01 دسمبر 2021
تازہ ترین

ذیشان کا ناحق قتل ذیشان کا ناحق قتل

’’ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘‘، مذہبی حوالوں سے ماخوذ یہ جملہ یہاں قریباً ہر قاتل کی مذمت کرتے ہوئے بولا جاتا ہے۔ اس جملے میں بیان کی گئی حقانیت سے انکار ممکن نہیں مگر جس قدر اس جملے کو دہرایا جاتا ہے، اسی قدر اس کو سمجھنے میں پہلوتہی بھی کی جاتی ہے۔ ذیشان جن بے رحم قاتلوں کی گولیوں کی زد میں آیا، کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے یہ جملہ کبھی نہیں سنا ہوگا۔ ان قاتلوں نے ناصرف یہ جملہ سن رکھا ہوگا بلکہ ہوسکتا ہے کہ اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی بولا بھی ہو، مگر لاہور کی مصروف شاہراہ لٹن روڈ پر اندھا دھند گولیاں برساتے ہوئے انہوں نے اس جملے کو یاد رکھنے کے بجائے صرف یہ حقیقت ذہن میں رکھی ہوگی کہ جب اس ملک کی فضا مخالفوں کو قتل کرنے کے لئے اتنی سازگار ہے تو پھر کیوں نہ اس کا فائدہ اٹھایا جائے۔ اگر اس ملک کی فضا قتل جیسی مذموم وارداتوں کے لئے سازگار نہ ہوتی تو کیا قاتلوں کا جتھا اس بات کی پروا کیے بغیر کہ کوئی ذیشان جیسا راہ گیر بھی ان کی گولیوں کی زد میں آسکتا ہے، اپنے مخالفوں کو دن دن دیہاڑے قتل کرنے کی جرأت کرتا۔ 
ملک کے ہیچ نظام کی بدولت دیدہ دلیر بنے قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بننے سے پہلے، 19 نومبر، دوپہر دوبجے تک، ذیشان ایسا تندرست و توانا نوجوان تھا جس کی موت کے متعلق کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ اپنے روزمرہ معمول کے مطابق صبح بڑے بھائی ریاض ظہور کے ساتھ مزنگ روڈ پر موجود اپنے پبلشنگ ہائوس آیا اور پھر روزانہ کی طرح دوپہر کا کھانا لینے سعدی پارک میں واقع اپنے گھر گیا۔ ذیشان، روزانہ کبھی جلدی اور کبھی کچھ دیر سے کھانا لے کر واپس آجاتا تھا مگر 19 نومبر کو اس کے بجائے اس کے قتل کی خبر اس کے وارثوں تک آپہنچی ۔ اس طرح کی خبر کو کوئی بھی سچ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ذیشان کے گھر والوں اور دوست احباب سمیت جس نے بھی اس کے قتل کے متعلق سنا، سب نے یہی خواہش کی کہ یہ خبر غلط ثابت ہو۔ جب تک قتل کے وقوعہ کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اُس وقت تک کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگاسکا کہ ذیشان کو کسی نے کیوں قتل کیا ہوگا۔ ذیشان کے والد ظہور صاحب اور بھائی ریاض ظہور کے متعلق ان کے شناسا بخوبی جانتے ہیں کہ گو وہ ہیں تو اپنے کاروباری مفادات کا خیال رکھنے والے لوگ مگر 
جہاں تصادم کا خطرہ ہو وہاں درگزر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح ترقی پسند کتب کے ناشر کی شہرت رکھنے کے باجود وہ کبھی بھی دل آزاری پر مبنی مواد شائع کرنے کے الزام کی زد میں نہیں آئے۔ اس طرح کے محتاط رویے رکھنے والے لوگوں کے متعلق کوئی بھی یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ کسی عناد یا اعتراض کے سبب کوئی ان کے خاندان کے کسی فرد کی جان لینے کی حد تک جاسکتا ہے۔ ظہور فیملی کے متعلق ان کے جاننے والوں کی یہ سوچ درست ثابت ہوئی، ذیشان کے قتل کی تفصیل سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ ایسے دو گروہوں کے عنادکا شکار ہوگیا، جن سے اس کا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں تھا۔
پولیس سٹیشن مزنگ لاہور میں درج ایف آئی آر کے مطابق لٹن روڈ پر واقع شہزاد ساجد کی آٹو رکشا کی دکان پر کسی عناد کے سبب آتشیں اسلحے سے لیس 8 افراد حملہ آور ہوئے، جن کی اندھا دھند فائرنگ سے دُکان کا ملازم آصف سر میں گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہوگیا جب کہ شہزاد زخمی ہوا۔ موقع سے فرار ہوتے وقت ملزموں نے جو سرعام فائرنگ کی، اس کی زد میں آکر ذیشان ظہور بھی موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ ذیشان کے قتل کی یہ مختصر سی روداد اس کے ماں باپ، بہن بھائیوں اور خصوصاً اس کے معصوم بچوں کو گود میں لئے بیٹھی جواں سال بیوہ کے 
لئے کس قدر اذیت ناک ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل کام نہیں۔ مقتول ذیشان کی پوری فیملی کا ذریعۂ معاش، علم و ادب کے فروغ سے وابستہ ہے، علم و ادب سے اس تعلق کی بنا پر ان کی سوچ کا دائرہ صرف قتل کے وقوعہ تک محدود نہیں بلکہ اس سے جڑے دیگر محرکات کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ ان لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ ایک شخص کے قتل کا جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ لوگ قاتلوں کی اس نفسیاتی کیفیت سے بھی آگاہ ہیں کہ جب وہ قتل ناحق کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان کے دل سے انسانیت کی حرمت کا احساس مٹ جاتا ہے اور ایسی صورت میں اگر ان کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو تو وہ کسی اور کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ قاتلوں کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنے کے ساتھ ذیشان کی فیملی کے لوگ یہاں رائج نظام کی خامیوں سے بھی آگاہ اور جانتے ہیں کہ یہ نظام قتل کے منصوبوں کو قابل عمل بنانے کی خاطر قاتلوںکے لئے کس قدر معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس نظام کی خرابیوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لٹن روڈ پر جہاں ذیشان کے قتل کی واردات ہوئی، وہ جگہ تھانہ لٹن روڈ کے قریب تر ہے مگر آتی تھانہ مزنگ کی حدود میں ہے، جو وہاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی طرح سی سی پی او لاہور، تھانہ پرانی انارکلی اور آئی جی پنجاب کے دفاتر بھی اس جگہ سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ ترین افسران کے دفاتر اور تین تھانوں کے قریب تر ہونے کے باوجود قاتلوں نے ناصرف کامیابی سے واردات کی، بلکہ وہاں سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔
ذیشان کے قاتل، قتل کی واردات کے فوراً بعد سے یہ تحریر رقم کیے جانے تک مفرور ہیں۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ قاتلوں کا مفرور ہونا پولیس کے لئے سردردی ہے یا نہیں، مگر ذیشان کی فیملی کے لئے یہ خدشہ ضرور دردِ سر بنا ہوا ہے کہ جن مفرور قاتلوں نے اپنے مخالفوں کو قتل کرتے وقت یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا کہ کوئی عام شہری بھی ان کی فائرنگ کی زد میں آسکتا ہے، وہ ان کے لئے کسی بھی حد تک مزید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ذیشان کی فیملی کا یہ خدشہ بلاجواز نہیں، کیونکہ یہاں مفرور قاتلوں کا دوران تفتیش اور دوران سماعت مدعیان کو مقدمات کی پیروی سے ڈرا دھمکاکر روکنا کوئی نئی اور انہونی بات نہیں۔ 
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مقتول ذیشان کے والد ظہور خان کے پبلشنگ ہائوس سے کتابیں شائع کرانے والوں میں ملک کے بڑے بڑے دانشوروں، نامور شخصیات اور سول سروس کے کئی اعلیٰ افسروں کے نام شامل ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کے ساتھ تعلقات کے باوجود جب ظہور صاحب اس نظام کی خامیوں کی وجہ سے اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالے سے غیر مطمئن ہیں تو سوچا جاسکتا ہے کہ عام لوگوں کے عدم تحفظ کا یہاں کیا عالم ہوگا۔