15 نومبر 2019
تازہ ترین

گم شدہ ڈکلیئرڈ اثاثے گم شدہ ڈکلیئرڈ اثاثے

قارئین آج کل جہاں سرکار نے ان ڈکلیئرڈ اثاثوں یعنی چھپائے گئے اثاثوں کو ظاہر کرنے کی مہلت دی ہے تو وہاں آج کل ہر طرف موبائل فون کا شور بھی مچا ہوا ہے، بالکل ویسے جیسے کوئی سیاسی نعرہ ہو کہ ’’جس کے ہاتھ میں فون ہے، وہی ڈینجر زون ہے‘‘۔ اب فون کے ذریعے جہاں رقم ٹرانسفر ہو جاتی ہے وہاں بنکوں میں ڈاکے مارنے بھی آسان اور کامیاب سمجھے جاتے ہیں۔ اب دن بہ دن کتاب کی قدر روپے کی قدر کی طرح گرتی جا رہی ہے۔ انکل سرگم کا قطع ہے کہ
آئے جب ابر پھر سیلاب آئے
اس کے بعد ایڈ بے حساب آئے
سوتے وقت بھی موبائل پکڑا ہو
ہاتھ میں کیسے پھر کتاب آئے
تو جناب موبائل فون نے جہاںبہت سی سہولیات دی ہیں وہاں ہمیں بے تحاشا تنہایاں بھی دے ڈالی ہیں۔ اب تو ساتھ ساتھ بیٹھے گھر والے بھی ایک دوسرے سے کلام نہیں کرتے اور اگر کلام کرنا پڑ بھی جائے تو فون پہ میسج کر دیتے ہیں۔ فون نے بچوں میں انفارمیشن اور ان پڑھوں کو تعلیم نہ حاصل کرنے کی تلقین دی ہے۔ اب ان پڑھ کو پڑھنے لکھنے کی کیا ضرورت جب وہ پڑھنے لکھنے کا کام دیکھ سُن کر کر سکتا ہے۔ گویا ایک ان پڑھ کو آج کل کے دور میں دماغ سے زیادہ آنکھ اور زبان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اب دھیرے دھیرے اپنی زبان اور ثقافت بھی کھوتے جا رہے ہیں۔
ذیل میں چند گم شدہ چیزوں کے اشتہارات دے رہے ہیں، جن سے سر عام عبرت حاصل کی جا سکتی ہے۔
گم شدہ زبان:
ایک عدد پاکستانی زبان قومی توازن ٹھیک نہ ہونے کی بدولت گھر سے غائب ہے۔ زبان اپنا نام اردو بتاتی ہے جبکہ اس نے جو لباس پہنا ہوا ہے وہ کئی رنگوں کا ہے جس میں دوپٹے کا رنگ ’’اسلامی‘‘، شلوار کا رنگ ’’لکھنؤی‘‘ اور  اسکی قمیض ایرانی کلر کی ہے۔ گھر سے بھاگی یہ زبان کافی عرصہ سے پریشان دکھائی دیتی تھی اور اسکی وجہ اس کے اپنے گھر میں اسے نظر انداز کر کے اس پہ انگلش نامی ایک پرائی زبان کو عزت و فوقیت دینا بتائی جاتی ہے۔ گھر سے بھاگتے وقت اردو نامی زبان اپنے ساتھ وہ سارا کلاسک ادب بھی لے گئی ہے جس سے اسکی شناخت ہوتی تھی البتہ جاتے ہوئے وہ اپنے پیچھے ایک رقعہ بھی لکھ کر چھوڑ گئی ہے جسکی عبارت یہ ہے۔ ’’میں مسماۃ اردو، ناقدری اور بے اعتنائی اور ٹی وی چینلز میں بولے جانے والے غلط تلفظ سے تنگ آ کر اس گھر سے بھاگ رہی ہوں۔ میرے فرار ہونے کی ذمہ داری سرکاری نظام اور تعلیم پہ عائد ہوتی ہے جس نے میرے ہوتے ہوئے میرے ہی گھر میں تین تین غیر ملکی ’’سوکنیں‘‘ ڈال رکھی ہیں۔ میری شاخت تو اُسی دن ختم ہو گئی تھی جس دن سے یہاں کی دفتری زبان انگلش اور قومی ترانہ فارسی زبان میں رائج ہو گیا تھا‘‘۔ گھر سے بھاگی ہوئی اس ناراض زبان کو کسی طرح منا کر واپس لانے والے کو ’’شیکسپیئر‘‘ کے ڈراموںکی ایک کتاب اور ’’مائیکل جیکسن‘‘ کے گانوں کی ایک سی ڈی انعام میں دی جائے گی۔ نیز، اگر ناراض اردو زبان یہ اشتہار کسی اخبار میں خود پڑھے تو فوراً واپس آ جائے۔ اسکی گم شدگی سے کراچی میں لامحدود سرپرست اسکی ناراضگی سے پشیمان ہیں۔
گم شدہ عوامی سر:
گیس اور بجلی کا بل جمع کراتے ہوئے، قومی مہنگائی میں بنک کے باہر، گرمی سردی میں کھڑی عوامی قطار میں لگے ہوئے ایک گرد پوش پاکستانی کا نیم کچلا ہوا سر گر کر کھو گیا ہے۔ گمشدہ اور کچلے ہوئے پاکستانی سر کی نشانی یہ ہے کہ تقریباً گنجا ہے اور اسکے گنجا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسکا بال بال قرضے میں پھنسا ہونے کی بدولت ہر چھ ماہ بعد غیر ملکی قرض خواہ اسکے بال اتار کر لے جاتے ہیں، چنانچہ اسکی ٹنڈ پہ آپکو اسکے اصل مالک کا نام ’’آئی ایم ایف‘‘ واضح الفاظ میں لکھا ہوا نظر آئے گا۔ سر چونکہ پڑھا لکھا بھی ہے اس لیے اس کی قدرو قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ گمشدہ سر کی ایک اور نشانی یہ بھی ہے کہ یہ بذات خود کوئی تخلیقی کام کرنے سے عاری البتہ معاشی پریشانیوں سے مالا مال ہے۔ سر کے اندر ایک نام نہاد دماغ بھی ہے جو مہنگائی کے اثر سے اتنا پھر چکا ہے کہ پھرتے پھرتے ہر دو تین سال بعد پھر اُسی جگہ پہ پہنچ جاتا ہے جہاں سے وہ خوشحالی کی پُر فریب راہ پہ گامزن ہوتا ہے۔ سر واپس کرنے والوں کو وزیر اعظم کی تھپکی دی جائیگی۔
گم شد ہ سرکاری بتیسی:
ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیس بائیس گریڈ والی ایک انتہائی قیمتی بتیسی، سرکاری دانتوں سمیت کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ’’بزنس ڈنر‘‘ کھاتے ہوئے گر کر کھو گئی ہے۔ بتیسی کی نشانی یہ ہے کہ اس پہ امپورٹڈ پیسٹ کی چمک دکھائی دیتی ہے، البتہ اسکے بتیس دانتوں میں سے دو دانت پچھلی دو حکومتوں کے ساتھ مل کر مال چباتے ہوئے ٹوٹ چکے ہیں جبکہ بقیہ تیس میں سے اکثر دانتوں کو کرپشن کا کیڑا بھی لگا ہوا ہے۔ اگر کسی غریب بندے کے ہاتھ یہ سرکاری دانت لگ جائیں تو اسے اپنے منہ میں فٹ کرانے کے بجائے واپس کر دے کیونکہ بڑھتی مہنگائی کی بدولت عنقریب غریبوں کے دانت کچھ کھا نے کے بجائے صرف ’’پیسنے‘‘ کیلئے ہی رہ جائیں گے۔ ویسے بھی اعلیٰ لوگوں کے دانت ’’ کھانے‘‘ والے اور ہوتے ہیں اور ’’دکھانے‘‘ والے کوئی اور۔
گمشدہ ائر ہوسٹس:
ایک ہوائی کمپنی کی ہوائی 
روزی (ائر ہوسٹس) مسافروں میں مصنوعی مسکراہٹ تقسیم کرنے والی ایک ہوائی میزبان بہت عرصہ سے کہیں کھو چکی ہے۔ ہوائی میزبان کی نشانی یہ ہے کہ و ہ اپنے چہرے پہ ہر وقت مصنوعی مسکراہٹ قائم رکھتی ہے اور مسافروں کی خدمت بالکل ویسے ہی کرتی ہے جیسے ایک بہو اپنی ساس یا سسر کی کرتی ہے، یعنی اگرکوئی مسافر کھانا پینا مانگے تو اسے اسوقت تک مہیا نہیں کرتی جب تک مسافر کی آخری منزل قریب نہ آ جائے۔ گمشدہ ایئر ہوسٹس خود کو شادی شدہ ظاہر کرنے کے بجائے ’’شادی گم شدہ‘‘ یعنی اپنی شادی کو چھپا کر رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تلاش کرنے والے کو ائرہوسٹس ڈھونڈنے میں دقت ضرور ہو گی، اس لیے کہ وہ میک اپ کے بغیر ہو گی اور اس صورت میں اس کی صورت کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔