16 نومبر 2018
تازہ ترین

6ستمبر۔ دفاع وطن کی لازوال داستان 6ستمبر۔ دفاع وطن کی لازوال داستان

1965 کی جنگ ایک طرف قوم کے سپوتوں کی شجاعت اور جرأت کی مثالی داستان ہے اور دوسری جانب پاکستانیوں کی حب الوطنی اور یک جہتی کی نادر مثال بھی ہے۔ 65ء کی جنگ  میں پوری قوم نے مسلح افواج کے ساتھ مل کر قومی وقار اور وطن عزیز کا دفاع کیا۔ اس دن شہیدوں کے لہو نے پاک سرزمین کا دفاع کیا، جسے قوم ہر سال ایک نئے جذبے اور احترام سے مناتی ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے اس جنگ میں قربانیوں کی ایک نئی اور منفرد روایت قائم کی، جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اس جنگ  کی تفصیل تاریخ کی متعدد کتابوں میں محفوظ ہے۔ ہم یہاں چند سطور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے لکھ رہے ہیں۔  6 ستمبر کے تاریخی دن کے ساتھ انمٹ یادیں اور نقوش وابستہ ہیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹے اور کم وسائل والے ملک پر اس سے کئی گنا بڑے دشمن کی جارحیت تھی، لیکن دوسری طرف قدرت کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی آزمائش بھی تھی، جس پر الحمدللہ ہم پورے اترے۔  یہ جنگ 6ستمبر کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر تک جاری رہی۔ اس کی ابتدا بھارت کی طرف سے کی گئی، جسے پاکستان نے اللہ کے فضل اور مسلح افواج کی جنگی حکمت عملی اور عوام کی جدوجہد سے منطقی انجام تک پہنچایا۔ دنیا انگشت بدنداں تھی کہ اپنے سے دس گنا بڑے ملک کو پاکستان  نے کس طرح ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ اس کا تکبر خاک میں ملادیا۔ ہم ہر سال اس تاریخی دن کی یاد مناتے ہیں، تاکہ قومی یکجہتی کے اس بے مثال مظاہرے، شجاعت اور عظمتوں کے روشن کارناموں کی یاد تازہ رہ سکے۔
بھارت نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں خاموشی سے چوروں کی طرح حملہ کیا۔ عوام میں اس حملے نے زبردست جوش جہاد پیدا کردیا۔ بھارتی فوج نے لاہور پر تین اطراف سے حملہ کیا۔ امرتسر، شکر گڑھ اور قصور کے اطراف سے حملے کا مقصد لاہور اور سیالکوٹ کا رابطہ باقی ملک سے کاٹ کر ان پر قبضہ کرنا تھا۔ بھارتی افواج کو ایک ایک زائد یونیفارم ساتھ لانے کا بھی کہا گیا تھا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا سامنا کس قوم سے ہے۔ پاکستانی افواج نے حملے کا بھرپور جواب دیا اور بھارتی فوج کو پسپا کردیا۔ دشمن بھاگ کھڑا ہوا۔ پاکستانی علاقے آزاد کرالیے گئے۔ بھارت کے مذموم ارادے خاک میں ملادیے۔ 
اس جنگ کا ایک محاذ ایسا تھا جسے  پاکستان اور دنیا کی جنگی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ چونڈہ سے مغرب کی طرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر  ایک گائوں ’’راں‘‘ واقع ہے، جہاں بھارتی افواج نے قبضہ کر رکھا تھا۔ بھارتی ٹینک یہاں سے چونڈہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوتے مگر راستے میں ہی بھٹک جاتے۔ اس کے شمال مغرب کی طرف موضع الہڑ میں بھی جہاں سے چونڈہ سیالکوٹ ریلوے لائن گزرتی ہے، گھمسان کا رن پڑا۔ پاکستان کے پاس فوج کم تھی، لیکن پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے ریلوے لائن کی آڑ لی اور دشمن پر گولیاں برساتے رہے۔ اس گائوں کے لوگ جو اس تاریخی معرکے کے عینی شاہد ہیں، بتاتے ہیں کہ پاک فوج کے دستے اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن وہ شیروں کی طرح دھاڑتے اور دشمن کے فوجیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگادیتے۔ چھ سو ٹینک کے حملے اور چونڈہ پر بھارتی فوج کے  قبضہ کو روکنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا، اسے بھی دنیا کبھی نہیں بھول سکے گی۔ ہر طرف بارود کی بو، دھواں اور ٹینکوں کی گونج تھی۔ چوںکہ یہ حملہ رات کی تاریکی میں ہوا تھا، جب سرحدی علاقوں کے عوام سورہے تھے، اس لیے سویلین کی بڑی تعداد شہید ہوگئی۔ چاروہ سیکٹر سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی ٹینکوں نے سیدھا چونڈہ کی طرف رخ کیا۔ راستے میں چوبارہ، پھلورہ اور گڈگور کے مواضعات  میں پاکستانی فوج کے جوانوں  نے جام شہادت پی کر بھارتی حملے کو پسپا کرنے کی کوشش کی، لیکن اتنی بڑی تعداد میں ٹینکوں اور پیادہ فوج کو روکنے کے لیے اس سے بڑے حملے کی ضرورت تھی۔ پھلورہ سے چاروہ تک سڑک کے دونوں طرف شہدا کی قبریں اس جنگ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے اپنی جانیں وطن کی حفاظت کے لیے دی ہیں۔ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے  ہر سال پاکستانی وہاں جمع ہوتے ہیں۔ 
اس جنگ میں چونڈہ کے محاذ کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ بھارت کے اس قدر بڑے حملے کو روکنے کے لیے جو تدبیر اختیار کی گئی، وہ انوکھی اور ناقابل یقین ہے۔ اس محاذ پر لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خاں آئے اور انہوں  نے پاک فوج کے جوانوں سے  وطن کی حفاظت کے لیے ایک جذباتی خطاب کیا اور فوجی جوانوں میں سے کچھ کو الگ کیا، جن کے لہو نے ناصرف اس حملے کو پسپا کیا بلکہ دنیا بھر میں پاک فوج کے وقار کو بھی بلند کیا۔ ان فوجی جوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی  ٹینکوں کا راستہ روکا اور بے شمار ٹینک فوجیوں سمیت تباہ کیے۔ ایک بھارتی ٹینک پر چھ فوجی اور سازوسامان  تھا جسے ایک پاکستانی فوجی جوان اس کے نیچے لیٹ کر اڑا دیتا اور خود بھی شہید ہوجاتا۔ ان مناظر کو فلمایا گیا اور جب یہ مناظر بیرون ملک سنیما گھروں میں دکھائے جاتے تو کمزور دل فلم بین سنیماہالوں سے چیختے ہوئے بھاگ جاتے۔ آفرین ہے ان مائوں پر جنہوں نے ایسے حوصلہ مند اور شیر دل بیٹوں کو جنم دیا۔ ان  پرجتنا بھی فخر کیا جائے، کم ہے۔  
دوسرا محاذ لاہور کا تھا جہاں میجر عزیز بھٹی جیسے بہادر ایک نئی تاریخ رقم کررہے تھے۔ انہوں نے تین دنوں تک بغیر کچھ کھائے پیے وطن کی حفاظت کی اور بی آر بی نہر دشمنوں کو پار نہیں کرنے دی۔ 10 ستمبر کو اس بہادر سپوت نے جام  شہادت نوش کیا اور زندہ جاوید ہوا۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے ہمارے ان شہدا کا نام زندہ رہے گا۔ اس جنگ میں بھارت  کے ساتھ پاکستان کے ان تمام دشمنوں کے لیے ایک  پیغام بھی تھا  کہ وہ جس قوم سے ٹکرا رہے ہیں، وہ کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ اس جنگ میں قوم میں پائے جانے والے جذبے کو دیکھ کر یہ کہا گیا کہ اس قوم کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس ملک  کی حفاظت  اللہ رب العزت اور سرکار دو عالم حضور اکرمﷺ نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس کی حفاظت پر ایسے مجاہدوں کا انتخاب بھی وہیں سے کیا جاتا ہے۔ 
پاکستان میں ہر سال یوم دفاع پوری آن اور شان سے منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ قائداعظمؒ اور اقبالؒ کے مزارات پر گارڈز کی تبدیلی اور ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ملک و قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں  کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔