01 دسمبر 2021
تازہ ترین

اللہ کی مر ضی یا مجر مانہ غفلت اللہ کی مر ضی یا مجر مانہ غفلت

یکم نومبر کو عزیز دوست اور سینئر صحافی جہانگیر حیات نے اپنے والد محترم کے لئے دعائے صحت کی اپیل کی، فون پر میں نے انہیں تسلی دی کہ آپ نے انہیں سروسز ہسپتال داخل کراکے بہت اچھا کیا ، ان شاء اللہ جلد صحت یاب ہوکر گھر واپس آجائیں گے، مگر ان کے والد 4 نومبر کو ہسپتال میں ہی انتقال کرگئے۔جس کے بعد جہانگیر حیات نے فیس بک پر اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات کی پوسٹ لگائی، جسے پڑھنے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بے حسی اور غفلت کا پوری قوم شکار ہوچکی ہے۔ 
ہر سرکاری ہسپتال میں صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے، ڈاکٹر مریضوں کے اٹینڈینس کو اچھوت سمجھتے ہیں۔ ہسپتالوں میں بڑے ڈاکٹر صرف وظیفہ خوری کے لئے آتے ہیں، ان کی اصل آمدن پرائیویٹ پریکٹس میں ہے۔ جہانگیر حیات نے سروسز ہسپتال کے متعلق جو اپنے مشاہدات لکھے ہیں، وہ میں ہوبہو اپنے کالم میں قارئین کی نذر کررہا ہوں۔ شاید سرکاری حکام اسے پڑھ کر حقائق جاننے کی کوشش کرنے کی خاطر کوئی انکوائری کرانا مناسب سمجھیں۔ ’’وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تو اس معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے اور وزیر صحت تو خود ڈاکٹر ہیں اور سروسز ہسپتال میں کام بھی کرچکی ہیں۔ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ اللہ کی مرضی تھی یا سروسز ہسپتال کی انتظامیہ، ڈاکٹرز یا پھر گورنمنٹ کی لاپروائی کہ میرے والد صاحب دنیا میں نہیں رہے۔
میں والد صاحب کو ڈینگی کے بعد ہونے والی سانس کی خرابی کی وجہ سے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل کروایا،فوراً آکسیجن نوبلائزنگ شروع کروادی گئی، طبیعت سنبھلنے کے 
بجائے بگڑتی رہی، ایمرجنسی میں صبح آٹھ بجے تک تین چار اموات ہوچکی تھیں، لیکن مجھے یہی لگ رہا تھا کہ والد صاحب کی طبیعت کچھ دیر بعد بہتر ہونا شروع ہوجائے گی، لیکن ان کی سانس بحال نہ ہوئی، وہ لمبے سانسوں سے ہچکیوں پر آگئے، میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے والد صاحب کو دیکھیں، انہوں نے کتنے سارے فی میل، میل اور ٹرینی ڈاکٹرز جو ایک مریض کو بچانے کی کوشش کررہے تھے، سے توجہ ہٹاتے ہوئے سخت لہجے میں مجھ سے سوال کیا ’’کیا میں اس مریض کو چھوڑ دوں؟ اس کی نبض نہیں آرہی۔
میرے پاس کوئی جواب نہ تھا، واپس والد صاحب کے بیڈ پر آگیا، والد صاحب کی سانس اور مشکل ہوچکی تھی، ساتھ والا ایک اور مریض تکلیف سے کراہ رہا تھا، لیکن کوئی ڈاکٹر یا نرس اسے اٹینڈ نہیں کررہا تھا۔ ادھر اس مریض کی موت ہوجاتی جس کی نبض لانے کی کوشش کی جارہی تھی اور پھر کچھ دیر بعد وہی مریض جو شدت درد سے نڈھال تھا، اس کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے اور تمام ڈاکٹر اس مریض کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اب اس کی حالت سنبھل نہیں پاتی اور اس مریض کو مصنوعی وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔
 اس طریقے کو ایمو جیسے نام سے ڈاکٹر لوگ پکار رہے تھے۔ اس طریقے میں مینوئل طریقے سے مریض کو مصنوعی سانس دیا جاتا۔ ایک بڑے سے غبارے کو ہر تین سیکنڈز کے بعد دبایا جاتا ہے اور یوں اس کے دبانے سے مریض کی سانس چلتی رہتی ہے۔ سروسز ہسپتال میں یہ ڈیوٹی عزیز واقارب میں سے ایک کو دی جاتی ہے۔ تین چار مریضوں کی موت کے بعد سینئر ڈاکٹر میرے والد صاحب کی طرف آیا تو میں نے ان سے کہا، ’’ڈاکٹر صاحب جب تک کوئی مریض سیریس نہیں ہوجاتا، کوئی ڈاکٹر اسے اٹینڈ نہیں کرتا۔‘‘
ڈاکٹر صاحب غصے میں آگ بگولا میرے والد کو چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ ’’سٹاف ان کا مریض یہاں سے شفٹ کرو، یہ تو مریض ہمارے اوپر ڈال رہے ہیں‘‘ چھوٹے بھائیوں نے مجھے وہاں سے ہٹاکر ڈاکٹر صاحب کی منت سماجت کی۔ ڈاکٹر صاحب نے ڈیمانڈ کردی کہ وہ میرے وہاں سے جانے تک میرے والد کو نہیں دیکھیں گے۔ میں ڈاکٹر کے پاؤں میں گرگیا، کچھ دیر گڑگڑایا، منت سماجت کی تو ڈاکٹر نے والد صاحب کو چیک کرنا شروع کردیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر صاحب نے مصنوعی وینٹی لیٹر پر ڈال دیا اور ہمارے ہاتھ میں ایک غبارہ پکڑوادیا اور اسے تین سیکنڈز میں ایک دفعہ دبانے کو کہا، تاکہ سانس چلتی رہے، لیکن اصل دوڑ اور پریشانی تو اب شروع ہوئی تھی، اندازہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے ان کو وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی تیاری کی، وہ بھی 
ہم سے پوچھے بغیر۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک کال سرجیکل آئی سی یو کو لکھ دیاکہ ان کے مریض کو وینٹی لیٹر دے دیں، لیکن سرجیکل آئی سی یو والوں نے وینٹی لیٹر دینے سے انکار کردیا،اسی ڈاکٹر کے پاس گیا اور بتایاتو ڈاکٹر نے جواب دیا: کہیں اور یا باہر پھر کسی دوسرے ہسپتال سے پتا کریں۔ 
مجھے بہت غصہ آیا اور سوچا کہ اگر وینٹی لیٹر نہیں تھا تو اس نے میرے والد کو انٹیوبیشن کیوں کردی، لیکن وقت ضائع کیے بغیر میں نے سفارشوں کے لئے دوستوں کو فون ملانا شروع کردئیے۔ آخر شام 4 بجے کے قریب سرجیکل آئی سی یو والوں نے بڑے احسان کے ساتھ ایک دو شرائط کے بعد میرے والد صاحب کو وینٹی لیٹر دے دیا، ہم انہیں ایمرجنسی سے سرجیکل آئی سی یو میں لے آئے۔ اب یہاں علاج شروع ہوگیا۔ میرے والد صاحب اب بے ہوش تھے،یہاں بروقت کوئی ڈاکٹرز موجود نہ تھے۔ ہمیں کال لکھ کر دے دی جاتی تھی ہم ڈاکٹر کو دوسرے ڈیپارٹمنٹس میں جاکر کال دے دیتے تھے، اب ڈاکٹر کی مرضی کہ وہ آئے یا نہ آئے۔ میرے والد صاحب پانچ دن تک سرجیکل آئی سی یو میں داخل رہے۔ پانچویں دن بتایاگیا کہ ان کے تو گردے فیل ہوچکے اور اب ڈائیلاسز بھی کرنا پڑے گا۔میں اپنے والد کے ماموں زاد بھائی میرے چچا میاں رفیق کے ساتھ آئی سی یو کے باہر بیٹھا گفتگو میں مصروف تھا، جب وارڈ اٹینڈنٹ خاتون نے بتایا کہ آپ کا مریض سیریس ہوگیا ہے۔ میں بھاگا بھاگا ان کے بیڈ کے قریب گیا تو وارڈ کے ڈاکٹرز میرے والد صاحب کے سینے کو زور زور سے دبارہے تھے، ڈاکٹرز نے مجھے باہر جانے کا کہا۔ میں جاکر آئی سی یو کے دروازے پر بیٹھ گیا اور امید کرنے لگا کہ میرے والد صاحب ٹھیک ہوجائیں گے، لیکن کچھ ہی دیر بعد تین ڈاکٹرز میرے پاس آکر کھڑے ہوگئے، انہوں نے بتایا کہ آپ کے والد اب دنیا میں نہیں رہے۔ 
میں تو والد صاحب کو ان کے پاؤں پر ہسپتال لے کر گیا تھا کہ ڈینگی سے ریکوری کے بعد جو ان کو بے چینی اور سانس کی تکلیف تھی، ٹھیک ہوجائے، لیکن ایسا کبھی بھی نہ ہوسکا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ مجھے ان کی میت وصول کرنا پڑے گی۔‘‘یہ واقعہ سننے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے کہ بے حسی اور غفلت کا پوری قوم شکار ہوچکی ہے۔