اچھا اور بُرا ماضی اچھا اور بُرا ماضی

کسی بھی قوم کا ماضی ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں رہتا، بلکہ وقت اور حالات کے تحت برابر بدلتا رہتا ہے۔ کبھی اس میں اضافہ کر کے شاندار بنایا جاتا ہے اور کبھی اس کے کمزور پہلوؤں کو چھپا کر مٹا دیا جاتا ہے۔ قومیں ایک دوسرے کے ماضی کو بطور دشمن اور حریف تسلیم کرتی ہیں اس لیے فتح مند قومیں شکست خوردہ قوموں کے ماضی کو تباہ کر کے اپنے تسلط کو قائم کرتی ہیں جب رومی سلطنت عیسائی ہوئی تو چرچ نے ریاست کی مدد سے رومی کلچر کے اداروں اور روایات کو ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ اس کے مندروں کو جلایا گیا، اس کے دیوی دیوتاؤں کے بتوں کو توڑا گیا، اس کے تہواروں کو مٹانے کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کی جگہ چرچ اور اس کی روایات نے لے لی۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ جب پندرھویں صدی میں رینے ساں کی ابتدا ہوئی تو اس کے دانشوروں نے رومی اور یونانی تہذیب کو جسے چرچ نے ختم کیا تھا۔ دوبارہ سے زندہ کیا اور اس کے فلسفیوں، شاعروں، ادیبوں، مجسمہ تراشوں اور ڈرامہ نگاروں سے راہنمائی حاصل کی اور اس کی روایات اور اداروں کا احیا کیا۔
ماضی کی تشکیل کی ایک دوسری صورت ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں جب تیرھویں صدی میں یہاں جب مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے قدیم ہندوستان کی تہذیب اور ماضی سے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ فیروز شاہ تغلق وہ پہلا حکمران تھا جس نے سنسکرت کی کچھ کتابوں کے ترجمے کرائے اور اشوک کے دور کے دو ستون دہلی میں لا کر نصب کرائے، لیکن مغلوں کے دور میں اکبر کے عہد میں سنسکرت کے کلاسیکل ادب کا فارسی میں ترجمہ ہوا، لیکن ابھی تک ان میں آثار قدیمہ کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں اس لیے ہندوستان کے قدیم ماضی کو پوری طرح سے نہیں اُبھارا گیا۔
قدیم ماضی کی تشکیل کا کام انگریزی دور حکومت میں ہوا۔ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال نے آثار قدیمہ کی دریافت کے بعد اس کے ماضی کی تشکیل کی۔ موریہ سلطنت کے بادشاہ اشوک جس کا نام تاریخ سے غائب ہو چکا تھا۔ کتبات کی مدد سے اس کے دور حکومت کو دریافت کیا۔ سارناتھ میں جو اسٹوپ اس نے گوتم بدھ کی یاد میں بنایا تھا اسے بھی تلاش کیا گیا۔ الورا اور اجنتا کے غاروں کی تصاویر کو بھی دنیا کے سامنے لایا گیا۔
ہسٹوریکل سروے آف انڈیا نے قدیم آثاروں کی کھدائی کی اور 1920ء کی دہائی میں ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی دریافتوں نے وادی سندھ کی تہذیب کو دنیا سے روشناس کرایا اس طرح ہندوستان کے قدیم ماضی نے اس کی تاریخ اور کلچر کو عالمی تہذیبوں کے مقابلے پر لاکھڑا کیا۔ آزادی کے بعد خاص طور سے ہندوستان کے مؤرخوں اور ماہر آثار قدیمہ نے حکومت کی تاریخ کے بہت سے مخفی گوشوں کو تحقیق کے بعد ان کو تاریخی حیثیت دی اور اس کے ماضی کو شاندار بنانے میں حصہ لیا۔ جب قوموں نے اپنے ماضی کو شاندار بنانے کی کوششیں کیں تو اس کے نتیجے میں تاریخ کا غلط استعمال بھی ہوا۔ ماضی کے دور حکومت میں جب ہٹلر کے سامنے قدیم جرمنی کا ماضی پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ جس عہد میں یونان تہذیبی طور پر عروج پر تھا۔ اس عہد میں ہم پتھر کے زمانے میں رہ رہے تھے، لہٰذا اس کو جرمنی کی تاریخ سے نکال دیا جائے، کچھ جرمن ماہرین آثار قدیمہ نے جعلسازی کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جرمنی کا قدیم ماضی بڑا شاندار تھا، لیکن یہ سب ناکام ثابت ہوا۔
جب قوموں میں ماضی کے بارے میں شعور پیدا ہوا تو اس نے ان میں آثار قدیم کی اہمیت کو بڑھایا اور قوموں کے ماضی میں تبدیلیاں ہونا شروع ہوئیں۔ اٹھارھویں صدی میں جب پومپے کا شہر جو آتش فشاں پہاڑ کے لاوے میں گم ہو گیا تھا، دوبارہ سے ظاہر ہوا تو پورا شہر اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اس کے مکانات، دکانیں، سڑکیں اور باغات اپنی اصل شکل میں تھے۔
اس نے رومی تاریخ اور اس کے ماضی کو سمجھنے میں مدد دی۔ اپنی تاریخی عمارتوں اور آثاروں کو ان کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے ان کو محفوظ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، تاکہ ماضی کی یہ نشانیاں اپنی اصلی حالت میں رہ کر اپنے عہد کی نمائندگی کریں۔ اس مقصد کے لیے قومی اور عالمی ادارے ہیں جو ماضی کے ان آثاروں کی مرمت بھی کرتے ہیں اور ان کو محفوظ بھی رکھتے ہیں۔
پاکستان میں قدیم آثاروں کے بارے میں چونکہ کوئی تاریخی شعور نہیں ہے اس لیے عوام میں ان کی اہمیت بھی نہیں ہے۔ لوگوں نے قدیم عمارتوں کے اردگرد مکانات بنا کر ان کی حیثیت کو گھٹا دیا ہے۔ حیدرآباد سندھ میں میروں کے مقبرے گھروں میں گھر کر چھپ گئے ہیں اس کے قلعے کی فصلیں خستہ ہو کر گر رہی ہیں۔ لاہور جو تاریخی عمارات اور باغات کا شہر تھا، اس کی بھی چند تاریخی عمارتوں کے علاوہ دوسری عمارتیں خستگی کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو یہ علم نہیں کہ اس کا ماضی کیا ہے اور وہ کس عہد کے ماضی پر فخر کرے۔ جب تک ذہن تاریخی لحاظ سے اپنی شناخت کا تعین نہیں کرے گا اس وقت تک ہم اپنے ماضی کو بھی نہیں پہچان سکیں گے۔