19 دسمبر 2018
تازہ ترین

10 کی روٹی، 15 کا نان ۔۔۔ 10 کی روٹی، 15 کا نان ۔۔۔

دکھ ہمارے جو دیکھنا چاہو
چشم دل کو لہو لہو کر لو
(اویس الحسن)
حکومت پر ’’نادان دوستوں‘‘ کا قبضہ ہے، جنہیں یہ خبر ہی نہیں ہے کہ انہیں کس سمت جانا ہے۔ قوم کی باری تو بعد میں آئے گی۔ عظیم فارسی شاعر، تصوف سے بھرپور ’’بیدل‘‘ نے کہا تھا کہ تمہاری غیرت اور خودداری نشانے پر ہے، تم اس وقت سے ڈرو جب اسے کہیں خواجہ سراؤں کے حوالے نہ کر دیا جائے۔
حبیب جالب بہت یاد آئے:
بیس روپے من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
گوہر، سہگل، آدم جی
بنے ہیں برلا اور ٹاٹا
دل چاہتا ہے کہ اس کلام میں جالب سے پیشگی معذرت کر کے تحریف کروں۔ نئے سیٹھوں کے نام لکھوں اور صدر ایوب زندہ باد کی جگہ عمران خان زندہ باد لکھوں مگر پھر وہی مرحلہ درپیش ہے، ایڈیٹنگ کا خوف ہے۔ اب ویسے بھی سیٹھوں کیخلاف لکھا ہی نہیں جا سکے گا۔
ملک کے دشمن کہلاتے ہیں
جب ہم کرتے ہیں فریاد
’’عمران خان‘‘ زندہ باد
’’عمران خان‘‘ زندہ باد
آج ایک سینئر سیاستدان سے بات ہو رہی تھی، انتہائی درد دل رکھنے والے ہیں۔ بہت افسردہ اور دکھی تھے، کہنے لگے جب بھی کوئی حکومت آتی ہے تو اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ آٹے (روٹی)، تیل، دودھ اور دال کی قیمتیں نہ بڑھنے دے، غریب آدمی کی لائف لائن نہ ٹوٹنے دے۔ ریاست مدینہ میں تو خلیفہ وقت اپنی کمر پر آٹے کی بوریاں رکھ کر ضرورت مندوں کے گھر پہنچاتا ہے، غلام بوری اٹھانے کا کہتا ہے تو آگے سے جوا ب آتا ہے، کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے۔
آج نام ریاست مدینہ کا لے رہے ہو دوسری جانب غریبوں سے روٹی چھین رہے ہو، کیا دو رنگی ہے؟ شاعر نے کہا تھا کہ:
تو کی جانے یار امیرا
روٹی بندا کھا جاندی اے
انہیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہو رہا، یہ غریبوں کے کیوں دشمن بن گئے ہیں۔ ہر حکومت نے تندور کی گیس کے نرخوں کو نہیں چھیڑا۔ کمرشل اور صنعتی کنکشنوں پر پابندی تھی، تندور کے کنکشن پھر بھی کھلے رہے۔ جو نیا ڈیٹا آیا ہے اس کے مطابق تندوروں کی پورے ملک میں کھپت 4 ایم ایم سی ایف ڈی بھی نہیں ہے۔ یہ ہماری گیس کی اپنی پیداوار کا اعشاریہ 4فیصد بنتا ہے۔ جس نے گیس کے نرخ بڑھائے ہیں، یہ نابغہ روزگار سمری تیار کی ہے اسے تو وزارت اور نوکری دونوں سے فارغ کر دینا چاہیے۔ اتنی بڑی حماقت پر تو گردن زنی بنتی ہے۔ کسی کلرک کی نہیں، بڑے لوگوں کی گردن چاہیے۔ شعور سے عاری یہ فیصلے کون کرا رہا ہے، حکومت کا اپنا ویژن کیا گھاس چرنے گیا ہوا ہے؟ وہی افسر جو پہلے حکومت کر رہے تھے اب بھی کر رہے ہیں۔ ارباب شہزاد کو چیف سیکرٹری کس نے لگایا تھا۔ فواد حسن فواد کی مہربانی سے، آج بھی وہ تمام افسر کیوں راندہ درگاہ ہیں جو فواد حسن فواد نے راندہ درگاہ کیے تھے۔ آج وہ لوگ پہلے سے بدترین حالات میں ہیں۔ پھر کیا تبدیلی آئی ہے؟ حالانکہ فارمولہ تو یہ ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، یہاں دشمنوں کے دوست لگائے جا رہے ہیں، پھر تبدیلی نہیں، تباہی ہی آنی تھی وہ آ رہی ہے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کے والیم اور علاقے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے جو ’’خبریں‘‘ باہر آ رہی ہیں وہ قطعاً خوش کن نہیں۔ سب شریک اقتدار ’’وار لارڈز‘‘ والا کردار ادا کر رہے 
ہیں۔ وہی پرانے حکمرانوں والی روش ہے بلکہ صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔ چلیں وہاں مرکزی اتھارٹی تو تھی، چاہے وہ مشرف تھا یا زرداری، نوازشریف تھا یا شہباز شریف، فائنل اتھارٹی تو تھی۔ آج جوتوں میں دال بٹ رہی ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کی تبدیلی انتہائی مایوس کن ہی نہیں، افسوسناک ہے۔ ان کا قصور کیا ہے، یہ حقیقی معنوں میں ’’تبدیلی‘‘ لانے چلے تھے۔ یہ سمجھ رہے تھے کہ حکومت واقعی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے تو ابھی پہلا قدم اٹھایا ہی تھا، پورے پاکستان اور بطور خاص پنجاب کے ’’معزز‘‘ اراکین اسمبلی اور پنجابی افسران ’’پریشان‘‘ ہو گئے۔ محمود الرشید کے بیٹے کیخلاف ایف آئی آر درج کرنا آئی جی کا جرم بن گیا۔ بات میرٹ کی کرتے ہیں، نعرہ نئے پاکستان ہے، عمل کیا ہے؟
یہ 2000ء کی بات ہے۔ میں نے نعت کے بے مثال شاعر مظفر وارثی کا انٹرویو کیا۔ میں نے ان سے علامہ طاہر القادری کے بارے میں سوال کیا کہ آپ ان کے ہم رکاب رہے ہیں، مصطفوی انقلاب کا ہراول دستہ تھے۔ پھر کیا ہوا؟
مظفر وارثی گویا ہوئے، کہنے لگے کہ طاہرالقادری لانا تو خمینی کا انقلاب چاہتے ہیں مگر ان کے طور طریقے رضا شاہ پہلوی جیسے ہیں۔ وہ تو اپنی گاڑی میں کسی سے پانی اور جوس تک شیئر نہیں کرتے۔
آج کچھ ایسے ہی حالات تحریک انصاف اور عمران خان کے ہیں۔ اب تو خاتون اول نے بھی کہہ دیا ہے کہ عمران خان تو اپنے کپڑے بھی نہیں خریدتے، وہ بھی دوست دیتے ہیں۔ اب تو کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جہازوں والوں سے لے کر چندے والوں تک اب سب ’’ریکوری‘‘ پر لگے ہوئے ہیں۔ ترین، قریشی، علیم، زلفی، خٹک، چودھری، میاں سب کے اپنے اپنے گروپ ہیں۔ اس کے بعد اتحادی ہیں ۔ کراچی کے سیٹھوں کے الگ سے نمائندے ہیں، سب اپنے اپنے ’’انقلاب‘‘ اور ’’تبدیلیوں‘‘ کی حفاظت کر رہے ہیں۔
ایسے میں غریب آدمی کیلئے کون سوچے گا، غریب آدمی تو ترجیح ہی نہیں ہے۔
اے رزق تیری زلف گرہ گیر کے قیدی
پہنچے ہی نہیں گھر میں کبھی شام سے پہلے
(کاشف سجاد، بوریوالہ)
اب غریبوں کے دکھوں کا مداو کون کرے گا ؟ بزدار کے اپنے کریڈٹ پر کیا ہے، (ن) لیگ میں رہے، آباء بھی وہیں تھے، ایک پانی کی سکیم اور بجلی کا کھمبا نہیں لگوا سکے یا لگوانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ یہ چیز عمران خان کیلئے کریڈٹ ہے۔ اب اس سوچ پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
پوری تحریک انصاف میں آپ زلفی بخاری سے لے کر جہانگیر ترین، شیری مزاری سے لے کر فیصل واوڈا تک کوئی تو ایک غریب آدمی کا بتا دیں، چلیں مڈل کلاس کا ہی بتا دیں۔ پھر انہیں غریبوں کے دکھ کون بتائے گا۔ یہ تو افسران بھی ایلیٹ کلاس سے لے کر آ رہے ہیں یا ان کے نامزد کردہ ہیں۔ وفاداری کا ’’بانڈ‘‘ بھر کر آتے ہیں۔ پھر تو ایسے ہی نابغہ روزگار آئیڈیے آئیں گے، ایسی ہی غریب کش پالیسیاں آئیں گی۔ قرض تو غریبوں کی رگوں سے کشید کر کے ادا کیا جائے گا، اشرافیہ کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر غریبوں کے ساتھ ’’ہاتھ‘‘ ہو گیا ہے۔ چلیں کوئی بات نہیں، ہمارے ساتھ کونسا پہلی بار ہاتھ ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیں لڑنا سکھایا ہے، اس کی ہمت دی ہے۔ توفیق اسی کے دم سے ہے، اس کے ہاں دیر ہے اندھیر تو نہیں ہے۔ وہ ’’مہربانی‘‘ کرے، ہمارا امتحان ختم کر کے ہمیں سکون دے۔ اچھا، نیک، درد دل رکھنے والا حکمران دے۔ ہمارے اور ہمارے بچوں کے مقدر بدل دے، نصیب اچھے کرے۔ روٹی دینا اللہ کا کام ہے، انسان تو روٹی چھین سکتا ہے سو وہ چھین رہا ہے۔ فرعون بھی لنگر بند ہونے پر گرا تھا، اگر عمران کو نہیں پتا تو اسے خاتون اول ہی بتا دیں۔ غریبوں سے روٹی چھیننے والوں سے اقتدار چھن جاتا ہے ۔ اقتدار میرے رب کی مہربانی ہے جو عزتوں کا مالک ہے، ذلت بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ غریبوں کی آہ سے بچنے میں ہی حکمت ہے۔ مگر کیا یہ ضروری ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ میں آئے؟ حکومت خواب غفلت سے جاگے، عام آدمی کے لیے عذاب نہ بنے۔
میں صابروں کے قبیلے سے ہوں مگر میرا رب
وہ محتسب ہے کہ سارے حساب رکھتا ہے
(افتخار عارف)