10 اپریل 2020
تازہ ترین

عمران کے کارنامے اور مسائل    (2) عمران کے کارنامے اور مسائل (2)

میں نے اپنے پچھلے کالم (جو اسی اخبار میں شائع ہوا) میں وعدہ کیا تھا کہ بہت کچھ کہنے کو رہ گیا ہے، جس کی تکمیل ضروری ہے۔ آج میں وہ وعدہ ایفا کرنے کی کوشش کروں گا۔ تو آئیے اُن باتوں پر ایک اُچٹتی ہوئی ہی سہی، نظر ڈالتے ہیں، اس لیے کہ جو کچھ میں نے گزشتہ کالم میں لکھا اور جو اس وقت لکھ رہا ہوں، وہ تاریخ کا حصّہ بنے گا بلکہ ایک طرح سے بن چکا، لیکن:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 
جو کچھ باقی رہ گیا تھا اُن کا ذکر اب ضروری ہوگیا ہے۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی ایسے کارنامے سرانجام دیے جن پر رشک آتا ہے، نہ جانے کیوں مبارک باد دینے کا دل چاہتا ہے۔ معاشی شعبے میں نہ سہی، امور خارجہ میں تو اُنہوں نے ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں، جو لائق صد تحسین ہیں۔ اُنہوں نے چین، ملائیشیا، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، دورۂ سعودی عرب میں ناصرف شاہ سلمان سے ملاقات ہوئی، بلکہ شاہی خاندان کے کئی ایک اعلیٰ مرتبہ رہنماؤں سے بھی بالمشافہ گفتگو کا شرف حاصل رہا۔ کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان (جو شاہ سلمان کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں) نے پاکستان کا دورہ کیا اور وہ عمران کی فکر انگیزی کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے، اسی موقع پر سادگی سے سرکاری طعام میں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے التجا کی کہ پاکستانی حجاج (جو سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر لمبی چوڑی قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا گھنٹوں انتظار کرتے ہیں) کی سہولت کے لیے پاکستانی ایئرپورٹ پر امیگریشن کائونٹر کھولے جائیں تاکہ وہ بہت سی پریشانیوں سے بچ جائیں۔ سعودی ولی عہد نے مسکراتے ہوئے اُن کی درخواست ناصرف قبول کی، بلکہ دعوت کا شکریہ ادا کیا اور پوری پاکستانی قوم کے دل یہ کہہ کر جیت لیے کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔ وہ وعدہ پورا ہوگیا، اسلام آباد ایئرپورٹ پر خصوصی کائونٹر کھل گئے، سعودی عرب کی امیگریشن ٹیم پہلے حالات کا اندازہ کرچکی تھی اور چند روز پہلے اس کا پاکستانی ایئرپورٹ پر آغاز کردیا گیا۔ خدا خوش رکھے عمران خان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو…
میری دعا تھی کہ عمران خود چند دارالحکومتوں کے دورے کریں، شاید اﷲ نے میری سن لی اور اعلان ہوگیا کہ عمران 22 جولائی کو امریکا کا پانچ روزہ دورہ کرنے والے ہیں، جس کے دوران وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، دو سربراہان مملکت یا سربراہان حکومت جب آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو خوش کلامی بھی ہوتی ہے لیکن بین الاقوامی حالات معاشی ہوں، سیاسی یا امور خارجہ سے متعلق، مذاکرات کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ میں جب یہ سطور لکھنے بیٹھا تو خبر آئی کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے عمران کو روس کے دورے کی دعوت دی ہے، جو اُنہوں نے بصد احترام قبول کرلی۔ سابق سوویت یونین کو افغانستان پر فوج کشی کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا کرنے میں امریکا کا ساتھ پاکستان کے سابق آمر نے دیا۔ بعد میں مشرف کے دور حکومت، بے نظیر اور نواز شریف کے دونوں ادوار میں سابق امریکی صدر جارج بش نے افغانستان کے پہاڑی سلسلوں (جنہیں تورا بورا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) پر بمباری کرکے وہاں دہشت پھیلادی، طالبان (مدارس سے نکلے ہوئے طالب علم تھے) نے افغانستان میں امریکا کا ساتھ دیا۔ شاید اس لیے کہ روس ایک کمیونسٹ ملک تھا اور طالبان امریکا اور نیٹو کمیونزم کے سخت خلاف تھے، بمباری اتنی شدید ہوئی کہ توبہ ہی بھلی…
پھر مشرف، بے نظیر اور نواز شریف کے زمانے میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بے تحاشا بم باری کی گئی جس کی شاید عالمی جنگ میں تو مثال مل سکتی ہے، لیکن شہری علاقوں میں شاید یہ پہلا واقعہ تھا۔ بہرحال اﷲ اﷲ کرکے 2008 میں مشرف دور ختم ہوا، بے نظیر تیسری مرتبہ وزیراعظم نہ بن سکیں، حالات نے پلٹا کھایا اور 2008 میں ناصرف زرداری بلکہ شریف برادران بھی وطن واپس آئے۔ قبل ازیں 2007 میں جب بے نظیر لوٹیں تو کارساز کے قریب بم دھماکے میں زندگی تھی، بچ گئیں، لیکن قریباً 2 ماہ بعد 27 دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر جام شہادت نوش فرمایا۔ 
خیر کچھ تو عمران خان کی اپنی محنت تھی، کچھ قسمت نے بھی مدد کردی، 2018 کے انتخابات میں عمران کی جماعت تحریک انصاف وفاق، خیبرپختون خوا اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، 22 برس کی انتھک محنت ایک دن اُن کے کام آ ہی گئی، وہ وزیراعظم بن گئے، لیکن قریباً دس مہینے بعد اُنہیں معیشت سنبھالنے کا خیال آیا، حفیظ شیخ جو پہلے پیپلز پارٹی کے وزیر تھے، اُنہیں وہ مشیر خزانہ لے کر آئے اور ایک مشہور و معروف چارٹرڈ اکائونٹنٹ شبر زیدی اور رضا باقر (جو مصر میں آئی ایم ایف کے نمائندے تھے) کو بینک دولت پاکستان کا گورنر جیسا اعلیٰ مقام عطا کیا۔ تنقید تو بہت ہوئی، لیکن کون سا ایسا ملک ہے جہاں حزب اختلاف حکومت وقت پر تنقید نہیں کرتی۔ مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس بلا کر عمران کی حکومت گرانے کے لیے 25 جولائی سے تحریک چلائیں یا کچھ بھی کریں، وہ یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ وہ ایک عالم دین، اعلیٰ پائے کے پارلیمنٹرین اور سرحد (کے پی کے) کے سابق وزیراعلیٰ کے صاحبزادے تو ضرور ہیں لیکن والد مرحوم کی چھوٹی سی بھی اچھائی اُن میں نہیں، وہ اپنے والد کی بنائی ہوئی جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ہیں، لیکن یہ کوئی یاد دلادے کہ اُنہوں نے سیکڑوں ایکڑ زمین ہتھیائی ہے، وہ سارے گناہ کب اور کیسے معاف فرمائیں گے۔ کاش وہ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال لیتے۔ اچنبھے کی بات نہیں ہوگی کہ اُن کے خلاف احتسابی کارروائیاں عمل میں آئیں۔ 
مریم نواز بلاول بھٹو کی دعوت پر اُن کے ساتھ لنچ کرنے گئیں لیکن آصف زرداری نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کی کہ وہ نیب کے چکر لگارہے تھے، امریکی صدر سے اپنے اقتدار کے تسلسل کی بھیک مانگ رہے تھے، اُس وقت کی امریکی سفیر پیٹرسن کو زرداری کے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہوا خط پاناما لیکس میں دِکھایا گیا، وہ انکاری تو ضرور ہوں گے، لیکن سچ ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ اگر شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز، بلاول، زرداری وغیرہ کو سزا سنادی گئی اور نواز شریف کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کہاں ہوں گے؟ اُن کا شیرازہ تو بکھر جائے گا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟