افغانستان ،انتخابات سے قبل امن کیوں ضروری ہے؟ افغانستان ،انتخابات سے قبل امن کیوں ضروری ہے؟

حالیہ ایام میں افغانستان میں امن کے عمل کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کی نسبت ایک بہترین موقع ہے اور اس اہم موڑ پر ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو نہ کہ اس میں رکاوٹ بنے، لیکن بادیٔ النظر میں صورت حال ویسے نہیں دکھائی دے رہی جیسی توقع کی جارہی ہے۔ امریکا کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا یہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھے گا لیکن ساتھ ساتھ وہ رواں برس ستمبر میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات کی حمایت کرتا ہے ،افغانستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں یہ دو متضاد باتیں ہیں کیوںکہ اگر افغان طالبان کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے سے قبل انتخابات ہوتے ہیں تو یہ ڈرامائی طور پر امن عمل کوسبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالبان افغانستان کی موجودہ حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی اور غیر قانونی گردانتے ہیں تو وہ کیوں کر اس کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کو قبول کر لیں گے حد تو یہ ہے کہ انہوں نے اسی بنیاد پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے ہی سے انکار کر دیاتھا۔
افغان بحران کے حل کے لیے طالبان کے چار مطالبات ہیں جن پر ان کا شدیداصرار ہے امریکا سے براہ راست مذاکرات،غیرملکی افواج کا مکمل انخلا، عبوری حکومت کا قیام اور نئے آئین کی تدوین شامل ہے ۔یہ مطالبات اب سے نہیں بلکہ کئی برس سے ان کی طرف سے کیے جارہے تھے لیکن ان پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی مگر گزشتہ برس کے نصف میں ان معاملات پر پیش رفت کا آغاز ہواجب امریکی صدر نے امریکی فوج کے انخلا کے حوالے سے گرین سگنل دیتے ہوئے زلمے خلیل زاد کو نمائندہ خصوصی برائے افغانستان مقرر کیا ،دوسری طرف طالبان نے عالمی تحفظات دور کرتے ہوئے بہت سارے معاملات میں اپنے موقف کو نرم کیا جس میں خواتین اور شہری حقوق شامل ہیں اور اس کا اعادہ انہوں نے 2016ء کی پگواش کانفرنس اور فروری 2019ء میں ماسکومیں ہونے والی بین الافغان کانفرنس میں بھی کیا اسی طرح افغان طالبان نے عبوری مدت کے بعد ہونے والے انتخابات کی حمایت بھی کی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ملک کو جمہوری بنانے میں رکاوٹ نہیں ہیں ۔
امن کی راہ میں امریکا کی جانب سب سے بڑا مسئلہ غیر ملکی افواج کا انخلا جب کہ طالبان کی جانب سے موجودہ حکومت کی تحلیل اور ایک عبوری حکومت کا قیام ہے جس کے موجودہ صدراشرف غنی سخت مخالف ہیں کیوںکہ ان کا محرک صاف ظاہر ہے کہ وہ اگلے پانچ برس کے لیے اپنے آپ کو ملک کاصدر دیکھ رہے ہیں جب کہ عبوری حکومت کی صورت میں ان کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخابات پر اصرار نے ملک اور بیرون ملک ایک عجیب سی صورتحال پیدا کر دی ہے اور خود حزب مخالف اس معاملہ پر ان کے ساتھ نہیں ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جو امیدوار صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ عبوری حکومت قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد امن کا عمل بہت مشکل ہے اور ایک ہی وقت میں عبوری حکومت اور انتخابات کرانے کا فیصلہ ملک کو ایک مخمصے میں ڈال دے گا۔ 
صدر اشرف غنی نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے اس وقت انکار کردیا جب گزشتہ مہینے ان کی مدت پوری ہوگئی، ان کا کہنا تھا کہ وہ نئے انتخابات تک اپنے عہدہ پر کام کرتے رہیں گے اور اس بارے میں وہ افغان سپریم کورٹ کے فیصلہ کو، جو اپریل میں ان کے حق میں دیا گیا تھا، بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں ۔ 
افغانستان میں انتخابات کرانا کوئی اتنا آسان کام نہیں اگر ہم 2014ء میں ہونے والے آخری صدارتی انتخابات کی بات کریں تو وہ اس وقت ایک عجیب موڑ اختیار کرگئے تھے جب اشرف غنی کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھاجس کے بعد انہوں نے افغان الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔اور عبداللہ عبداللہ نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ اگر ان کی داد رسی نہ کی گئی تو وہ افغانستان میں ایک نئی متوازی حکومت کا اعلان کر دیں گے ۔ ان کے اس اعلان سے ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کے پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دونوں امیدواروں کے درمیان ثالثی کی کوششیں شروع کردیں اور اس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی بھی ملی جب دونوں امیدوار ووٹوں کے آڈٹ پر راضی ہو گئے لیکن بعد میں اس کے طریقہ کار پر اختلاف نے معاملات کو مزید پیچیدہ بنادیاجس کے بعد یوں دکھائی دیتا تھا کہ یہ مسئلہ مزید خراب نہ ہو جائے چنانچہ ایک بار پھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری درمیان میں آگئے اور انہوں نے بجائے انتخابی کمیشن کے معاملات کے سلجھانے کے دونوںامیدواروں میں ڈیل کرا دی جس میں انہوںنے اختیارات کی تقسیم کے ایک فارمولے پر دونوںکو راضی کر لیاجس کے مطابق اشرف غنی ملک کے نئے صدر اور عبداللہ عبد اللہ چیف ایگزیکٹو ہوں گے جوبالحاظ عہدہ وزیر اعظم کے برابر ہو گا۔
قطر میں حالیہ عرصہ میں ہونے والے مذاکرات کے مختلف ادوار کے بعد ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ اگست کے اوائل تک ہی ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی ظاہر ہوسکتی ہے اور مذاکرات کی ناکامی ممکنہ طور پرنئے انتخابات کی نوید سمجھی جائے گی جب کہ کامیابی کی صورت میںعبوری حکومت کے قیام کے امکانات روشن ہیں ۔
(تلخیص وترجمہ:محمد احمد۔۔۔بشکریہ:الجزیرہ)