یہ بات بھٹو صاحب تک پہنچی تو بہت خوش ہوئے اور کہا، سورن سنگھ بہت سیاسی گرگا ہے تم نے اسے کلین بولڈ کر دیا، اب میں نے انہیںساری بات سنا دی تو خوب ہنسے۔
5 جولائی 1977ء یعنی عام انتخابات کے بعد سے جنرل ضیاء الحق کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے تک کے سیاسی حالات پر ڈاکٹر غلام حسین نے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ چونکہ وہ بھٹو صاحب کے بااعتماد ساتھی اور پارٹی کے ایک بڑے عہدیدار تھے اس لئے وہ بہت سے نازک لمحات اور معاملات کے عینی شاہد ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس وقت انہوں نے یہ سب کچھ لکھتے ہوئے ایک Impartla سیاسی دانشور کے طور پر تصویر کا وہی رخ دکھایا ہے جو اس وقت کا حقیقی منظرنامہ واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بھٹو صاحب کے عشق اور پارٹی سے وابستگی اور محبت کے باعث حقائق کو مسخ نہیں کیا مگر ان سب باتوں کا حقیقی اور صحیح لطف تو براہ راست کتاب کے مطالعہ سے ہی لیا جا سکتا ہے، تاہم میری تمنا، خواہش اور کوشش ہے کہ ان سطور میںآپ کو دیگ کا ایک دانہ ضرور چکھوائوں۔
5 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق نے جب مارشل لاء لگا دیا تو وہ حفاظت میں لئے گئے سیاسی رہنمائوں سے باقاعدگی سے ملاقات کرتے تھے، ان ملاقاتوں کے پیچھے یقیناً ان کے مخصوص مقاصد تھے اور وہ کسی بڑے ٹاسک کیلئے اور براہ راست حقائق سے آگاہی کیلئے یہ سب کچھ کر رہے تھے۔ پارٹی اور بھٹو صاحب پر یقینا ابتلاء کا وقت تھا اور ایسے میں بھٹو صاحب کے نائبین اور معاونین کی سوچ، طرز عمل اور رویہ کیا تھا اس تناظر میں ڈاکٹر غلام حسین لکھتے ہیں (مگر بخدا میرا یہاں اس واقعے کو نقل کرنے کا مقصد کسی کی توہین یا تضحیک نہیں) واقعہ ملاحظہ کیجئے:
یہ جیل کا قصہ ہے۔ ایک روز ضیاء الحق بھٹو صاحب سے ملنے آیا، ہم میں سے کوئی بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا، میرے ساتھیوں کو بلادیں۔ ہم سب آ کر بیٹھ گئے، سب سے پہلے شیخ محمد رشید بیٹھے  تھے، دوسرے نمبر پر میں تھا پھر ممتاز بھٹو، ٹکا خان، پیرزادہ اور کھر بیٹھے تھے۔ بھٹو نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولنا شروع کیا، میں نےفوج کیلئے اتنا کچھ کیا، انہیں مقدموں سے بچایا، قید سے رہائی دلائی فوج کا مورال بلند کیا، کیا اس دن کے لئے؟؟ ضیاء نے پھر سر سر کی گردان شروع کر دی، سر نوے دن کی تو بات ہے، سر خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔ کوئی مسئلہ ہو تو آپ حکم کریں سر! سر نوے دن کے بعد پھر آپ ہی ہوں گے۔ بھٹو صاحب بولے میرا مسئلہ میری ذات نہیں، میرا ملک ہے۔ میرے ساتھی سامنے بیٹھے ہیں ان سے پوچھ لیں ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ضیا سب سے پہلے شیخ رشید سے مخاطب ہوا۔ وہ کہنے لگے، میری بیوی کو پرنسپل کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے، میری تھری ناٹ تھری کی بندوق اٹھا کر لے گئے ہیں، مجھے…!!!
شیخ صاحب کی باتوں پر ضیاء کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی، اس نے بھٹو کی طرف دیکھا، غصے کے مارے بھٹو صاحب کا رنگ متغیر ہو گیا۔ اب میری باری تھی۔ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا Nothing۔ میرے بعد باقی ساتھیوں نے بھی یہی جواب دیا۔ ضیاء کے جانے کے بعد بھٹو صاحب نے شیخ رشید سے کہا، شیخ صاحب! ڈاکٹر آپ سے آدھی عمر کا ہے اس کا نفرت بھرا جواب ضیاء کو کبھی نہیں بھولے گا اور آپ اپنی بندوق کا رونا رو رہے تھے‘‘۔
حرف آخر یہ ہے کہ ہماری تلخ سیاسی تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر غلام حسین کی یہ کتاب بجا طور پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس کی اشاعت کا اہتمام نوجوان سیاسی دانشور فرخ سہیل گوئندی کی علمی، فکری اور کتاب دوستی کے فروغ کیلئے عملی کوششوں کا مظہر ہے۔ ایک اشاعتی ادارے کا یہ قول، اللہ شوق دے تو کتابیں پڑا کیجئے، دوہراتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔

 

" /> Jehan Pakistan
22 ستمبر 2018
تازہ ترین

1970ء کا عشرہ، سیاست کا عشرہ 1970ء کا عشرہ، سیاست کا عشرہ

یوں تو قوموں کی تاریخ میں ایک لمحہ بھی غیر اہم نہیں ہوتا لیکن میں اگر اپنی 71 سالہ تاریخ پہ نظر ڈالوں تو مجھے اس سارے عرصہ میں 1970ء والی دہائی سب سے اہم اور نمایاں نظر آتی ہے، یہی وہ عرصہ حیات ہے جو اب تک کی ہماری سیاسی، معاشرتی، معاشی زندگی کے خد و خال، نشیب و فراز اور روز و شب کی بنیاد و نمود کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس دہائی کا آغاز پاکستان میں پہلے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے عام انتخابات سے ہوا۔ اس سے اگلے برس جب یہ ملک ابھی صرف چوبیس سال کا تھا، دو لخت ہو گیا تاہم اگلا برس 1973ء برے اور مخدوش حالات میں سرزمین بے آئین کو ایک متفقہ جمہوری پارلیمانی آئین دے گیا۔ 1974ء میں پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یوں پاکستان عالم اسلام ہی نہیں دنیا بھر میں مرکز نگاہ بن گیا۔ اس کے دو برس بعد 1977ء میں پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت نے عام انتخابات منعقد کرائے مگر یہ متنازعہ انتخابات جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت نہ ہو سکے۔ ان پر دھاندلی کا الزام لگا اور پھر پاکستان کی تاریخ کی ایک بڑی احتجاجی تحریک چلی، جس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاء الحق نے جمہوری نظام کو چلتا کر کے پاکستان میں طویل ترین مارشل لاء لگا دیا۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں کئی اور اہم اور بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں سے سب سے بڑا اور اہم واقعہ پاکستان کو پہلا متفقہ جمہوری آئین دینے والے سیاسی رہنما، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا دینا ہے، جسے عدالتی قتل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
سطور بالا میں 1970ء کی دہائی کے حوالے سے جو ’’تعارفی کتھا‘‘ میں نے آپ کی نذر کی ہے اس کی وجہ اور سبب ممتاز سیاستدان، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین کی اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’میری داستانِ جدوجہد‘‘ بنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق ضلع جہلم سے ہے، پیپلزپارٹی سے وابستگی اور ذوالفقار علی بھٹو سے عشق رہا، اس لئے 1970ء میں عام انتخابات میں انہی کا علم لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر قومی سیاست اور امور مملکت چلاتے ہوئے اپنے ذاتی کردار کے اعلیٰ و ارفع نقش مرتب کئے۔ اگرچہ ایک متحرک سیاسی و سماجی رہنما کے طور پر ان کی زندگی نصف صدی سے بھی زائد عرصہ پر محیط ہے تاہم کتاب مذکور میں زیادہ دلچسپ اور معلوماتی مواد 1970ء کی دہائی کے تناظرمیں ہی ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر غلام حسین کی یہ تصنیف ان کی یادداشتوں اور سوانح عمری پر مشتمل ہے اس لئے کتاب میں بیان کئے گئے واقعات، قصوں اور کہانیوں کا مرکزی کردار ڈاکٹر غلام حسین کی ذات اور سرگرمیاں ہی ہیں تاہم ایک صاحب مطالعہ، سیاسی دانشور کے طور پر کتاب لکھتے ہوئے انہوں نے اسے صرف اپنی ذات، اپنے حلقہ احباب، اپنی سیاست اور اپنی کامیابیوں و ناکامیوں تک ہی محدود رکھ کر قلم بند نہیں کیا بلکہ انہوں نے قومی سیاست، خطے کی سیاست اور سیاست کی بساط کے عالمی مہروں کی چشم دید کہانیوں کا بھی پردہ فاش اور راز طشت از بام کئے ہیں۔ اسی تناظر میں عقیل عباس جعفری کی ایک تحقیقی رپورٹ کو ڈاکٹر غلام حسین نے یوں رقم کیا ہے:
’’یہ 8 جولائی 1971ء کی بات ہے جب صدر امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری مسنجر پاکستان کے دورہ پر آئے۔ اس دورے کے دوران اعلان کیاگیا کہ مسٹر ہنری طبیعت خراب ہونے کے باعث نتھیا گلی چلے گئے ہیں۔ اگلے روز انہیں پیرس کیلئے روانہ ہونا تھا مگر بتایا گیا کہ طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے نتھیا گلی قیام میںتوسیع کر دی گئی ہے مگر حقیقت یہ نہ تھی۔ جس وقت یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ ہنری کسنجر نتھیا گلی میں آرام کر رہے ہیں، اس وقت وہ عوامی جمہوریہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چین کے وزیراعظم چو این لائی اور دیگر چینی حکام سے اہم ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ان کے اس دورے سے امریکہ میں بھی فقط دو افراد، صدر نکسن (تب) اور وزیر خارجہ راجرز ولیم واقف تھے جبکہ پاکستان میں اس دورے سے صدر پاکستان جنرل محمد یحییٰ خاں، امریکہ میں پاکستان کے سفیر آغا ہلالی اور سیکرٹری خارجہ سلطان محمد خاں و کچھ دیگر اعلیٰ حکام آگاہ تھے۔ ہنری کسنجر نے 9 سے 11 جولائی 1971ء تک انچاس گھنٹے چین میں گزارے۔ اس دورے پر 15 جولائی 1971ء تک پردہ پڑا رہا۔‘‘
 متذکرہ بالا خفیہ مشن کے تحت ہونے والے اس رابطے اورملاقات نے چین امریکہ تعلقات کی راہیں ہموار کیں۔ پاکستان کی معاونت سے تعلقات کی بنیاد بننے والے اس دورے کو اس وقت دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیااور امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے بعدازاں صدر پاکستان جنرل محمد یحییٰ کو شکریہ کا تحسین آمیز خط بھی تحریر کیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جب بھٹو صاحب کو اقتدار ملا تو ان کے سامنے کئی چیلنجز تھے جن میں سے ایک جنگی قیدیوں کی بھارت سے واپسی اور دوسرا بھارت کے زیر قبضہ علاقے واپس لینا تھا۔ اس مقصد کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کے شہر شملہ میں مذاکرات ہوئے۔ یہ ایک بہت ہی گھمبیر اور الجھا ہوا مسئلہ تھا جس کے باعث دونوںاطراف میں بہت سنجیدگی اور ٹینشن کا ماحول تھا۔ یوں سمجھیں کہ سب کچھ دائو پر لگا ہوا تھا مگر ایسے ماحول میں بھی ڈاکٹر غلام حسین اپنی روایتی بذلہ سنجی اور برجستگی کا اظہار کر کے بھارت کے مہا گرو، وزیر خارجہ سورن سنگھ کی بولتی بند کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا بیان کردہ یہ قصے ملاحظہ کیجئے، ہمارا وفد28 جون 1972ء کو شملہ بھارت پہنچا۔ اس وقت ہمارے 93 ہزار جنگی قیدی اور پانچ ہزار مربع میل علاقہ ہندوستانی قبضے میں تھا۔ 28 جون سے 2 جولائی تک مذاکرات کے کئی بے نتیجہ دور ہوئے، مذاکرات کی ناکامی کا خطرہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ اندرا گاندھی کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ بہت فعال تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ڈپلومیسی میں انہیں ہرانا آسان نہیں۔ پنجابی ہونے کے ناتے میری ان سے گپ شپ ہونے لگی تھی، کئی مرتبہ بات ہنسی مذاق تک جان پہنچتی۔ آخری مرحلے میں مسز اندرا گاندھی اور بھٹو صاحب کے ون آن ون مذاکرات ہو رہے تھے، ہم باہر منتظر تھے کہ دیکھیں کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اسی اثنا میں میری سورن سنگھ سے ملاقات ہوئی تو ان کے چہرے پر تنائو کے آثار دیکھے جا سکتے تھے۔ ایسے میں انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پنجابی میں کہا ’’ویکھو کی کٹا کٹی ہوندا اے، ڈاکٹر صاحب؟‘‘ ظاہر ہے کہ پنجابی محاورے کے مطابق اس کا مطلب تھاکہ دیکھیں کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ’’سردار جی، یہ تو آپ کا کیس ہے، ہمارا تو’’نر‘‘ ہے۔ بات مذاق میں آئی گئی ہو گئی، ہمارے دوستوں نے میرے اس برجستہ جملے پر زبردست قہقہہ لگایا:
"your wit is very sharp" dr sb---!
یہ بات بھٹو صاحب تک پہنچی تو بہت خوش ہوئے اور کہا، سورن سنگھ بہت سیاسی گرگا ہے تم نے اسے کلین بولڈ کر دیا، اب میں نے انہیںساری بات سنا دی تو خوب ہنسے۔
5 جولائی 1977ء یعنی عام انتخابات کے بعد سے جنرل ضیاء الحق کے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے تک کے سیاسی حالات پر ڈاکٹر غلام حسین نے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ چونکہ وہ بھٹو صاحب کے بااعتماد ساتھی اور پارٹی کے ایک بڑے عہدیدار تھے اس لئے وہ بہت سے نازک لمحات اور معاملات کے عینی شاہد ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس وقت انہوں نے یہ سب کچھ لکھتے ہوئے ایک Impartla سیاسی دانشور کے طور پر تصویر کا وہی رخ دکھایا ہے جو اس وقت کا حقیقی منظرنامہ واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بھٹو صاحب کے عشق اور پارٹی سے وابستگی اور محبت کے باعث حقائق کو مسخ نہیں کیا مگر ان سب باتوں کا حقیقی اور صحیح لطف تو براہ راست کتاب کے مطالعہ سے ہی لیا جا سکتا ہے، تاہم میری تمنا، خواہش اور کوشش ہے کہ ان سطور میںآپ کو دیگ کا ایک دانہ ضرور چکھوائوں۔
5 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق نے جب مارشل لاء لگا دیا تو وہ حفاظت میں لئے گئے سیاسی رہنمائوں سے باقاعدگی سے ملاقات کرتے تھے، ان ملاقاتوں کے پیچھے یقیناً ان کے مخصوص مقاصد تھے اور وہ کسی بڑے ٹاسک کیلئے اور براہ راست حقائق سے آگاہی کیلئے یہ سب کچھ کر رہے تھے۔ پارٹی اور بھٹو صاحب پر یقینا ابتلاء کا وقت تھا اور ایسے میں بھٹو صاحب کے نائبین اور معاونین کی سوچ، طرز عمل اور رویہ کیا تھا اس تناظر میں ڈاکٹر غلام حسین لکھتے ہیں (مگر بخدا میرا یہاں اس واقعے کو نقل کرنے کا مقصد کسی کی توہین یا تضحیک نہیں) واقعہ ملاحظہ کیجئے:
یہ جیل کا قصہ ہے۔ ایک روز ضیاء الحق بھٹو صاحب سے ملنے آیا، ہم میں سے کوئی بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا، میرے ساتھیوں کو بلادیں۔ ہم سب آ کر بیٹھ گئے، سب سے پہلے شیخ محمد رشید بیٹھے  تھے، دوسرے نمبر پر میں تھا پھر ممتاز بھٹو، ٹکا خان، پیرزادہ اور کھر بیٹھے تھے۔ بھٹو نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولنا شروع کیا، میں نےفوج کیلئے اتنا کچھ کیا، انہیں مقدموں سے بچایا، قید سے رہائی دلائی فوج کا مورال بلند کیا، کیا اس دن کے لئے؟؟ ضیاء نے پھر سر سر کی گردان شروع کر دی، سر نوے دن کی تو بات ہے، سر خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔ کوئی مسئلہ ہو تو آپ حکم کریں سر! سر نوے دن کے بعد پھر آپ ہی ہوں گے۔ بھٹو صاحب بولے میرا مسئلہ میری ذات نہیں، میرا ملک ہے۔ میرے ساتھی سامنے بیٹھے ہیں ان سے پوچھ لیں ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ضیا سب سے پہلے شیخ رشید سے مخاطب ہوا۔ وہ کہنے لگے، میری بیوی کو پرنسپل کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے، میری تھری ناٹ تھری کی بندوق اٹھا کر لے گئے ہیں، مجھے…!!!
شیخ صاحب کی باتوں پر ضیاء کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی، اس نے بھٹو کی طرف دیکھا، غصے کے مارے بھٹو صاحب کا رنگ متغیر ہو گیا۔ اب میری باری تھی۔ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا Nothing۔ میرے بعد باقی ساتھیوں نے بھی یہی جواب دیا۔ ضیاء کے جانے کے بعد بھٹو صاحب نے شیخ رشید سے کہا، شیخ صاحب! ڈاکٹر آپ سے آدھی عمر کا ہے اس کا نفرت بھرا جواب ضیاء کو کبھی نہیں بھولے گا اور آپ اپنی بندوق کا رونا رو رہے تھے‘‘۔
حرف آخر یہ ہے کہ ہماری تلخ سیاسی تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر غلام حسین کی یہ کتاب بجا طور پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس کی اشاعت کا اہتمام نوجوان سیاسی دانشور فرخ سہیل گوئندی کی علمی، فکری اور کتاب دوستی کے فروغ کیلئے عملی کوششوں کا مظہر ہے۔ ایک اشاعتی ادارے کا یہ قول، اللہ شوق دے تو کتابیں پڑا کیجئے، دوہراتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔