20 اکتوبر 2019
تازہ ترین

آبادی کا عالمی دن اور پاکستان آبادی کا عالمی دن اور پاکستان

پاکستان سمیت دنیا بھر میںآبادی کا عالمی دن 11جولائی کو منایا جاتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی موجودہ آبادی پونے آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت چین اور انڈیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جن کی مجموعی آبادی پونے تین ارب سے زائد ہے۔ اگرچہ اس وقت دنیا کی آبادی 1.11 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جو 1963 کی 2.19 فیصد سالانہ شرح (زیادہ سے زیادہ) سے تقریباً نصف کم ہے لیکن آبادی کے ماہرین اسے پھر بھی خطرناک شرح قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2050 تک آبادی کی سالانہ شرح موجودہ سطح سے نصف سے زیادہ کم ہو کر 0.5 فیصد ہو جائے گی جو کسی حد تک معقول شرح کہی جا سکے گی۔ مذاہب اور قومیتوں کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو اسلام اور مسلم قومیتوں میں آبادی بڑھنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ چار عشروں میں مسلم آبادی میں 73 فیصد جبکہ عیسائی اور ہندو آبادی میں بالترتیب 35 اور 34فیصد اضافہ ہو گا۔ اس وقت مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کا 25فیصد ہے لیکن دیگر مذاہب کے مقابلے میں دوگنا تیزی سے بڑھنے والی مسلم آبادی 2050ء تک دنیا کی آبادی کا 30فیصد ہو جائے گی۔
دنیا کی آبادی کے حوالے سے ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو نہایت دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ زرعی دور کے آغاز (8000قبل مسیح) پر دنیا کی آبادی صرف 50لاکھ تھی اور اس سے بھی حیران کن بات یہ کہ اس آبادی (50لاکھ) کو ڈبل ہونے میں پورے 8ہزار سال لگ گئے۔ یوں کہہ لیں کہ عیسوی دور کے آغاز پر دنیا کی آبادی صرف ایک کروڑ تھی۔ اس کے بعد دنیا کی آبادی میں قدرے تیز رفتاری سے اضافہ ہونا شروع ہوا لیکن پھر بھی اس ایک کروڑ کے ہندسے کو ایک ارب میں تبدیل ہونے کیلئے 1800 سال لگ گئے۔ صنعتی انقلاب نے آبادی میں اضافے کو تیز تر کر تے ہوئے اگلے130سال میں دنیا کی آبادی دوگنا (دو ارب) کر دی۔ دنیا کی آبادی کو دو سے تین ارب ہونے میں 30سال لگے جبکہ تین سے چار ارب ہونے میں صرف 15سال۔ 70ء کی دہائی سے آبادی کی شرح میں کمی ہونا شروع ہوئی لیکن پھر بھی اگلے 13سال (1987تک) میں آبادی ایک ارب مزید بڑھ کر پانچ ارب ہو گئی۔ اگلے 12سال میں آبادی ایک ارب مزید بڑھنے سے بیسویں صدی کے آخر تک دنیا کی آبادی چھ ارب تک پہنچ گئی۔ بیسویں صدی کے دوران انسانی آبادی میں تقریباً ساڑھے چار ارب افراد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بیسویں صدی کے شروع تک انسانی آبادی صرف ایک ارب پینسٹھ کروڑ تھی۔
آبادی کے حوالے سے پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان کی آبادی 21کروڑ ہو چکی ہے۔ اگرچہ پاکستان کی زیادہ آبادی (تقریباً 60فیصد) اب بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے لیکن دیہاتوں سے شہری علاقوں میں نقل مکانی کرنے کا رجحان پورے جنوبی ایشیا میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی تشویشناک صورتحال دنیا اور خطے کے ممالک سے موازنے سے بآسانی سمجھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے لیکن شرح افزائش کے لحاظ سے دنیا کے پہلے دس بڑے آبادی والے ملکوں میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ آبادی کے حوالے سے دنیا کے پہلے دس بڑے ممالک میں سے صرف نائیجیریا ایسا ملک ہے جس کی سالانہ شرح افزائش ہم سے زیادہ ہے۔ اسی طرح براعظم ایشیا میں صرف افغانستان واحد ملک ہے جس کی شرح افزائش ہم سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی آبادی 1.93 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت 1.11، چین 0.39، روس 0.02، ایران 1.05، بنگلا دیش 1.03، نیپال 0.9، سری لنکا 0.35 جبکہ افغانستان کی شرح افزائش 2.37 فیصد سالانہ ہے۔ افغانستان کے علاوہ جن ملکوں کی شرح افزائش پاکستان سے زیادہ ہے، ان میں زیادہ تر پسماندہ ترین افریقی ممالک اور چند ایک شورش زدہ غریب مسلم ممالک شامل ہیں۔
آبادی اور وسائل میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد کو ایک طرف تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات دستیاب نہیں تو دوسری طرف آبادی کے ایک بڑے حصے کو شدید قسم کی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، آلودگی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ آج اگر ملک کی ایک تہائی کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ آبادی کی زیادتی ہی ہے۔ آج اگر پاکستان کی نصف کے قریب آبادی غذائی قلت کا شکار ہے تو اس کی وجہ بھی آبادی کی زیادتی ہی ہے۔ بچوں کی تعداد میں مناسب وقفہ نہ ہونے اور بار بار کی زچگیوںکی وجہ سے پاکستان میں دوران حمل 51 فیصد عورتیں غذائیت کی کمی سے خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ آج اگر پاکستان میں سوا دو کروڑ بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں تو اس کی بنیادی وجہ بھی آبادی کی زیادتی ہی ہے۔ غربت کا زیادہ تر شکار وہی خاندان ہیں جنہوں نے اپنے کنبے کا سائز وسائل کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھا لیا جبکہ غربت کا شکار گھرانوں کے افراد اور بچے ہی زیادہ تر صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ آبادی میں تیز رفتاری سے ہونے والا اضافہ ہمارے دستیاب وسائل کو محدود کر رہا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہونے والی ترقی سے مستفید ہو کر آبادی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، مسلم، بالخصوص پاکستانی قوم آج بھی مانع حمل طریقہ کار کے استعمال سے متعلق بنیادی تصور کو ہی سمجھنے میں دقت محسوس کر رہی ہے۔ پاکستان میں ابھی تک صرف 40 فیصد کے قریب لوگ مانع حمل طریقہ کار پر عمل پیرا ہوئے ہیں۔
طبی اصطلاح میں جس طرح قبض کو ام الامراض کہاجاتا ہے، بالکل ویسے ہی آبادی کے ماہرین اوور پاپولیشن کو سو طرح کے معاشی و سماجی مسائل کی آماجگاہ قرار دیتے ہیں۔ آبادی پر کنٹرول موجودہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے وزیراعظم صاحب نے اوور پاپولیشن جیسے سنگین ایشو کو ابھی تک نظر انداز ہی کیے رکھا ہے۔ اوور پاپولیشن ان متعدد مسائل کی جڑ ہے جن کے حل کے لیے وہ گزشتہ 10ماہ سے روڈ میپ تشکیل دے رہے ہیں۔ غربت، جہالت، بے روزگاری، کرپشن، ماحولیاتی مسائل، پانی و انرجی کا بحران اور تعلیم وصحت کی ابتر صورتحال سمیت کئی ایک مسائل کافی حد تک آبادی کے بے ہنگم اضافے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کرہ ارض کے حال اور مستقبل پر نگاہ رکھنے والے افراد انسانوں کو دیگر سیاروں پر آباد کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، ہم پہلے سے انسانوں کے بوجھ تلے دبی زمین پر بغیر کسی منصوبہ بندی کے سالانہ 30لاکھ سے زائد نفوس کا اضافہ کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ، ملک و قوم اور دنیا پر رحم کھاتے ہوئے آبادی کو کنٹرول کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں کہ آبادی کی زیادتی کنبے، ملک اور دنیا کے لیے برابر خطرناک ہے۔