15 نومبر 2019
تازہ ترین

سیاسیاتِ جرمنی،انگلستان کے فرایض سیاسیاتِ جرمنی،انگلستان کے فرایض

(17 جنوری 1924ء کی تحریر)
اس تمام خوفناک وجوہ و اسباب اور فرانسیسیوں کی سیاسی عیاریوں کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مرکزیت کی روح فنا ہو چکی ہے۔، انقطاع پسندی کا شوق روز افزوں ہے، مرکزی حکومت کے خلاف بدظنی و بدگمانی ترقی کر رہی ہے اور برلن کے ارباب حل و عقد کی کی نیک نیتی پر بھی ہر طرف شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ ریاست بویریا شاہ پرستوں اور انقطاع پسندوں کامرکز بن رہی ہے اور مرکزی حکومت سے بغاوت کرنے کے سامان فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ریاستوں کے اختیارات سے یہ مطالبات پیش ہو رہے ہیں کہ مرکزی حکومت برلن کے اختیارات میں تخفیف کی جائے اور ریاستوں کے حقوقِ حکومت میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ بویریا اور دوسری ریاستوں کی طرف سے یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کی خارجہ حکمت عملی پر صرف حکومت برلن ہی کے ایک وزیر کا اقتدار بلاشرکت غیرے نہایت غیر منصفانہ اور لغو ہے بلکہ اس حکمت عملی کا تعین صوبہ جات یعنی ریاستوں کے ارباب بست و کشاد کے مشورے سے ہونا چاہئے۔ اس قسم کے مطالبات سے صاف ظاہر ہے کہ المانی قوم اب اتحاد قومیت اور ریاستہائے متحدہ کے نظام کی مخالف ہو رہی ہے اور جس چیز کو پرنس بسمارک نے سالہا سال کی شبانہ روز محنت سے قایم کیا تھا اس کو جرمن اپنے ہاتھوں تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ یہ تمام فرانسیسیوں کی خفیہ ریشہ دیوانیوں کا اثر ہے، وہ لوگ دل سے چاہتے ہیں کہ قلمرو جرمنی زوال و انحطاط کے گہرے غار میں دفن ہو جائے اور وسط یورپ پر ہر جگہ فرانس کا پرچم لہرانے لگے۔
فرانس نے پہلے تو روہر پر قبضہ کر کے اس کو جرمنی سے بالکل منقطع کر دیا تھا اور اس انقطاع کو اس حد تک طول دیا تھا کہ عملاً علاقہ روہر اور جمہوریتِ جرمنی میں کسی قسم کا تعلق قایم نہ رہا تھا اور روہر بالکل علاقہ غیر سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ کوئی جرمن فرانسیسی حکام تصرف سے پروانہ ہائے راہداری حاصل کئے بغیر روہر میں آ جا نہ سکتا تھا۔ لیکن حال ہی میں حکومت فرانس اور سفیر فوق العادہ جرمنی کے درمیان جو گفت و شنید عمل میںآئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس قسم کی قیود اٹھا لی گئیں اور پروانہ ہائے راہداری کا قضیہ اڑا دیا گیا۔ اب روہر اور جرمنی کے درمیان آمد و رفت کی آزادی دے دی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ موسیو پوئنکارے مسلسل و متواتر معاہدہ ورسلز کی دفعات کو کلام الٰہی کی طرح بار بار پڑھتے اور ان کی تعمیل پر اصرار کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ بھی خوب جانتے ہیں کہ سختی کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا اور اس سے جرمن پہلے سے بھی زیادہ اکڑ جائیں گے۔
آج کل تحقیقات کی دو مجلسیں جرمنی کی اقتصادی حالت کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ عنقریب ان کی طرف سے تحقیقات کے نتایج اور معاہدہ ورسلز کی دفعات متعلقہ تاوان حرب کی ترمیم کی تجاویز دول مغرب کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔ ہم اور دنیا کی تمام قومیں دل سے چاہتی ہیں کہ یہ مجالس تحقیقات آخری ثابت ہوں اور اس چھان بین کے بعد فرانس اور جرمنی کے مابین مصیبت سے چھٹکارا حاصل ہو اور فرانس کی فوجی طاقت بھی روہر اور ریائن لینڈ میں بے سود ضایع نہ ہو۔ اگر کچھ خاطر خواہ فیصلہ ہو گیا تو وسط یورپ کی سیاسی و اقتصادی پیچیدگیاں سلجھ جائیں گی اور دنیا کی حرفت و تجارت پر اچھا اثر پڑے گا ورنہ یہ حالت طول کھینچے گی۔ ایک طرف یورپ قحط اور بیروزگاری سے ہلاک ہو گا اوردوسری طرف ممکن ہے کہ ایک اور نہایت خوفناک جنگ شروع ہو جائے جو ازسرنو ساری دنیا کے حرمن امن و امان کو جلا کر خاک کر دے۔
آج ساری دنیا کی نظریں انگلستان اور امریکہ کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ اگر انگریزی نسل کودنیا کی تجارتی اور اقتصادی بہتری منظور ہے، اگر انگلستان کو یورپ میںزندہ رہنا ہے، اگر جرمنی کو شاہ پسندی یا اشتراکیت کے طوفانوں سے بچانا مقصود ہے جس کا اثر انگلستان و فرانس پر بھی نہایت نمایاں اور مہلک ہو سکتا ہے تو چاہئے کہ جرمنی کی مدد کریں۔ فرانس پر نہایت موثر دبائو ڈالیں اور مل ملا کر سیاسیاست یورپ کے ڈوبتے ہوئے جہاز کو بچائیں۔ انگلستان میں مسٹر لائیڈ جارج، مسٹر بونرلا، مسٹر بالڈون تینوں کی وزارتیں وسط یورپ کی صورت حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہ چکی ہیں۔  اگر مسٹر ریمزے  میکڈونلڈ وزیراعظم ہو جائیں اور اقتدار حزب العمال کے ہاتھ میں آ جائے تو صرف روس کی حکومت کو جائز تسلیم کر لینے اور جرمنی کو ناقابل برداشت تاوان حرب سے نجات دلا دینے سے یورپ کی حالت سدھر جائے گی۔ ہمیں امید ہے کہ جن ضروری کاموں میں لبرل اور قدامت پسند سخت بری طرح ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھ چکے ہیں ان میں عمال کامیاب ہو جائیں گے اور اپنی وسیع المشربی اور انصاف پسندی سے ایک تو قیام امن کا باعث ہوں گے اور دوسرے یورپ بھر کو بیروزگاری اور مزدوروں کی کس مپرسی کی لعنتوں سے نجات دلادیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجلاس کوکناڈا اور سرکاری جاسوس
ہماری حکومت ملک کے روپے کو بے پروائی کے ساتھ ناجائز مدوں میں صرف کرنے میں خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہ حقیقت کس سے مخفی ہے کہ ہندوستان کے تمام محاصل کا قریب قریب نصف حصہ فوج کی تنظیم و تربیت پر صرف ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اپنے اس محیرالعقول اسراف کیلئے وجہ جواز پیدا کرنے کی خاطر سرحد پر حملہ کا ایک موہوم اور خیالی بت نصب کر لیا ہے اور کروڑوں روپے سالانہ اس بت کی پرستش و عبادت میں صرف کر دیتی ہے۔ فوج کے علاوہ ایک فضول اور بے فایدہ محکمہ خفیہ پولیس کا ہے۔ ہزاروں آدمی اطراف ملک میں گراں قدر تنخواہیں دے کر متعین کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا وظیفہ یہ ہے کہ ہر قومی جلسے، ہر ملی اجتماع، ہر محب وطن کارکن کی سرگرمیوں، ہر رہنمائے ملک کے دوروں اور تقریروں  کی رودادیں حکومت کیلئے مرتب کریں۔ یہ لوگ جس دیانت سوزی اور نافہمی کے ساتھ جلسوں اور تقریروں کی رودادیں مرتب کرتے ہیں اس کی کیفیت گزشتہ تین سال کے سیاسی مقدمات میں اچھی طرح واضح ہو چکی ہے۔ اکثر و بیشتر وہ اس درجہ جاہل ہوتے ہیں کہ کسی محترم رہنما کی تقریر کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ پھر حکومت کے ایما پر اپنی ضمیر باختگی کے جوش میں دور از عقل اور بعید از قیاس باتیں اپنی رودادوں میں بھر دیتے ہیں جو کبھی کسی مقرر کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں۔    (جاری ہے)