10 اپریل 2020
تازہ ترین

عوام کا خوفزدہ مستقبل عوام کا خوفزدہ مستقبل

ہم ایسے بدقسمت لوگ، عوام اور بدقسمت قوم شاذ ہی کوئی ہوگی جس نے لاکھوں انسانوںکی قربانیوں کے بدلے میں ایک ایسا ملک بنایا جس کا دنیا کے نقشے پر پہلے کہیں کوئی وجود نہیں تھا۔ جس میں سرحدیں نہیں تہذیبی اور ثقافتیں تقسیم ہوئی۔ ایک ہی قوم کے لوگوں کو اپنے ہی علاقوں میں ہجرتوں کے عذاب برداشت کرنا پڑے۔ تاریخ میں ایسی کسی ہجرت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ نئے ملک کی آمد پر شکرانے میں سروں نے جگہ جگہ سجدہ گاہیں بنائی تھیں۔
ظاہر ہے جدوجہد، ہجرتوں اور عذابوں میں عوام کے ہمدرد اور ہمنوا، ہم رکاب اور قدم قدم ساتھ چلنے والے ہی آئیڈیلز اور ہیروز ہوتے ہیں۔ انہی زمین زادوں کو امیر اور رہنما بنایا جاتا ہے، ان کے قول و فعل کو مظعل راہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن افسوس، عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک مخصوص طبقے نے اس ملک کو ’’مملکت خداداد‘‘ قرار دے دیا تاکہ نہ کوئی آئیڈیل رہے نہ کوئی رہبر و رہنما، نہ ہی زمین سے کوئی رشتہ۔ اور پھر عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کے دوران میں ’’معجزوں اور کرامتوں‘‘ کی تخلیق و تشکیل ہوئی، زمین کے ساتھ بچا کھچا تعلق بھی ٹوٹ گیا۔
ظاہر ہے اور ہم سب کا ایمان ہے کہ یہ ملک رب ذوالجلال کے حکم اور خدائے کریم کے کرم سے حاصل ہوا تھا ورنہ اس کی تشکیل و تخلیق ممکن نہیں تھی۔ لیکن افسوس نیا ملک تو بنا مگر عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ وہی حکمران، وہی اصول حکمرانی۔ وہی معاشی اور معاشرتی تسلط، وہی طاقت وہی غلبہ۔ وہی وسائل پر قبضہ اور لوٹ مار۔ اور اس کیلئے ریاست، اختیارات، حکومت کی طاقت کا بے دریغ استعمال۔ وہی قوانین اور اس کی محافظ و نگران افسر شاہی۔ اور پھر جہاں کہیں اختلاف ہوا وہاں شراکت اقتدار کی ترغیب۔
چنانچہ حکمران طبقے پیدا ہوئے بلکہ زیادہ مناسب تو یوں بھی ہے کہ مفادات نے نئے رشتے اور تعلق بنائے اور پھر فطری عمل میں ان کی اولادیں بھی سامنے آئیں تو پھرم صاحبو! کیسے عوام اور کیسے زمین زادے؟؟ اور کیسے آئیڈیلز؟؟ تو پھر بنجر خیالی نہ ہو گی تو اور کیا ہوگا؟
ستم بالائے ستم ہم سے نوحہ خوانی اور سینہ کوئی بھی چھین لی گئی ہے، ہمارے پاس آہ و بکا رہی ہے نہ آنکھ میں آنسو، ہماری سسکیاں اور ہچکیاں بھی زندہ درگور کر دی گئی ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں پڑھایا گیا، ہم زندہ قوم ہیں، پائندگی بھی ہمارے لئے مخصوص ہے۔ کڑے اور مشکل وقت آتے رہتے ہیں لیکن ان کا مستقل قیام نہیں ہوتے۔ ویسے بھی ہم تو خدا کی پسندیدہ قوم ہیں، مستقبل ہمارا ہے۔ بس حوصلہ ہارنا ہے نہ گھبرانا ہے۔ یہ پاکستان مملکت خداداد ہے اور اس کا مستقبل ’’ریاست مدینہ‘‘ کے احیاء میں ہے۔ کیا ہوا اگر صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کا ساتھ میسر نہیں، ہمارے شیخ رشید جیسے ’’صادق‘‘ اور جہانگیر ترین جیسے ’’امین‘‘ تو ہیں جن کی صداقت اور امانت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ ویسے بھی صاحبو، کسی بھی آئیڈیا کو عملی شکل دینے کو عزم، ارادے اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عزم اور حوصلے سے ہی ہم نے پاکستان بنایا تھا اور اب نیا پاکستان بھی بنا رہے ہیں۔ اس میں کچھ رکاوٹیں تو ہیں لیکن ان کی پائوں کی ایک ٹھوکر سے زیادہ اہمیت نہیں، جو بھی رستے میں آئے گا کٹ جائے گا۔
یہ آپ نے دیکھا ہے اور ہم نے ثابت بھی کیا ہے وہ جو بڑے بڑے دعویدار تھے، سب کہاں ہیں۔ کوئی لکھپت جیل میں ہے تو کوئی احتساب جیل میں، سب ڈاکو، چور اور لٹیرے تھے۔ ان کی اصل جگہ یہی تھی۔ ان سے کہا تھا آدھے پیسے دے دو باقی تم رکھ لو، سارے جرم معاف ہو جائیں گے لیکن کسی نے ہماری بات نہیں مانی، الٹا سوال کیا گیا کہ ریاست مدینہ میں بھی ایسا ہوتا تھا؟؟ لوٹا ہوا آدھا مال دو اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرو؟؟ ہمیشہ کیلئے صادق اور امین ہو جائو، ہماری طرح۔ مگر ’’ضدی بچے‘‘ مانتے ہی نہیں۔ انہیںکون بتائے کہ بنی گالہ اور راولپنڈی کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، دونوں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ ان کا تعلق سعودی عرب اور پاکستان والا ہے، افغانستان اور پاکستان والا نہیں۔ لیکن یہ ناہنجار ضدی بچے مانتے ہی نہیں الٹا ریاست اور حکومت کو للکارتے ہیں حالانکہ انہیں کئی بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ:
میں نہیں بولدی میرے وچ میرا یار بولدا
پھر بھی ان بیوقوفوں کو میری بات سمجھ نہیں آتی۔ نہیں آتی نہ آئے لیکن میں انہیں چھوڑوں گا نہیں، مجھے اقتدار اور حکومت کی نہیں ریاست اور معیشت کی فکر ہے۔ ان بھوکے ننگوں کی فکر ہے جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی کھانے کو نہیں۔ ابھی تو انہیں کچھ نہیں کہا، میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ میرے لئے قانون کا احترام لازم ہے ورنہ ان کو ایسے بائونسرز ماروں ان کے جبڑے ٹوٹ کر پچ پر آن گریں۔
یہ نئے پاکستان کا احساس تفاخر ہے یا سرپرستی کا زعم؟؟ صرف دشمنی ہی دشمنی ہے، کہیں صلح اور اتفاق رائے کی بات نہیں۔ ریاست اور سیاست کا انجام کیا ہوگا، کوئی پروا نہیں۔ حکمت و دانش تو دور کی بات ہے، عقل و خرد بھی ماتم کر رہی ہے۔ ایسے میں بھلا کون کسے آئیڈیلائز کرے گا؟؟ اس کی رہنمائی کو نقش قدم بنائے گا؟ اور اس کیردعمل میں کونسا نیا پاکستان اور نیا معاشرہ تخلیق ہو گا؟؟ اس ایک سوال سے جڑے بے شمار سوالات ہیں جو عوام کے مستقبل کو خوفزدہ کئے ہوئے ہیں۔ ان کا ریاست سے تعلق آئے روز مجروح ہو رہا ہے۔