01 دسمبر 2021
تازہ ترین

سموگ کا چیلنج اور تدارک سموگ کا چیلنج اور تدارک

ماحولیات کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق صاف ستھری فضا اور باغات کا شہر لاہور اس وقت دنیا کا آلودہ ترین بلاد بن چکا، رپورٹس کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک ترین سطح یعنی 345 تک پہنچ چکا، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان کو اس وقت جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، اس میں بنیادی امر ماحولیاتی آلودگی ہے، یہ معاملہ معاشی چیلنج سے بڑا بن چکا ہے، ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پیدا شدہ بیماریاں روزانہ انسانی صحت پر اثرانداز ہورہی ہیں، ساتھ ہی کرونا کی شدت میں کمی آئی مگر ڈینگی نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں، جس سے صورت حال مزید گمبھیر ہورہی ہے، پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب سموگ کو قرار دیا جارہا ہے، بین الاقوامی ادارے نیشنل جیوگرافی کے مطابق سموگ فضائی آلودگی ہے، جس سے دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، یہ بیک وقت آنکھوں اور سانس لینے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔
ہمارے ہاں گزشتہ سات آٹھ برس سے سموگ کا عمل ہر سال نومبر، دسمبر میں شدید دیکھنے میں آتا ہے، مگر تاحال کوئی مستقل حل تلاش کرنے کے لئے اقدامات نہیں کیے گئے، پنجاب کے وزیر ماحولیات کا کہنا ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس پی ایم 2.5 چوبیس گھنٹے سے پہلے حتمی نہیں ہوسکتا جب کہ ہمارے ہاں اسے روزانہ صبح کے وقت طے کرلیا جاتا ہے، اس وقت ایئر کوالٹی انڈیکس جو اوپر جارہا ہے، اس میں گرد کے ذرّات ہیں، آلودگی اتنی زیادہ نہیں، انہوں نے میڈیا سے درخواست کی وہ محکمے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات اور اعداد و شمار رپورٹ کرے، اگر وزیر ماحولیات کی بات کو ایک لمحے تسلیم کرلیا جائے تو کیا گردوغبار کے ذرّات انسانی صحت کے لئے جان لیوا نہیں، جس کا خاتمہ بھی ضروری ہے، سموگ کی شدّت میں اضافے کے باعث پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کو ہفتے میں تین دن بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، کم عمر بچوں کو سموگ زیادہ تیزی سے متاثر کرسکتا ہے، لہٰذا یہ فیصلہ درست مگر اس کے تدارک کے لئے کوئی فنڈز نہیں، محض احتیاطی تدابیر کے لئے کوششیں جاری ہیں، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے چالان اور تعمیراتی مقامات پر پانی کا چھڑکاؤ اس وقت حکومت کے پاس اس کا علاج ہیں، اس بابت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ کے استاد اور ماہر ماحولیات پروفیسر ڈاکٹر منور صابر نے سموگ اور فضائی آلودگی کے تدارک کے لئے ’’مصنوعی بارش‘‘ کے تجربے کا اعلان کررکھا ہے، مگر ستم ظریفی کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ سمیت کسی حکومتی ذمے دار نے ان سے رابطہ کرکے ان کی خدمات لینے اور انہیں شاباش دینے کی زحمت نہیں کی۔ 
ڈاکٹر منور صابر کے انکشافات چونکا دینے والے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر لاہور اسی طرح آلودگی کا انڈیکس برقرار رکھے گا تو خدشہ ہے کہ شہر میں انسانی وجود مزید آٹھ دس برس بعد ممکن نہ ہو، 
ان کی تحقیقات کے مطابق لاہور میں سموگ اور آلودگی کے ذریعے اس وقت ہر سانس لینے والا شہری اوسطاً بیس سگریٹ کے برابر دھواں اپنے جسم میں داخل کررہا ہے، سموگ کے تدارک کے لئے مصنوعی بارش کے حوالے سے انہوں نے اپنا پہلا تجربہ پنجاب یونیورسٹی کے خانسپور میں قائم کیمپس میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پہلی مرتبہ ایک کلومیٹر کی حدود میں مصنوعی بارش کا تجربہ مکمل کیا جائے گا، مصنوعی بارش کے اس تجرباتی عمل میں وہ اپنی جیب سے ڈیڑھ سے دو لاکھ کا خرچ کررہے ہیں، سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کتنے گم نام ڈاکٹر منور صابر اس ملک کی ترقی، استحکام میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور حکمرانوں کو کانوں کان خبر نہیں، یہی پنجاب یونیورسٹی ہے جس کے قابل اساتذہ مختلف شعبوں میں اس سے قبل بھی بے شمار تجربات کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کرچکے ہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہے کہ ڈینگی سے چھٹکارا بھی آسمانی بارش کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ ماہرین کے مطابق اس کی افزائش کا عمل سرد موسم میں زیادہ ہے، لہٰذا کسی بھی طرح بیماریوں کا ایک علاج آسمانی یا مصنوعی بارش ہی ہے، ضروری ہے محترم رئیس الجامعہ اس کام کی اونرشپ لیں، پنجاب یونیورسٹی کے ٹیگ کے ساتھ حکومت کو قائل کریں کہ وہ ایک موقع ضرور فراہم کرے، جامعات تجرباتی عمل سے ہی ترقی کے زینے طے کرتی ہیں لہٰذا کوئی حرج نہیں کہ اس عمل کی تائید کی جائے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈاکٹر منور صابر کے اس تجرباتی عمل کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور انہیں مکمل تعاون اور سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں، ڈاکٹر منور صابر سمیت ماحولیات کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جانی چاہیے، جسے ٹاسک دیا جائے کہ وہ اس پر اپنا ہوم ورک کریں اور آلودگی کے تدارک کے لئے میکنزم تشکیل دیں، عین ممکن ہے یہی مصنوعی بارش فی الوقت انسانی جانوں کو بچانے کا سبب بن جائے۔ بہرحال اس معاملے کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھنے سے روکنا اشد ضروری ہے کہ ہمیں نسل نو کو صحت مند اور خوش گوار، صاف ستھرا ماحول دینا ہے،وگرنہ ہماری غلطیوں اور کوتاہئیوں کی سزا اِس نسل کو بھگتنا پڑے گی جس کا اس خرابی سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ حکومت اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی ادراک کرتی ہے اس لئے ہمیں یقین ہے کہ اب اس سنگین مسئلے کو ہر آنے والی حکومت اپنی ترجیحات میں شامل رکھا کرے گی ۔