01 دسمبر 2021
تازہ ترین

جمہوریت ناگزیر ہے لیکن…؟ جمہوریت ناگزیر ہے لیکن…؟

74 سال کا عرصہ کسی بھی نوزائیدہ مملکت کے لئے تجرباتی دور سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا۔ قومیں صدیوں میں بنتی ہیں۔ جمہوری اور سیاسی رویے بھی چٹکی بجاتے ہی نہیں مضبوط ہوجاتے، انہیں قوموں کے مزاج کا حصہ بننے میں وقت لگتا ہے اور درمیان کے اس وقفے میں صبر، برداشت اور رواداری کو تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے میں استوار کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ برطانوی جمہوری سیاسی نظام کی کامیابی کا ذکر تو بہت کرتے ہیں اور اس کی مثال دیتے نہیں تھکتے، تاہم وہ اس تاریخ اور تاریخی جدوجہد کو بھول جاتے ہیں، جو وہاں کے جمہوریت پسندوں نے کی اور جب ایک بار نظام بن گیا تو بعد میں آنے والی حکومتوں اور نسلوں نے اس کی آبیاری کی۔ یوں ایک عرصہ لگا، پھر جاکر برطانیہ جمہوریت کا چیمپئن بنا۔
جمہوریت کا اگر تاریخی پس منظر میں جاکر جائزہ لیا جائے تو اُسے سب سے پہلے قدیم یونان میں پانچ صدی قبل مسیح میں رائج کیا گیا تھا۔ اُس وقت آبادی محدود ہونے کے سبب عوام کو براہ راست قانون سازی کا اختیار تھا، لیکن اقتدار میں ریاست کے تمام باشندوں کو شامل کیا جاتا تھا۔ اس میں عورتوں، غلاموں، زراعت پیشہ افراد اور تاجروں کو ووٹ دینے یا ملک کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ انتہائی قلیل اور مختصر تعداد میں شہریوں کو سیاسی امور طے کرنے کی اجازت تھی۔ تاریخ کے دونوں اہم سیاسی مفکرین افلاطون اور ارسطو کے دور میں جمہوریت پورے عروج پر تھی، لیکن اس کے باوجود ان دونوں اور ان کے ہم عصروں کے ہاں جمہوری نظام پر شدید تنقید ملتی ہے۔ افلاطون کے نزدیک جمہوریت ایک گمراہ کن طرز حکومت تھی، جس میں عوام کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نقصان دہ تھا۔
جمہوریت کی موجودہ شکل قدیم یونانی اور اطالوی شہری ریاستوں کے نظام سے مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ آبادی میں اضافے کے باعث اب عوام کو براہ راست قانون سازی کا اختیار نہیں رہا، بلکہ براہ راست جمہوریت کی جگہ نمائندہ جمہوریت کا تصورجنم لے چکا، جو عوام کی کثرت رائے کے فیصلے سے اقتدار میں آتا ہے اور اس کے ساتھ ووٹ کا حق بھی مخصوص افراد معاشرہ کو نہیں بلکہ ریاست کے تمام بالغ افراد کو حاصل ہے اور یہ نمائندہ جمہوریت جمہور (عوام) کو مکمل معاشی، معاشرتی، سیاسی، تعلیمی اور اخلاقی نظام کے تحفظ کی ذمے داری فراہم کرتی ہے۔ 
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ انقلاب فرانس 1789 نے جمہوریت کو بہترین طرز حکومت کے طور پر ابھارا اور افراد کو آزادی حاصل کرنے پر زور دیا اور انہیں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا تصور دیا۔ جمہوریت ایک بہترین طرز حکومت ہے اور بقول پروفیسر سیلے کے ’’جمہوریت ہی وہ واحد طرز حکومت ہے، جس میں تمام افراد کو حکومتی معاملات میں شرکت کا حق حاصل ہے۔‘‘
موجودہ دور میں جمہوریت سب سے زیادہ قابل قبول نظام سیاست ہے، تاہم پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں سیاسی اور جمہوری رویوں کے فقدان اور سیاست دانوں کے انداز حکومت نے جمہوریت جیسے عوام دوست نظام ہائے حکومت کو عام آدمی کی نظروں سے گرادیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی پر بات کرنے سے پہلے ہمیں اس خطے کے رہنے والوں کی عمومی سوچ کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ یہاں مختلف تہذیبوں اور مزاج کے حامل لوگ آباد ہیں، جن کے اپنے رویے اور خیالات ہیں۔ اسی لئے علاقائی سیاست قومی سیاست کی منزل تک نہیں پہنچ پائی اور مختلف گروہوں میں منقسم اور شخصیت پرستی میں ڈوبی اس ریاست میں قومی قیادت کے فقدان نے مفاداتی سیاست کو جنم دیا، جس کے سبب پاکستان ابھی تک سیاسی عدم استحکام میں مبتلا ہے اور عوام بھی ہر حوالے سے عدم تحفظ کاشکار ہیں۔
مختلف تہذیبوں اور ثقافتی تفاوت نے ہمیشہ وطن عزیز میں جمہوریت کی گاڑی کو پیچھے کی طرف دھکیلا ہے۔ واضح رہے کہ جمہوریت کے بہترین نتائج معاشی خوش حالی اور فکری آزادی میں مضمر ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں عوام کو ریاست کی جانب سے معاشی تحفظ حاصل ہوتا ہے، وہاں جمہوریت کا پودا بہترین طریقے سے پروان چڑھتا ہے۔ تعلیمی ترقی، فکری آزادی اور معاشی تحفظ جمہوریت کی ترقی اور جمہوری نظام کے تحفظ میں کلیدی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں جب کہ جن ممالک میں معاشی اور تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے اور فکری بانجھ پن معاشرے میں پایا جاتا ہے، وہاں جمہوری نظام بھی خاطرخواہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکا اور پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے، جہاں جمہوریت کے ثمرات عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دُور ہیں اور صرف ایک مخصوص طبقہ ہی اس سے فیض یاب ہورہا ہے۔
اس سے مفر ممکن نہیں کہ بانی پاکستان قائداعظمؒ اور لیاقت علی خان کی نہایت ہی مختصر عرصے میں رحلت نے قیادت کا جو بحران پیدا کیا، وہ آج تک پورا نہیں ہوسکا، کیونکہ پھر جو لوگ قیادت کے دعویدار بن کر سامنے آئے، وہ صرف 
اور صرف ملکی خزانہ لوٹنے میں مصروف رہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس گندی سیاست نے آمریت کی راہ ہموار کی، آمریت کا جو سب سے بڑا نقصان ہوا، وہ یہی تھا کہ یہ اقتدار اور کرسی کے بھوکے سیاست دان سیاسی شہید بنتے رہے اور آمر انہی کو اپنے سامنے ڈھال بناتے رہے۔ یوں نام نہاد جمہوریت پروان چڑھتی رہی اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان ’’جمہوریتوں‘‘ کو ’’وقت کی اہم ضرورت‘‘ قرار دے کر ان کا تحفظ کرتے رہے۔ آئین اور انتخابات جو جمہوری نظام کی روح ہوتے ہیں، وہ بھی ان سیاسی مداریوں اور آمروں کے ہاتھوں کھلونا بنے رہے۔
آئین کبھی فیصل آباد کا گھنٹہ گھر قرار پایا تو کبھی اس پر من چاہے نظام کا ٹھپہ لگا کراسے یرغمال بنالیا گیا تو کبھی من چاہی ترامیم کرکے اپنی بدعنوانیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ یوں جمہوریت اور پاکستان کے عوام آئینی اداروں، سیاسی قیادت اور دیگر کے ہاتھوں مسلسل ذلیل ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کو جمہوری مہنگائی، آئینی غربت اور قانونی بے روزگاری گذشتہ ستر برس سے مسلسل ورثے میں مل رہی ہے۔ دوسری جانب علاقائی سیاست بھی برادری ازم کا شکار ہے، اس وجہ سے پاکستانی قوم قومیت کے عنصر سے بھی خالی نظر آتی ہے۔ قومیت جو جمہوریت کی آبیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ بھی علاقائیت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔
سیاسی اور قومی قیادت میں موجود جمہوری رویوں کے فقدان نے پاکستان میں ہمیشہ جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیا۔اس کے ساتھ ملک میں موجود شخصیت پرستی بھی جمہوریت اور جمہوری اداروں پر شب خون مارتی رہی۔ لیڈر کو فرشتہ سمجھنے والی اس قوم نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو چُنا، جن کے لئے سیاست اور اقتدار صرف اور صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہے، جس دن قوم نے قیادت کے لئے ایک کردار کا معیار مقرر کرلیا، اُس دن ملک میں موجود تمام سیاسی قیادت سیاست سے ہی کنارہ کشی کرلے گی۔ پاکستان آج اپنی سیاسی تاریخ کے جس موڑ پر کھڑا ہے، وہاں ان سیاسی مداریوں کے خلاف قوم کا ایک ہی یوٹرن جمہوریت کے لئے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اور اس سلسلے میں صرف اور صرف اہل دانش و فکر ہی اپنا کردار ادا کردیں، تو یہ قوم کے لئے کافی مددگار ثابت ہوگا۔ بلاشبہ جمہوریت ناگزیر ہے، لیکن اگر اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے تو یہ ایک بدترین طرز حکومت ہے، تاہم اگر یہ اپنے تمام تر لوازمات کے ساتھ موجود ہے اور عام آدمی تک اس کے فوائد پہنچ رہے ہیں تو پھر یہ ایک بہترین طرز حکومت ہے۔