26 اپریل 2019
تازہ ترین

11فروری۔ ایران کا قومی دن! 11فروری۔ ایران کا قومی دن!

راقم کی پشاور میں موجود ایرانی قونصلر جنرل محمد باقر بیگی سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے جو نفیس انسان ہونے کے ساتھ پاک ایران بہترین تعلقات کے بھی حامی ہیں، ان کی انتھک کاوشوں سے ایران اور پاکستان خصوصاًصوبہ خیبر پختونخوا کے تعلقات میں خاصی بہتری آئی ہے۔ امسال انہوںنے اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن کے چھ ارکان کو ایران جانے کی دعوت دی، تاکہ 11فروری کو انقلاب ایران کا40 واں قومی دن وہاں منائیں۔ اس طرح راقم (صدر اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن) 5 فروری کو اپنے ارکان جنرل سیکریٹری عابد اختر حسن، عالمگیر آفریدی، وسیم شاہد، روشن خٹک، شمیم شاہد وغیرہ کے ہمراہ ایران کے دورے پر آئے اور ایران کا قومی دن وہاں منایا۔
11فروری، (22 بہمن) کو اسلامی انقلاب ایران کا 40 واں قومی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور ایران میں اعتماد کا رشتہ موجود ہے، حالات کی گرمی سردی کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے مگر پھر بھی دونوں اہم نوعیت کے محل وقوع کی بدولت ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر مجبور ہیں۔ 1979 میں انقلاب ایران کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران پر متعدد سخت پابندیاں بھی لگیں، اس کے علاوہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کے سبب بھی اسے عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، ایرانی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا مگر پھر بھی ایران نے عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایران کمزور معیشت کے باوجود عالمی طاقتوں خصوصاً اسرائیل کے لیے دردسر بنارہا۔ ایرانی انقلاب نے یہاں صدیوں سے قائم بادشاہی نظام کا بوریا بسترگول کردیا۔ اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ خطے میں سعودی عرب اور ایران امریکی مفادات کے محور ومراکز تھے۔ 
ایران میں پہلی تبدیلی اُس وقت دیکھنے میں آئی جب 1979 میں عوامی انقلاب کے ذریعے امام خمینی نے شاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا اور رضا شاہ پہلوی کو جلاوطن ہونا پڑا۔ امام خمینی کا یوں اقتدار میں آجانا کوئی اچانک نہیں تھا بلکہ اس کے لیے سالہا سال تک فضا تیار کی گئی تھی، خمینی اور ان کے رفقاء نے طویل عرصہ تک اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے عوام میں تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کی، اس دوران امام خمینی کو پندرہ سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی۔ عوام بھی بادشاہی نظام سے تنگ تھے، اس لیے اکثریت نے خمینی کی آواز پر لبیک کہا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران سخت گیر رویے پر نظرثانی کررہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اس کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران اپنا حلقہ اثر وسیع کرنا چاہتا ہے۔ ایران اور مسلمان ممالک کے حوالے سے عالمی طاقتیں ہمیشہ کوشش میں رہیں کہ انہیں متحد نہ ہونے دیا جائے۔ ترکی، ایران اور پاکستان نے اسلامی ممالک میں اتحاد کے لیے ریجنل کوآپریشن ڈیولپمنٹ تنظیم بنانے کا پلان بنایا، اسے تباہ کردیا گیا۔ اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا، مسلمان ممالک متحد نہ ہوسکے۔ 
آج فلسطین میں مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ باخبر حلقے متفق ہیں کہ ایران اس وقت ایٹمی طاقت بن چکا اور اس کا علم یورپ امریکا کو بھی ہے مگر اس کے باوجود بھی عالمی طاقتیں اس سے بہتر تعلقات کی خواہاں ہیں۔ ایران میں تبدیلی کی لہر کی بات کی جائے تو امام خمینی کا انقلاب مذہبی تھا سیاسی نہیں۔ اب ایران آہستہ آہستہ خود کو بدل رہا ہے، موجودہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرسکے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ اب وہ مغربی دنیا سے تعاون کرے۔ بلاشبہ ایرانی لیڈرز اور عوام ملک کے ساتھ مخلص ہیں۔ ایرانی قوم نے پابندیوں کا سامنا کیا، مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ایران کے لیڈر بے داغ ہیں، خمینی کوئی جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے۔ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد بھی کام کرکے گزر بسر کررہے ہیں مگر اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کی نسلیں تک پُرآسائش زندگی گزارتی ہیں۔ یہاں حکمران ملک و قوم کو خوب لوٹ کر واپس جاتے ہیں۔ 
پاکستان کی خواہش ہے کہ ایران، سعودی عرب آمنے سامنے کھڑے نہ ہوں۔ گزشتہ سال ایرانی صدر حسن روحانی کا دورۂ پاکستان دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے صحت، تجارت، معیشت سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی چھ یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی بات بھی کی تھی۔ 
دونوں برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے ایک دوسرے سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کی سرحد کو دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کی منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان اور ایران اس خطے کی اہم قوتیں ہیں، دونوں ملک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مددکرسکتے ہیں، خصوصاً ایران کے پاس توانائی وافر ہے جب کہ پاکستان کو اس کی قلت کا سامنا ہے، پاکستان ایران سے گیس اور تیل لے کر توانائی کی قلت پر قابو پاسکتا ہے، سٹرٹیجک ایشوز پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ ایران کے بھارت اور افغان حکومتوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، افغانستان میں قیام امن اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کے لیے بھی ایران اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایرانی معیشت دنیا کے لیے کھل رہی ہے، یوں دیکھا جائے تو آنے والے وقت میں ایران اس خطے میںمعاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ پاکستان کو اس معاملے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں جو سست روی چلی آرہی تھی، اب وہ ختم ہورہی ہے۔  اس لیے ایران کو بھی اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے اقتصادی تعلقات میں زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ پاکستان اس سے تیل بھی خریدے۔ اس باعث ایران سے تیل کی بلوچستان میں ہونے والی سمگلنگ بھی رک جائے گی اور دیگر ممالک سے پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے پر آنے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ 
پاکستان کو گیس پائپ لائن منصوبے کو ترجیحی طور پر مکمل کرنا چاہیے، تاکہ پاکستان کو توانائی کے جس بدترین بحران کا سامنا ہے، اس سے نکل سکے۔ ایران برادر ہمسایہ ملک، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے پاکستان کا انتہائی اہم دوست ہے، دونوں ممالک کے مابین کئی جہتیں یکساں ہیں، باہمی سطح پر مزید بہتر مستقبل اور عوامی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ایران نے سب سے پہلے وطن عزیز کو تسلیم کیا اور 1965 میں پاک بھارت جنگ میں طیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے ہوائی اڈے پاکستان کی تحویل میں دے دیے تھے۔ دوسری طرف افغانستان دنیا بھر میں واحد ملک تھا، جس نے پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنائے جانے کی مخالفت کی تھی اور وہ اکثر اوقات اب بھی پاکستان کے خلاف نہایت زہریلے بیانات دیتا رہتا ہے۔