19 اکتوبر 2019
تازہ ترین

افغانستان و برطانیہ افغانستان و برطانیہ

(19 جنوری 1924ء کی تحریر)
انگلش مینؔ کی ہرزہ سرائیاں(2)
ہم اپنے بعض مقالات میں اس حقیقت کی چہرہ کشائی کر چکے ہیں کہ آج حکومت برطانیہ افغانستان کے معاملات خارجہ کو اپنے قبضہ میں لے لینے کیلئے بہت بے تاب ہو رہی ہے۔ انگریزوں کو قاتلوں کی حوالگی یا گرفتاری سے کوئی سروکار نہیں، بولشویکوں کی مخالفت سے کوئی واسطہ نہیں، مقصد حقیقی یہ ہے کہ پھر 1919ء سے پہلے کی سی صورت حالات پیدا ہو جائے اور افغانستان تمام دیگر ممالک سے قطع تعلق کر کے صرف حکومت انگریزی ہی کا وابستہ دامن بن جائے۔ انگریزوں کو یہ امید تھی کہ افغانستان قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکے گا اور ہم اس بہانہ سے اس پر فوج کشی کر دیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ افغان مرعوب ہو کر ہماری شرایط تسلیم کر لیں گے لیکن عجب خاں اور اس کے رفقا کی گرفتاری نے انگریزی منصوبوں کا تار و پود بکھیر کے رکھ دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اب حکومت برطانیہ کوئی نیا بہانہ تلاش کرے گی جس کے ماتحت افغانستان کو ڈرایا دھمکایا جا سکے۔
البرٹ ہال میں مسٹر رامزے میکڈانلڈ نے جو تقریر کی اس میں آپ نے افغانستان کا حوالہ دے کر کہاکہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کا موقعہ اس وقت آئیگا جب ہمیں مناسب توسط و توسل کے ذرایع حاصل ہو جائیںگے۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب میں وزیراعظم ہو جائوں گا تو حکومت روس تسلیم کر لی جائیگی اس کے بعد ہم روس کی وساطت سے افغانستان کے ساتھ مابہ النزاع کا تصفیہ کریں گے۔ اس کے علاوہ مسٹر بریلس فورڈ نے نیو لیڈرؔ میں لکھا ہے کہ موجودہ برطانی وزارت افغانستان کے خارجہ معاملات پر اپنا تسلط چاہتی ہے اور اس کا منشا یہ ہے کہ اس ملک سے بولشویکوں کا اثر و اقتدار بالکل اڑا دیا جائے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ برطانیہ کی موجودہ و آیندہ وزارت کا حقیقی مقصد و مدعا صرف یہ ہے کہ افغانستان کو کسی نہ کسی طرح قابو میں لایا جائے تاکہ بولشویک اس کے ساتھاچھے تعلقات پیدا نہ کرے پائیں اور ہندوستان میں حکومت برطانیہ کا اقتدار خطرہ میں نہ پڑنے پائے۔    (جاری ہے)