہ‘‘ کو لاکھوں کارکن  وراثت میں ملے تھے، ’’گرفتاری‘‘ کے روز پورے ملک سے اڑھائی ہزار بھی نہیں نکلے۔ ان سطور کے اشاعت اب 12 جون کو ہی ممکن ہو سکے گی، ہو سکتا ہے اس وقت بوکھلائی قیادت شاید کوئی ڈھنگ کا احتجاج کر ہی لے۔ دھوپ، آندھی، طوفان کی پروا نہ کرنے والے ابن رضوی جیسے جیالے تو کب کے جیالے پن سے توبہ تائب کر چکے، کوئی اسرار شاہ نظر نہیں آئے گا۔ مصطفیٰ کھوکھر کی ’’رعایا‘‘ یا چند اور لوگ شاید کہیں نظر آ جائیں۔ اگر گرفتاری جینوئن ہے تو 10 ہزار لوگ راجہ پرویز اشرف اور کائرہ لے آئیں، چودھری منظور قصور اور لاہور میں طوفان برپا کرا دیں۔ میاں مصباح الرحمٰن کچھ جیالوں کو نکال لیں گے، ناصر بیگ منڈی بہاؤالدین سے ایک دو بس لے آئے گا۔ آگے انتہائی معذرت کے ساتھ بس ہے۔ اگر گرفتاری اصلی ہے تو آصف زرداری کو چاہیے کہ ناہید خان اور صفدر عباسی سے مدد طلب کر لیں، بلاول کی تو ناہید خان خالہ ہیں، ماں برابر ہیں، شو لگ جائے گا۔ مگر ’’گرفتاری‘‘ فرمائشی ہے تو پھر لنگڑے لولے احتجاج سے بھی میڈیا کی مہربانی سے کام چلا لیا جائے گا۔ گوجرانوالہ میں گیارہ لوگ نکلے مگر خبر بن گئی۔ فی الحال مجھے ’’مرد حر‘‘ اور مفاہمت کے جادوگر کی گرفتاری ہضم نہیں ہو رہی۔ رہ گئی بات سوشل میڈیا کی تو وہاں پر تو روزانہ ہی مقابلے میں چائے کی پیالی میں طوفان اٹھتا ہے۔
 شہباز شریف کی معنی خیز مسکراہٹیں کچھ اور ہی پتا دے رہی ہیں۔ حمزہ گرفتاری کے بعد گھر سے ایک اور گرفتاری کے بھی متمنی ہوں گے۔ چلیں اس بہانے قوم کی ’’ٹویٹس‘‘ سے تو جان چھٹے گی۔ شہباز شریف دیکھیں کب ’’پا جی‘‘ میرا مطلب ہے باؤ جی سے ملنے جاتے ہیں۔ ’’لندن یاترا‘‘ کی سینے میں دفن باتوں پر مشاورت کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ رمضان میں حسین نواز اور اسحاق ڈار حرمین شریفین کے ’’چکروں‘‘ میں لگے رہے مگر افاقہ نظر نہیں آیا۔ 10ارب ڈالر کے پٹرول کی خیر ہو۔ کیا پھر سے نئی گارنٹیاں تو جمع نہیں کرائی جا رہیں، اب تو شہزادہ مقرن بھی نہیں ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں شہباز شریف اپنے بیٹوں اور داماد کو کیسے بچاتے ہیں۔ بھائی، بھائی کے سمدھی اور بھتیجی کیلئے ڈیل کر پاتے ہیں یا نہیں، اس بار سکرپٹ جاندار ہو گا کہ نہیں یا فلم ڈبہ ثابت ہو گی۔ میں رات گئے جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو لوگوں نے ’’ادی فریال‘‘ کے حوالے سے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ فی الحال ان کے حوالے سے نیب اور میڈیا سب خاموش ہے، یہ معنی خیز نہیں، تو کیا ہے۔ چلیں اس قسط کا یہ فائدہ تو ہو گا کہ حکومت اپوزیشن کی اس لڑائی میں بائیکاٹ بائیکاٹ کا ڈراما کھیلا جائے گا۔ اپوزیشن کے بڑے رہنما اپنی تقاریر کر لیں گے، اس کے بعد ہمیشہ کی طرح سے اپوزیشن حکومت کو ’’واک اوور‘‘ دے گی، بجٹ بآسانی پاس ہو جائے گا۔
دوسرے دونوں بڑی پارٹیوں کی تحریک چلانے سے بھی جان چھوٹ جائے گی

 البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اے پی سی کا شغل میلہ لگ جائے۔ سیاستدانوں اور صحافیوں کو ٹھنڈی جگہ پر تقاریر اور کوریج کی سہولت میسر آ جائے گی۔ اپوزیشن مشترکہ اعلامیہ بلکہ روایتی مشرقی دلہنوں والا اعلامیہ جاری کرے گی جس میں وہی پرانے مطالبات گرفتاریوں کی مذمت اور جمہوریت سے محبت کا عہد دیرینہ دوہرایا جائے گا۔ اس کے بعد شاندار ضیافت ہو گی۔ یہ مولانا فضل الرحمٰن کی محبت ہو گی کہ وہ اس روز میٹھے میں حلوے کا بھی انتظام کر دیں کیونکہ علمائے کرام کافی تعداد میں ہوں گےالبتہ وہ عبدالغفور حیدری والے حلوے سے اجتناب ہی رکھیں۔ اُس حلوے کو مولوی ہضم نہیں کر سکے تھے یہ نرم و نازک سیاستدان کیسے ’’پچائیں‘‘ گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مولانا غفور حیدری سے بالواسطہ رابطہ بذریعہ مولانا شیرانی کرے، کافی افاقہ ہو سکتا ہے جبکہ مفتی ابرار مولانا صاحبان پر شیر اور عقاب والی نظر رکھیں، تاکہ اے پی سی ’’انصافی نظریہ‘‘ سے محفوظ رہے جبکہ قوم کو اللہ ایک اور این آر او سے محفوظ رکھے (آمین)۔
ہمیں تو شاہ کی آنکھوں میں خوف دیکھنا ہے
آؤ اس کے حکم سے انکار کر کے دیکھتے ہیں
(ناصر مجید)