01 دسمبر 2021
تازہ ترین

عدلیہ کی آزادی وخودمختاری عدلیہ کی آزادی وخودمختاری

سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی و خودمختاری زیر بحث اوامر میں سرفہرست رہی ہے۔ ایک طرف (ن) لیگ اور نواز شریف کا حمایتی لبرل و سیکولر طبقہ اقامہ کیس میں سابق وزیراعظم کو نااہل قرار دینے پر عدلیہ کی آزادی و خودمختاری پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا رہا ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف سمیت عوام کی بڑی تعداد نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کے جاری عمل کو قانون اور انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اسے آزاد و خودمختار عدلیہ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے رہے ہیں۔ دو سال قبل احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو لیک ہونے سے  ملک کے سیاسی و عدالتی منظرنامے پر ہلچل مچ گئی تھی۔ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر شائع ہونے پر طوفان اُٹھ کھڑا ہوا، لاہور میں انسانی حقوق کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے عدلیہ پر کسی بھی قسم کے دبائو یا ڈکٹیشن کی واضح الفاظ میں تردید کردی، تاہم اس کے فوری بعد سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو نے ایک اور طوفان کھڑا کردیا۔ 
اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو جاری کرنے کا مقصد عدلیہ کو دبائو میں لانا ہے۔ اگرچہ سابق چیف جسٹس نے تردید کرتے ہوئے آڈیو کو فیبریکیٹڈ قرار دیا ہے، تاہم آڈیو جاری کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آڈیو اصلی اور اس کی 
تصدیق فارنزک کے امریکی ادارے بھی کرچکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق مسلم لیگ(ن) ان ’’شہادتوں‘‘ کو ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں میں استعمال کرکے فائدہ اٹھاسکتی ہے اور انہیں اس معاملے میں ریلیف ملنے کے امکانات ہیں۔
جدید جمہوری نظام میں عدلیہ کی آ زادی و خودمختاری کی اہمیت و افادیت پر مختصر اظہار خیال ضروری ہے۔ جدید جمہوری ریاست کے چار ستونوں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا میں عدلیہ کو اس لئے غیر معمولی حیثیت حاصل ہے کہ یہ ریاست کے دیگر تین ستونوں پر نگراں ہوتی ہے۔ ایک مغربی مفکر کے قول کے مطابق ’’کسی ملک میں جمہوریت کو ماپنے کا پیمانہ عدلیہ ہے۔ کسی ملک میں عدلیہ جتنی آزاد ہوگی، وہاں جمہوریت اتنی ہی کامیاب ہوگی۔‘‘ بادشاہت میں مقتدر اعلیٰ ہی خود سب سے بڑا جج ہوتا ہے جب کہ آمریت میں 
عدلیہ آمر کے اشاروں پر فیصلے کرتی ہے۔ بادشاہت اور آمریت کے برعکس جمہوریت میں عدلیہ آزاد، بااختیار اور باوقار ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں عوامی حقوق، شخصی آزادیوں اور سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے عدلیہ کو مقننہ اور انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ جمہوریت میں عوام کو ہر قسم کے دبائو سے آزاد رکھنا ضروری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے آزاد اور خودمختار عدلیہ موجود ہو۔ برطانوی تاریخ دان اور مفکر لارڈ جیمز برائس کے مطابق کسی حکومت کی کارکردگی جاننے کے لئے عدالتی نظام کی کارکردگی کا مطالعہ کرلینا کافی ہے۔ اگر عدلیہ کمزور ہو، کسی دبائو یا سیاسی مخاصمت کی وجہ سے غیر جانبدار نہ رہ سکے اور بلاامتیاز انصاف مہیا کرنے کے فرض اوّلین میں کامیاب نہ ہوسکے تو ملکی اقدار اور معاشرے کا نظم و ضبط تباہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے 120 ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں جمہوری نظام رائج ہے۔ پھر جمہوری نظام کے اندر وحدانی اور وفاقی اطراز حکومت کی تقسیم ہے اور اس سے آگے پارلیمانی اور صدارتی نظام کی شکلیں ہیں۔ وفاقی طرز حکومت میں آئین کی برتری مسلمہ ہونے کی وجہ سے عدلیہ مرکزی یا صوبائی مقننہ کے بنائے گئے کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دے کر مسترد کرسکتی ہے، لیکن وحدانی نظام میں عدلیہ کا قانون سازی میں مداخلت کرنا غیر جمہوری سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت وفاقی اطراز حکومت والے ممالک میں قانون اور آئین کی تشریح، دستور کے تحفظ اور عدالتی نظرثانی جیسے اختیارات کے باعث عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی اہمیت و افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کے پیچھے کسی طاقت کا دبائو ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی، تاہم ماضی کے مقابلے میں موجودہ دور میں عدالتیں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد نظر آتی ہیں۔