24 اگست 2019
تازہ ترین

علاج کوآئینی حق تسلیم کرناضروری ہے علاج کوآئینی حق تسلیم کرناضروری ہے

بیمار ہونا تو لازم ٹھہرا لیکن علاج مشکل سے مشکل تر ہو کر ناممکن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں طویل انتظار کے بعد باری آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی حیثیت سٹوڈنٹ ڈاکٹروں کی تجربہ گاہ کے مینڈکوں اور خرگوشوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں سے ڈیوٹی ڈاکٹر زیادہ تر غائب رہتے ہیں۔ سٹوڈنٹ ڈاکٹر اپنی پڑھائی کے دوران مریض دیکھنا صرف اس لیے گوارا کر لیتے ہیں تا کہ بے آسرا مریضوں پر جو ادویہ چاہیں آزمائیں، بیماروں کی چیخ و پکار سننے کی عادت ڈالیں، مرض کی زیادہ سے زیادہ اقسام اور بنتی بگڑتی صورتوں اور مرحلوں کا مشاہدہ کریں تاکہ پرائیویٹ پریکٹس میں یہ تجربہ کام آئے۔ چند سینئر ڈاکٹر جو وہاں راؤنڈ پر نظر آتے ہیں وہ دراصل اس ہسپتال سے منسلک میڈیکل کالج کے استاد ہوتے ہیں جو اپنے طلبا اور طالبات کو ساتھ لے کر ان کی عملی تربیت کیلئے چلتا پھرتا لیکچر دینے آتے ہیں اور ساتھ میں مریض کی رپورٹ پر کوئی مشورہ لکھ کر اپنے راؤنڈ پر آنے کا ثبوت بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان ہسپتال نما سرکاری تجربہ گاہوں میں کسی کا علاج اتفاق یا سفارش سے ہو جائے تو اس کی قسمت، ورنہ کوئی ڈاکٹر مریض کا علاج کرنے کی خاطر وہاں ڈیوٹی پر نہیں جاتا جہاں تنخواہ اور مراعات اس کی امیدوں سے بہت کم ہوتی ہیں، کام کے اوقات بہت زیادہ اور نگرانی کرنے والا کوئی نہیں۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ آخر ہم نے لاکھوں روپے خرچ اور کئی سال تک رات دن ایک کر کے ڈاکٹری دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے تو نہیں سیکھی، اگر سرکاری ہسپتال میں ہی مریضوں کا تسلی بخش علاج ہونے لگا تو پرائیویٹ ہسپتال یا کلینک میں کون آئے گا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال آنے والے مریض تو وہ بے آسرا لوگ ہیں جنہیں آخر مرنا ہی ہوتا ہے گھر یا سڑک پر نہیں تو ہسپتال میں سہی۔ کس سرکاری ہسپتال میں کتنے ڈاکٹر مقرر ہیں، کس کی کب، کس وارڈ میں ڈیوٹی ہے اس کا ریکارڈ خانہ پری کی حد تک تو لکھ کر لٹکا دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کا علم کسی کو نہیں ہوتا۔ وارڈوں اور آپریشن تھیٹروں میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ایک بیماری کا آپریشن ہوتا ہے تو دو نئی بیماریاں کوڑے کچرے سے لگ جاتی ہیں۔
یہ صورتحال بھی چند بڑے شہروں کے ایسے سرکاری ہسپتالوں کی ہے جن کے نام مشہور ہیں اور جن پر حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور میڈیا کی نظر رہتی ہے حکومت کی جان تو انہی ہسپتالوں کے چلتے رہنے میں اٹکی رہتی ہے۔ ڈاکٹر ذرا موڈ بگڑنے پر ہڑتال کر کے او پی ڈی یا ایمرجنسی تک بند کر دیتے ہیں تو مریض بلبلانے لگتے ہیں اور وزیر مشیر ڈاکٹروں کی خوشامد پر اترآتے ہیں۔ لیکن ملک بھر میں جو ہزاروں بنیادی اور دیہی صحت کے مراکز ہیں، تحصیل، ضلع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر کی سطح کے ہسپتال 
ہیں، ٹی بی ہسپتال، دل کے امراض کے کارڈیالوجی سنٹر، بچوں کے ہسپتال، زچہ بچہ سنٹر، ٹراما سنٹرز، لیبارٹریز اور کئی دوسری طرح کے ہسپتال اور طبی تحقیق کے ادارے ہیں ان میں ریکارڈ کی حد تک تو کئی ہزار ڈاکٹر باقاعدہ ملازمت کرتے اور تنخواہ لیتے ہیں۔ عمارتوں کی دیکھ بھال، آلات، بستروں اور دواؤں کا پورا بجٹ وصول کر لیا جاتا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں اور مراکز کی منظور شدہ ادویہ زیادہ تر نزدیکی دوا فروشوں کے پاس فروخت ہوتی ہیں۔ بہت سے صحت مراکز اور چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں آتے عام طور پر نرسیں، کمپوڈر اور وارڈ بوائے ڈاکٹر بنے علاج کرتے دکھائی دیتے ہیں ان میں سے بھی اکثر یہاں جھوٹ موٹ کی ٹریننگ کے بعد اپنے پرائیویٹ کلینک کھول لیتے ہیں اور سرکاری فرنیچر، بستر اور آلات تک اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ان صحت مراکز اور ہسپتالوں کے ڈیوٹی ڈاکٹر صرف تنخواہ اور مراعات حاصل کرنے کیلئے پوسٹنگ کراتے ہیں جبکہ اصل میں وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دوسرے بڑے شہروں میں پرائیویٹ پریکٹس یا نجی ہسپتالوں میں ملازمتیں کرتے نظر آتے ہیں۔
دوسری طرف نجی ہسپتالوں کے خلاف بھی شکایات کے انبار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان ہسپتالوں میں ملازمت کچھ خاص شرائط پر دستخط کرا کے دی جاتی ہے مثلاً کہ ڈاکٹر ایک ہفتے میں کتنی رقم کے ٹیسٹ تجویز کر کے ہسپتال کی اندرونی لیبارٹری کی آمدنی بڑھائیں گے، کتنے مریضوں کو آبزرویشن کے بہانے داخل کر کے بستر اور پرائیویٹ کمروں کا ہزارہا روپے روز کا کرایہ کمانے میں مدد کریں گے، ادویہ کی مہنگی ترین اقسام تجویز کر کے دوا ساز کمپنیوں اور ہسپتال کی فارمیسی کے منافع میں کتنا اضافہ کریں گے اور کتنی رقم کے ضروری اور غیر ضروری آپریشن تجویز کر کے ہسپتال کے بل بڑھائیں گے۔ جو ڈاکٹر دیے گئے ٹارگٹ کی رقم کما کر نہیں دیتا، اسے ہٹا کر دوسرے کو موقع دیا جاتا ہے کیونکہ امیدواروں کی کمی نہیں۔ جو ڈاکٹر آمدنی کے یہ سارے کھیل خود کھیلنا سیکھ 
جاتے ہیں وہ اپنا کلینک کھول لیتے ہیں۔ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ مہنگی دوائیں تجویز کرنے سے لے کر بلڈ ٹیسٹ، الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے اور آپریشن تک میں تجویز کرنے والے ڈاکٹر کا حصہ ہوتا ہے، چاہے ٹیسٹ اور آپریشن کسی بھی لیبارٹری یا ہسپتال میں ہو، اسے ریفرل یعنی بھجوانے والے کا کمیشن کہا جاتا ہے۔ محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران تو ادویہ ساز کمپنیوں کے نت نئے برانڈز کو کامیاب کرانے اور قیمیتں بڑھانے کے کھیل میں اتنے مصروف ہیں کہ مریضوں کا حال جاننے کی فرصت ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مریض اپنا علاج کرانے کہاں جائیں؟
1973ء کے آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق میں صحت کا ذکر نہیں ہے۔ آئین شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی ضمانت دینے کے بارے میں خاموش ہے۔ صحت سے متعلق کوئی قانون سازی بھی نہیں کی گئی۔ اب تک آئین میں 31 ترامیم کی گئی ہیں لیکن صحت کے حق کو بنیادی حقوق کا حصہ بنانے کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا اور کس نے نہیں کیا، اس بحث میں پڑنے کے بجائے فوری طور پر صحت اور علاج کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دینے کیلئے آئین میں ایک متفقہ ترمیم منظور کی جانی چاہیے اور بغیر وقت ضائع کیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ صحت اور علاج کے نظام کو چلانے کیلئے آئینی قانونی ادارے ہونے چاہئیں۔ ڈاکٹروں کی فیس، ہسپتال کے اخراجات، لیبارٹری کے ٹیسٹ کا معاوضہ اور ادویہ کی قیمتیں مقرر کرنے کا پیمانہ طے ہونا چاہیے۔ غلط علاج، غلط دوا کے استعمال، علاج میں تاخیر یا مجرمانہ غفلت کی صورت میں قانونی کارروائی کا طریق کار وضع ہونا چاہیے۔ زائد المیعاد دوا فروخت کرنے اور استعمال کرانے کی سزا مقرر کی جانی چاہیے۔ اکثر لوگ روتے پیٹتے ہسپتالوں سے نکلتے ہیں اور الزام لگتا ہے کہ غلط دوا دینے سے مریض موت کے منہ میں چلا گیا یا وقت پر آپریشن نہیں ہوا۔ جواب میں ڈاکٹر کہہ دیتے ہیں کہ درست دوا دی گئی تھی یا آپریشن وقت پر ہو گیا تھا لیکن مریض کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ دونوں موقف سامنے آنے کے بعد کوئی طبی عدالت ہونی چاہیے جو تمام حقائق کی روشنی میں مستند فیصلہ کرے۔ اس بات کی نگرانی کی جانی چاہیے کہ کس ہسپتال کے کس وارڈ میں کس ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہے اور کیا وہ موجود ہے؟ دوائیں، بستر، آلات، فرنیچر موجود ہیں یا بیچ دیے گئے۔ ڈاکٹروں کو یہ بات سمجھنا پڑے گی کہ ان کے روپیہ کمانے کے حق کی چھڑی کی نوک کے نیچے مریضوں کی زندگی دبی ہے۔ ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ اگر الزام ثابت ہو جائے کہ ڈاکٹروں کی غیر حاضری، نااہلی، کام چوری یا مالی بددیانتی مریضوں کیلئے موت کا پیغام لائی ہے تو انہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی کی نہیں بلکہ قتل یا اقدام قتل کی سزا دی جا سکے۔