21 ستمبر 2018
تازہ ترین

22 ویں وزیر اعظم 22 ویں وزیر اعظم

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے مد مقابل سابق خادم اعلی پنجاب کو واضح شکست دے کر مملکت خداداد پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم بن گئے انہوں نے دعوئوں کے باوجود اپوزیشن کے اتحادی امیدوار کو ’’نروس نائنٹی‘‘ پر بولڈ کر دیا یعنی شہباز شریف ووٹوں کی سینچری بھی مکمل نہیں کر سکے کیونکہ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے انہیں ووٹ نہیں دئیے حالانکہ ارکان پیپلز پارٹی کو ایک سے زیادہ شخصیات آخری وقت تک مناتی رہیں لیکن کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی تاہم عمران خان نے کامیابی کے بعد بھی اپنے روائتی انداز میں ایوان سے خطاب کیا اسی طرح اپوزیشن نے روائیتی احتجاج اور ہنگامہ آرائی بھی کی ۔اور جواب شکوہ تقریر میں شہباز شریف بھی خوب گرجے برسے ، ان کا  بھی استقبال پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے شور شرابے سے کیا پھر بھی شہباز شریف اپنے جوش جذبات میں بہت کچھ کہہ گئے لیکن سیاسی پنڈت شیخ رشید کی ’’بلورانی ‘‘اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری ایوان سے مخاطب ہوئے تو خاموشی چھا گئی جبکہ حقیقت میں وہ ابھی میدان سیاست میں نومولود  ہی نہیں پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ملک بھر میں ہی نہیں ،ایوان میں بھی دونوں جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے بعد ان کی باری آتی ہے پھر بھی دونوں جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے بعد ان کی باری آتی ہے پھر بھی بلاول بھٹو زرداری کا خطاب اس کم عمری میں بھی ددنوں ’’سکہ بند ‘‘  لیڈروں اور سیاسی سربراہوں کے مقابلے میں متوازن اور غیر متنازعہ رہا حالانکہ وہ سب کچھ کہتے رہے جو کچھ انہیں اپوزیشن میں بیٹھ کر کہنا تھا ان کے الفاظ اور انداز ایسے  تھے ایک سے زیادہ مرتبہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے اراکان اسمبلی کو بھی ڈیسک بجا کر داد  دینی پڑی تاہم شہباز شریف ایک صحافتی سوال پر اشارہ کر گئے کہ جب میچ فکس ہو تو سینچری مکمل نہیں ہوا کرتی لیکن اصل بات یہ ہے کہ ’’ایمپائر ‘‘سے مل کر کھیلنے والوں کو پہلی بار ’’فکس میچ ‘‘کھیلنا پڑا  بقول عمران خان شریف برادران ہمیشہ اپنی مرضی کے مطابق ایمپائر کی نگرانی میں کھیلنے کے عادی ہیں پنجاب کو مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ قرار دیا جاتا تھا ان کی قیادت بھی مطمئن تھی کہ ماضی کی طرح اگر مرکز میں اکثریت  نہ ملی تو وہ ’’پنجاب ‘‘ میں بیٹھ کر اپنے مقاصد پورے کرتے رہیں گے لیکن موجودہ حالات اور انتخابی نتائج نے ان کے خواب چکنا چور کر دئیے اس لئے فکس میچ کا طعنہ ان کا حق بنتا ہے یہی وجہ تھی کہ خدشات میں قبل از وقت مسلم لیگ ن نے خلائی مخلوق اور جیپ سے خوفزدگی کا نعرہ لگا دیا تھا اس بیانیہ نے اس قدر زور پکڑا کہ ’’جیپ ‘‘کو مجبورا گہری کھائی میں دھکا دے دیا گیا ’’آر ۔ٹی ۔ایس ‘‘نظام کی سست روی ،پولنگ ایجنٹس کی بے دخلی اور نتائج کی تاخیر نے ایسے ابہام پید اکئے کہ حکومت بننے سے پہلے اپوزیشن متحد ہو گئی اسی طرح اکثریتی پارٹی نے ایوان میں اکثریت پارٹی نے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے اپنی دشمن پارٹیوں سے بھی پارلیمانی روایات کے مطابق کچھ دو کچھ لو کاکو سودا کرلیا لیکن سیاسی بصیرت رکھنے والے حکومتی اتحاد اور متحدہ اپوزیشن دونوں کو غیر فطری قرار دے رہے ہیں اور فطرت کے خلاف ہر شے مثبت نہیں ‘منفی نتائج کا باعث بنتی ہے پہلا مظاہرہ پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو ووٹ نہ دے کر دکھا یا ان کا موقف ہے کہ وہ اصولوں کی سیاست کرتے ہیں اس لئے شہباز شریف کو ووٹ دے کر بے اصولی نہیں کر سکتے تھے ‘ملک و ملت اور جمہوریت کی خاطر جب بھی ضرورت محسوس ہوئی ان کی پارٹی ساتھ کھڑی ہو گی اس وقت ان کے ’’ووٹ ‘‘نہ دینے سے کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں ہوا ‘یہی نہیں ہم نے سپیکر کے لئے خورشید شاہ کا وو ٹ پارلیمانی انداز میں مانگا تھا اگر مسلم لیگ ن ووٹ نہ بھی دیتی تب بھی ہم برا نہیں مانتے ‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کو زندگی میں پہلی مرتبہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے اس وقت وزارت عظمی کی پیشکش کی تھی جب عمران خان صرف ایک آل راونڈر پاکستانی کھلاڑی تھے اور یوسف صلاح الدین کی ذمہ داری لگی تھی کہ وہ انہیں غیر جماعتی الیکشن میں حصہ لینے  کے لئے رضا مند کر یں ‘بچپن کے دوست اور کالج فیلو صلاح الدین انہیں سمجھا بجھا کر بھاٹی گیٹ لاہور سے تاریخی موچی دروازہ گراونڈ تک جلسے میں تو لے آئے لیکن ان سے الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کرا  سکے دوران تقریر عمران خان کے کانوں تک اپنی پیار بھری گالیوں سے دھمکیاں بھی دیتے رہے پھر بھی عمران خان نے کانپتی ٹانگوں اور تھرتھراتے ہونٹوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے کی بجائے تقریر ختم کرنے کو مقدم سمجھا تھا۔اس وقت انہوں نے نہ ورلڈ کپ جیتا تھا اور نہ ہی شوکت خانم ہسپتال بنایا تھا ، یہ وہی غیر جماعتی الیکشن تھا جس میں ہاکی اور کرکٹ کے اسٹارز سرفراز نواز و چودھری اختر رسول منتخب ہوئے تھے اس الیکشن میں صدر ضیاء الحق کی خواہش تھی کہ سیاسی پارٹیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے ادب و ثقافت اور کھیل سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی پذئرائی کرکے انہیں مد مقابل کھڑا کر دیا جائے اس الیکشن میں بہت سے کھلاڑیوں اور فنکاروں نے قسمت آزمائی لیکن کچھ بن نہ سکا ۔ممتا ز اداکار محمد قوی خان نے اداکار جمیل فخری اور محمد زبیر کی سرمایہ کاری سے لیاقت بلوچ اور افسر رضا قزلباش کے مد مقابل الیکشن لڑا لیکن انہیں افسر رضا قزلباش رضامند کرنے کے باوجود اپنا امیدوارنہ  بنا سکیں اور سولہ ہزار ووٹ حاصل کرنے کے باوجود قومی خان شکست کھا گئے اگر وہ افسر رضا قزلباش یا ایم پی اے فضل حق سے اتحاد کر لیتے تو بآسانی لیاقت بلوچ کو ہرا کر پاکستانی تاریخ میں پہلے منتخب اداکار قومی اسمبلی بن جاتے ‘بات عمران خان کے حوالے سے شروع ہو ئی اور کہاں سے کہاں نکل گئی عمران خان کو دوسری پیشکش بھی آمرانہ سوچ کے دور مشرف  میں ہوئی تھی اسی غلط فہمی میں عمران صاحب نے ریفرنڈیم میں پرویز مشرف کا کھلم کھلا ساتھ دیا تھا لیکن بات نہیں بن سکی یہ ہم اور آپ سب جانتے ہیں اب عمران خان پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم بن گئے ہیں یہ نہ جنرل ضیاء الحق کا دور ہے اور نہ  ہی پرویز مشرف کا لیکن ان پر خلائی مخلوق اور پس پردہ طاقت کا الزام ضرور ہے یہ کیسا اتفاق ہے کہ برسوں بعد جنرل ضیاء الحق کی برسی 17اگست پر عمران خان منتخب وزیر اعظم بنے ہیں یقینا آج جنرل صاحب کی روح بھی عمران خان کے یو ٹرن کی قائل ہو گئی ہوگی ۔
ابھی 22ویں وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار کی ابتدا ء ہو ئی ہے وہ چاہے جتنی بھی سادگی اختیار کریں سسٹم کے تحت وہ اپنے کھلاڑیوں سے دور ہو جائیں گے کیونکہ ایوان اقتدار کی یہی روایات ہیں تاہم یاد رکھنا ہو گا جس غیر جماعتی الیکشن میں حصہ نہ لے کر محمد خان جونیجو کو وزارت عظمی ملی تھی ان کو بھی سادگی کے نام پر  چھوٹی گاڑیوں ’’استعمال کرنے کی سزا میں کچھ اور بہانہ بنا کر اقتدار سے رخصت کر دیا گیا تھا اس وقت دور آمریت ہر گز نہیں ‘لیکن ’’باقیات‘‘ہی نہیں آمرانہ سوچ بھی موجود ہے اگر ہاتھ ہلکا نہ رکھا تو معاملہ گڑ بڑ ہو جائے گا فی الحال چھوٹی کابینہ سے ’’کڑا احتساب ‘‘فوکس کریں اگر لوٹی دولت دنوں میں واپس آگئی تو سو دنوں کے لئے سہولیات بھی بآسانی مل جائیں گی ورنہ خاتون اول بشری بی بی کی بات پلے باندھ لیں ’’آج خوش نہیں ڈری ہوئی ہوں حکمرانی یقینا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اس میں پرائے تو راتوں رات اپنے بن جاتے ہیں لیکن اپنے ناراض ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتے ،غیروں نے نہیں اپنے کھلاڑیوں کی نگاہوں نے  بھی حلف برداری کی تقریب میں شیخ رشید احمد اور علیم خان جیسوں کو ڈھونڈا ہے اسی طرح ملکی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری کا بائیکاٹ کیا ہے جو کسی بھی طرح نیک شگون نہیں ۔
نروس نائنٹی کا شکار شہباز شریف ہوئے لیکن چیخ و پکار قائد ایوان کی بھی کم نہ تھی ایسے میں نومولود بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دنوں کو آڑے ہاتھوں لیا ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اب پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں انہیںاپوزیشن کی جذباتی انداز چھوڑ کر نئے پاکستان میں نیا انداز اپنانا چاہئے کیونکہ وہ اب قائد ایوان کی حیثیت سے ’’گدھوں اور زندہ لاشوں کے بھی وزیر اعظم ہیں اس لئے ہم پار لیمانی طریقے  سے انہیں 50ہزار رہائش گاہوں اور ایک کروڑ ملازمتوں کا وعدہ ضرور یاد کرائیں گے لیکن حقیقت میں عمران خان نروس تھے وہ جذبات میں بہت کچھ نہیں کہہ سکے اور اسکا تذکرہ شاہ محمود قریشی کو زبر دستی کرنا پڑا اسی طرح حلف برداری کی دہرائی اور صدر مملکت سے ہاتھ تک ملانا بھول گئے یہ سب کچھ نروس ہونے کا ثبوت ہے اس طرح تو اچانک وزیر اعظم بننے والے راجہ پرویز نے بھی نہیں تھا ۔۔بھول چوک معاف ‘‘اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ’’لیکن آئندہ دنوں میں عمران خان محتاط نہ ہوئے تو انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔