18 اکتوبر 2019
تازہ ترین

احتساب کا عمل ادھورا کیوں نظر آ رہا ہے؟ احتساب کا عمل ادھورا کیوں نظر آ رہا ہے؟

کوئی خیانت محکمہ جاتی کارندوں کی بددیانتی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کیونکہ فائل میں غلط اندراج تو افسر ہی کرتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبہ قاعدے قانون کے عین مطابق شروع ہو کر تکمیل پا گیا ہے، چاہے موقع پر پہلی اینٹ بھی نہ رکھی گئی ہو، لیکن جب احتساب کا وقت آتا ہے تو اہلکار صاف بچ کر نکل جاتے ہیں اور سیاستدانوں کو پھنسا دیتے ہیں کہ حتمی دستخط تو وزیروں مشیروں نے کیے تھے۔ پھر بھی یقیناً حالیہ احتساب نے کچھ نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ سیاستدان اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ قدرت کسی مصلحت کے تحت حکمرانی کو کچھ خاندانوں کے لیے مخصوص کر دیتی ہے پھر انہیں کوئی نہیں روک سکتا، لیکن چند مقدموں اور کچھ اہم لوگوں کی گرفتاریوں سے انہیں احساس ہونے لگا کہ حکمرانی میں جتنا بڑا منافع ہے، اسی تناسب سے نقصان بھی ہے اور غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ مرض 70 برس پرانا اور علاج ابھی شروع ہوا ہے، اس لیے ابھی تک انہیں لگتا ہے کہ شاید وہ زیادہ کھا لینے کے نتیجے میں طویل دورانیہ کا بُرا خواب دیکھ رہے ہیں جو آنکھ کھلتے ہی غائب ہو جائے گا۔ اسی لیے ان کی جھنجھلاہٹ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ نئے آنے والے بعض وزیر مشیر بھی بساط بھر ہاتھ مارنے اور جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں کہ جیسے خود انہیں احتساب کے اصلی ہونے کا یقین نہیں ہے۔ پھر بھی یہ درست ہے کہ کچھ بڑوں کو جیل جاتے دیکھ کر سیاسی خانوادوں کے ایک دو درجن نوجوان جو پچھلے دنوں میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر حکم دینے کی مشق کیا کرتے تھے اور میڈیا پر بھی آنے لگے تھے، اچانک منظر سے غائب ہو گئے ہیں۔ عام گھروں کے وہ نوجوان بھی جو تیز رفتاری سے دولت مند بننے کی خواہش میں خیانت اور دوسرے جرائم کے ماہر سیاستدانوں کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے تھے، اب انہیں بھول کر چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرض حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ پاکستان ہے اور یہاں سب چلتا ہے، کا نعرہ اب بھی لگتا ہے لیکن آواز کچھ دھیمی پڑ گئی ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت کے معاہدے جو قانون سے بالاتر ہو کر زبانی یا پرچیوں پر کر لیے جاتے تھے، روک لیے گئے ہیں۔ ایک کے چار اور دو کے آٹھ بنانے والے اسمارٹ کاروباری لوگ جو سول سیکریٹریٹ، مینار پاکستان، مزار قائد اور کراچی پورٹ جیسی پرائم لوکیشنوں کیلیے رہائشی پلازوں اور بزنس ٹاورز کے نقشے بنوا رہے تھے، ان کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ زمین کی قیمتیں جو کسی تناسب اور جواز کے بغیر مسلسل بڑھتی چلی جا رہی تھیں، فی الحال ایک جگہ رک گئی ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر تمام بے نامی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا گیا تو قیمتیں واپسی کا سفر شروع کر سکتی ہیں۔ لیکن محکمہ جاتی کارندوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔
وزارتوں اور محکموں میں بیٹھے بہت سے افسران کو اب بھی یقین ہے کہ احتساب کا سارا کھیل پچھلے مواقع کی طرح خود ان کی منظوری سے ان عالمی مالیاتی اداروں اور بینکوں کو مطمئن کرنے کیلیے رچایا جا رہا ہے جو پچھلے وزرائے خزانہ کے پیش کردہ جعلی اعداد و شمار اور جھوٹے وعدوں سے بیزار آ کر اعتبار کرنے سے کترانے لگے تھے۔ لیکن اب تبدیلی اور احتساب کی خبریں سن کر ان کا اعتبار بحال ہوتا جا رہا ہے۔ یوں بہت سے افسر احتساب کے موجودہ عمل کو فرضی سمجھ رہے ہیں جسے وہ جب چاہیں گے، سوئچ دبا کر روک دیں گے۔ حکومتی معاملات پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کیلیے افسر لوگ ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی دستاویزی شعبدہ 
دکھا کر نئی حکومت کو ناسمجھ اور انتظامی معاملات میں کمزور ظاہر کر دیتے ہیں تاکہ ان کی بالادستی قائم رہے اور بڑے کاروباری اداروں کو یقین رہے کہ افسر لوگوں کی ہاتھ کی صفائی کے سامنے حکومت بھی بے بس ہے۔ باخبر لوگوں کا خیال ہے کہ مشکل ترین سوالات کے جواب دے کر سی ایس ایس پاس کرنے والوں کے لیے ایسی شعبدے بازی کچھ مشکل نہیں، جس میں پرانے منصوبوں کا دوبارہ افتتاح کر دیا جائے تا کہ سابقہ حکومت کے لوگوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع مل سکے۔۔۔ اور چند ماہ کے اندر ریلوے کے پچاس سے زیادہ حادثے ہو جائیں تاکہ بھاری سامان کی آمد و رفت ٹرکوں سے ریلوے کی طرف منتقل ہونے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ افسران پہلے سے بھی لمبے ہاتھ مار رہے ہیں اور پکڑے جانے والے سیاستدانوں کے خلاف فائلوں میں موجود ثبوت مٹانے کی کئی گنا زیادہ رشوت وصول کر رہے ہیں۔ اس پس پردہ کھیل کی وجہ سے احتساب کے لیے ثبوت جمع کرنے کا عمل ابھی تک ناقص اور غلطیوں سے پُر ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ سب سے مشہور جے آئی ٹی نے سابق وزیراعظم کے خلاف ٹرالیوں پر لاد کر جو کئی کارٹن کاغذات عدالت میں پیش کیے تھے، ان میں سے 
ایک بھی اس قابل ثابت نہ ہوا جس پر فیصلہ دیا جا سکتا، جس کی وجہ سے احتساب کو غلط کہا گیا۔ اس کے بعد کی تحقیقات بھی گرفتاریوں میں تو معاون ثابت ہوئی لیکن ٹھوس ثبوتوں کے معاملے میں کمزور ہی رہی۔ جس کی وجہ سے کئی ملزموں کو ضمانت مل گئی اور کئی پر ابھی تک ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا۔ دیدہ دلیری یہاں تک کہ عالمی سطح پر بعض تیزی سے ترقی کرنے والے کاروباری اداروں کی مثال دی گئی حالانکہ ان اداروں کا ہر ڈالر ریکارڈ پر وصول ہوا اور اس پر ٹیکس دیا گیا جب کہ ہمارے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس سیاستدان کے پاس کتنا کالا روپیہ ہے اور کس نے ایک کمرے کے مکان سے ان گنت بنگلوں، گاڑیوں اور بینک بیلنس تک کا سفر کتنے مہینوں میں طے کر لیا۔ حیرت کی بات ہے کہ عوام جن لوگوں کے جرائم سے بخوبی واقف ہیں ان کے خلاف ابھی تک عدالتیں ثبوت مانگ رہی ہیں۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ متعلقہ افسروں کو ان ثبوتوں کے عوض چار پیسے اچھے مل گئے ہیں، اس لیے عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے سودا کر لیا گیا۔ جب تک سرکاری کارندوں کی طرف سے ثبوت فروخت کرنے کا یہ کاروبار جاری رہے گا تب تک احتساب کا عمل ادھورا اور نامکمل نظر آتا رہے گا۔ خیانت کا یہ کاروبار خود بخود ختم نہیں ہو گا اس کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔
اگر وفاقی اور صوبائی بجٹ میں درج ترقیاتی منصوبوں کے تفصیل کی تصدیق موقع پر جا کے کر لی جائے تو سارے ثبوت مہیا ہو سکتے ہیں کہ کون سے منصوبے صرف فائلوں میں مکمل ظاہر کیے گئے ہیں جب کہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں اور کون سے منصوبے بلاوجہ صرف کاغذی بل بڑھانے کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔ محکمہ جاتی کارندوں کی شعبدہ بازی کی اصلیت ان کی دفتری کارروائی کی رازداری میں پوشیدہ ہے۔ افسر کئی درجن فائلوں میں ایک جیسے فرضی اتفاقات درج کر کے کیس تو بند کر دیتے ہیں لیکن وہ بھی خوب جانتے ہیں کہ گلیوں سڑکوں پر موجود حقائق عدالتوںمیں ان کے جھوٹ کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی احمقانہ قسم کی کاغذی تفصیلات کو قومی راز کا درجہ دے کر عوام اور عدالتوں تک سے مخفی رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے کچھ قواعد بھی منظورکرا لیے گئے ہیں جن کے تحت عدالتیں بھی محکمہ جاتی فائلوں کی مکمل تفصیلات اور نوٹس طلب نہیں کر سکتیں۔ اس لیے اگر محکمہ جاتی فائلوں کو مکمل طور پر عدالتوں میں پیش کرنا لازمی قرار دے دیا جائے اور فائل پیش نہ کرنے پر سزا دی جائے تو اس خفیہ گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عوام کو بھی ثبوت مہیا کرنے کے عمل میں شریک کر لیا جائے تو بہت تیزی کے ساتھ معلوم ہو سکتا ہے کہ کہاں کام ہوا اور کہاں نہیں ہوا۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اور عوام کی شمولیت ہی اسے بہتر بنا سکتی ہے۔