09 اپریل 2020
تازہ ترین

آخر پولیس ہی کیوں…؟ آخر پولیس ہی کیوں…؟

پولیس کے متعلق عوام میں اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔ طرح طرح کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں اور میڈیا کی زینت بھی بنتی ہیں جو پولیس کا منفی امیج اُبھار کر سامنے لاتی ہیں، اس وجہ سے اس پر تنقید بھی خوب ہوتی ہے اور شاید سب سے زیادہ تنقید کے نشتر اسی محکمے پر برستے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پورے محکمے کو ہی موردِ الزام ٹھہرا دیا جائے۔ اچھے بُرے لوگ ہر جگہ، ہر ادارے میں پائے جاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پرکچھ ایسے پولیس افسران کو جانتا ہوں جو انتہائی ایمان داری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ایک مفلس ترین شخص کو ایک اعلیٰ پولیس افسر کے دفتر میں جب میں نے خود پر ہونے والے بااثر ترین افراد کے مظالم کی روداد بیان کرتے ہوئے انتہائی بے بسی میں روتے دیکھا۔ وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ضبط نہ کرسکے۔ پھر ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرتے ہوئے کسی طاقتور کی طاقت کو خاطر میں نہیں لائے اور بے بس شخص کی اس طرح دادرسی کی، ایسا کوئی سگا رشتہ دار بھی شاید نہ کرتا۔ ایسے افراد کی بہت بڑی تعداد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے۔ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کچھ لوگ اپنی پوزیشن کا ناجائز استعمال کرنے کی وجہ سے سب کے لیے بدنامی کا باعث بن جاتے  ہیں، لیکن اس طرح کی کالی بھیڑیں ہر محکمے میں موجود ہوتی ہیں، لیکن اس نفسانفسی کے دور میں بھی ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں، لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم سب سے زیادہ محکمۂ پولیس کو ہی گنہگار بناکر پیش کرتے ہیں۔ 
میں آج تک یہ سمجھ نہ سکا کہ کیا پاکستان کے باقی سرکاری محکموں میں فرشتے ڈیوٹی دیتے ہیں؟ کوئی ایک بھی محکمہ ایسا بتادیں جہاں کرپشن نہیں ہورہی یا انسانوں کی تذلیل نہیں کی جاتی۔ محکمۂ صحت سے لے کر محکمۂ تعلیم جیسے مہذب ترین شعبوں میں موجود ملازمین جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ انتہائی قابل افسوس اور گناہ عظیم ہے۔ اس کے باوجود سارا نزلہ ہمیشہ پولیس پر ہی گرایا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس نے بے شمار شہادتوں کی تاریخ رقم کی ہے، جس کی وجہ سے لاتعداد قیمتی جانیں محفوظ ہیں۔ ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے وطن کے سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں ہمیں کسی بغض کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں دورائے نہیں کہ جرائم کی روک تھام کی ذمے داری پولیس کے بنیادی فرائض کا حصہ ہے اور جرائم پر کنٹرول نہ پانا ان کی فرائض میں غفلت کی نشان دہی کرتا ہے، لیکن کوتاہی کے باعث محکمے کے لیے باعث شرم بننے والے لوگوں کی وجہ سے پولیس کی شہادتوں کو نظرانداز کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ 
جہاں ہم چند لٹیروں کی وجہ سے لٹیروں کا ذکر کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہمیں اپنے شہیدوںکا بھی ذکر ضرور کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ سب سے اہم بات ہم نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ معاشرے کی اس تنزلی میں ہر فرد کا کردار انتہائی اہم ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا ہم اپنا کردار ٹھیک طریقے سے ادا کررہے ہیں؟ پنجابی کے ایک صوفی شاعر نے پنجابی اشعار میں انتہائی اہم بات سمجھائی ہے۔ (ترجمہ) ’’برے انسان کو میں ڈھونڈنے کے لیے نکلا، مجھے بُرا ملا نہ کوئی، لیکن جب میں نے اپنے اندر دیکھا تو مجھے اپنے سے زیادہ گنہگار کوئی نہیں ملا۔‘‘ یعنی اگر ہم اپنے اندر دیکھ لیں تو ہمیں کوئی بُرا نظر نہیں آئے گا، کیونکہ ضمیر 
سے زیادہ سچا کوئی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر ہم سب اپنا کردار ایمان داری سے ادا کرنا شروع کردیں تو معاشرے میں موجود برائیاں خود بخود ختم ہونا شروع ہوجائیں گی۔ پاکستان کو آئیڈیل معاشرہ بنانے کے لیے ہمیں دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ یقین کریں جب ہر فرد اپنا محاسبہ خود شروع کرے گا تو ہمارا شمار دنیا کی مہذب ترین اقوام میں ہونے لگے گا۔