15 نومبر 2019
تازہ ترین

پرامیدی کا فقدان پرامیدی کا فقدان

ترکی اور امریکا بتدریج تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دونوں نیٹو اتحادیوں کے کئی امور پر اختلافات ہیں جن میں تین سرفہرست ہیں۔ ان میں ایک شورش زدہ شام میں ترکی امریکا مفادات ہیں جوکہ شام کے بعض علاقوں میں ہم آہنگ جبکہ کچھ مقامات پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسے کہ دونوں ملک ایک حد تک متفق ہیں کہ شام میں مستقبل میں بشار الاسد کا کردار نہیں ہونا چاہیے، لیکن امریکا سمجھتا ہے کہ فی الوقت بشار الاسد کاکوئی متبادل نہیں ؛ جبکہ کرد مسئلے پر اختلافات کے باوجود ترکی دمشق کیساتھ تعاون نہ کرنے پر زور دیتا ہے۔ ترکی پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے کرد جنگجوؤں کو فوجی تربیت اور امریکی ہتھیار وں سے لیس کرنے کیخلاف ہے، کیونکہ ترکی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ 
دوسرا مسئلہ مشرقی بحیرہ روم ہے۔ امریکی کمپنیوں نوبل انرجی اور ایکسون موبائل نے قبرص کے ساحل کے قریب تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت کئے ہیں؛ ان ذخائر کو تلاش کرنے کی 9.30ارب ڈالر کی ڈیل پر جمہوریہ قبرص نے دستخط کئے تھے۔ ترکی عالمی برادری پر زور دیتا رہا ہے کہ قبرص کے قدرتی وسائل میں ترک قبرص کو بھی حصہ ملنا چاہیے، نیکوسیا حکومت کویہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ترک قبرص کے حقوق کو نظر انداز کرے ۔دوسری جانب ترک قبرص ایک ترکش کمپنی کو قبرص کے ساحل اور خصوصی ترکش اکنامک زون سے تیل اور گیس تلاش کرنے کا کہہ چکا ہے۔ اس علاقے کے امور جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کے علم میں بھی لائے گئے تھے ۔ اس تلاش کا کام ایک ترکش جہاز جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے حفاظت ترکش نیوی کر رہی ہے۔
امریکا اور ترکی کے مابین تیسرا سنگین مسئلہ دفاعی نظام ایس 400اور ایف 35طیاروں کا ہے۔ انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 کی خریداری کا واشنگٹن سخت مخالف ہے؛اسے خدشہ ہے کہ ایس 400سسٹم امریکی طیارے کی کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ترکی یہ کہہ کر اس خدشے کو مسترد کر چکا ہے کہ یہ سسٹم شام کی حمیمیم ایئر بیس پر نصب ہے، جوکہ اسرائیلی فضائی حدود سے پرواز کرنے والے ایف 35طیاروں کی کمزوریوں پکڑ سکتا ہے۔ انقرہ نے اس مسئلے پر بات چیت کیلئے ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی ،جس پر پنٹاگون مختلف اعتراضات اٹھا چکا ہے۔ اس کے باوجود صدر طیب اردگان نے ہم منصب ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں ٹیکنیکل کمیٹی پر قائل کرنے کی کوشش کی۔ اگر ٹیکنیکل بن بھی گئی تو اس میں پنٹاگون کے ماہرین ہی شامل ہوں گے جوکہ کمیٹی کے تجویز مسترد کر چکے ہیں۔ یوں ، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ترکش ماہرین امریکیوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔جس وقت دونوں ممالک کے دارالحکومت کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہے تھے، امریکی وزیر دفاع پیٹرک شاناہان نے ترکش ہم منصب حلوصی آکار کو خط بھیجا جس میں وہی پرانی بات دہرائی کہ ایس 400کی خریداری کا فیصلہ پابندیوں کو پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ 
اس دوران امریکا ترکی کو ایف 35لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا پروگرام معطل اور ایریزونا میں تربیت حاصل کرنیوالے 42ترکش پائلٹ واپس بھیج سکتا ہے۔ممکن ہے کہ ترکش ایئرفورس کے عملے کے امریکا داخلے پر بھی پابندی لگا دی جائے۔ ترک پائلٹوں کے دوسرے گروپ کو تربیت دینے کا پروگرام پہلے ہی منسوخ ہو چکا ہے جوکہ ایف 35طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کرنے گئے تھے۔ ترکی کی دفاعی صنعت کے تاجروں اور سرکاری افسروں کی 12جون کی گول میز کانفرنس میں ترکی کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ۔ اس کا مطلب ہے کہ ترکش دفاعی صنعت جوطیاروں کے 937پرزے تیار کرتی ہے، اسے مزید نئے آرڈر نہیں ملیں گے۔ ان میں سے بعض کمپنیوں کے پاس واحد مینوفیکچر ز کے حقوق تھے۔ دریں اثنا امریکی کانگریس ترکی پر نئی پابندیاں لگا سکتی ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوان امریکی حریفوں سے نمٹنے کے قانون کے تحت روس کے حوالے سے ترکی پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اسی قانون کے تحت 12پابندیوں میں سے کم از کم پانچ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ترکش وزارت دفاع نے شاناہان کے خط کے حوالے سے اپنی ویب سائٹ پرلکھا’’موجودہ مسئلے کا حل امریکا سٹریٹجک پارٹنرشپ کے فریم ورک چاہتا ہے جس پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا تھا، اس سے جامع سکیورٹی تعاون محفوظ رہے گا اوردوطرفہ بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا‘‘۔ ترکش وزارت دفاع کا جواب پیٹرک شاناہان کے دھمکی آمیز خط سے پرامیدی کے پہلو نکالنے کی کوشش ہے، تاکہ نیٹو اتحادیوں کے قریب المرگ تعلقات کسی صورت بچائے جا سکیں۔ یہ امید بھری وضاحت دونوں ملکوں میں تصادم کی کیفیت کس حد تک روک پائے گی،  بتدریج واضح ہو جائیگا۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)