01 دسمبر 2021
تازہ ترین

توقعات کی کہانی کا انجام… توقعات کی کہانی کا انجام…

امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ ’’توقعات کی کہانی کا انجام صرف دکھ ہوتا ہے۔‘‘ ابن العربی کہتے ہیں کہ ’’ناکام لوگ ہمیشہ دوسروں پر توقعات باندھتے ہیں۔‘‘ انسان کی زندگی کا حصول اس کی محنت اور لگن پر منحصر ہے۔ خواہشات کا پیدا ہونا کوئی غیر فطری عمل نہیں، مگر ایسے انسانوں پر توقعات باندھنا اور پھر ناکامی پر واویلا کرنا، یہ سوائے نکمّے پن کے کچھ نہیں۔ ہر خواہش پوری ہو، ایسا ممکن نہیں اور زندگی میں خواہش کے مطابق کچھ بھی میسر نہ آئے، ایسا بھی ضروری نہیں۔ انسان بنیادی طور پر ناشکری کی ہر منزل کا سفر بہت جلدی طے کرتا ہے اور ناکامی کا الزام دوسروں پر دھرنا اس کی اوّلین ترجیح ہوتی ہے۔ جب انسان کو زندگی میں کسی کامیابی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اگلی کسی کوشش میں مصروف ہوجاتا ہے۔ انسانی جبلت میں یہ داخل ہے کہ اللہ جب اسے ایک نعمت سے نوازتا ہے تو اس کے دل میں اس کی اہمیت کا احساس ختم ہوجاتا ہے اور پھر وہ مزید کی خواہش میں دن گزارنے لگتا ہے۔ بنیادی طور پر جب ہم یہ توقع کررہے ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ سب کچھ مل جائے جو ہمارا دل سوچے تو دراصل ہم فطرت کو چیلنج کررہے ہوتے ہیں، کیونکہ ایسا ہونا قدرت کے اصول و ضوابط کے برعکس ہے۔ 
بہت سے لوگ یہی سوچتے زندگی بسر کردیتے ہیں کہ انہیں زندگی کی تمام آسائشیں اور آسانیاں بغیر کسی ناکامی کا سامنا کیے میسر آجائیں۔ کامیابی بنیادی طور پر سب کچھ حاصل کرلینے کا نام کبھی بھی نہیں رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض کے حصے میں مال و دولت آتی ہے، جسے کچھ لوگ کامیابی گردانتے ہیں مگر وہی دولت مند اولاد جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کا کہیں حوالہ تک نہیں رہتا۔ جب آپ تمام کامیاب لوگوں کی بائیوگرافی پڑھتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ ان کو یہ کامیابی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی۔ آپ ایک لمحہ سوچئے کہ آج کے دور میں دنیا کے امیر ترین شخص کا مقام پانے والا بل گیٹس، جس کے نام کا ڈنکا پوری دنیا میںبجتا ہے، لیکن اس درجہ کامیابی کے بعد بھی اسے ازدواجی زندگی میں جن مسائل کا سامنا رہا، بقول بل گیٹس دو ڈالر یومیہ کمانے والا اپنے تنکوں کے گھر میں مجھ سے زیادہ خوش و خرم زندگی بسرکرتا ہے۔ کبھی غور کریں، معلوم ہوگا کہ خواہشات اور توقعات مرتے دم تک کسی کی پوری نہیں ہوتیں۔ ہم رشتوں میں سکون چاہتے ہیں اور اسے کامیابی تصور کرتے ہیں، جب ایسا ممکن ہوجائے تو ہمارا دل مطمئن نہیں ہوتا، ہم اس کے بعد کامیابی کا مرکز اچھی جاب یا عہدے کو بنالیتے ہیں۔ اگر شومئی قسمت ایسا بھی ہوجائے تو ہم دولت کی ریل پیل کو کامیابی کا نیا زینہ تصور کرتے ہوئے اس پر چڑھنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ 
فرض کیجیے ایسا بھی ممکن ہوگیا، تو دولت کی ریل پیل ہونے کے بعد آپ اگر صحت کے مسائل سے دوچار ہوجائیں تو آپ کو واحد کامیابی صحت مند زندگی نظر آئے گی۔ ایک لمحے اس پورے پہیے کو واپس گھمائیے۔ صحت مند زندگی تو آپ سب سے پہلی سیڑھی پر گزار رہے تھے، جب تمام رشتوں میں بھی سکون میسر تھا، لیکن آپ کا دل 
ایک جگہ رُکنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بے شک زندگی روانی کا ہی نام ہے، لیکن دوسری جانب زندگی قناعت پسندی کا بھی نام ہے۔ آپ کے پاس جو میسر ہے اس پر مطمئن ہوجانا اور اپنی سعی کرتے رہنا کہ معیار زندگی بہتر ہو، اپنی جگہ احسن عمل ہے۔ مسلسل کوشش اشرف المخلوقات کی پہچان ہے، لیکن اس مسلسل کوشش میں بھی جو پاس ہو، اس کا شکر ادا کرنا لازمی ہے، لیکن ہم ایسا کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور گلہ اپنی زندگی کی ناکامی کا واویلا کرکے کرتے ہیں۔ حالانکہ جہاں ہم اپنی زندگی کو کامیاب تصور نہیں کرپارہے ہوتے، اسی انداز کی زندگی پر ہزاروں لوگ مطمئن جی رہے ہوتے ہیں۔ ہماری امیدیں ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں، لیکن بسااوقات یہی امیدیں ہماری کامیابی میں بڑی رکاوٹ بھی بن جاتی ہیں۔ بے جا امیدیں انسان کو منزل سے دُور کرتے ہوئے دل میں حسد، بغض، ہوس کے پودے پروان چڑھانا شروع کردیتی ہیں۔ اور ہم غیر محسوس انداز میں ان پودوں کی آبیاری کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاشرتی رویے تناور درخت بن جاتے اور یہیں سے ہماری زندگی کی ریخت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ہم اپنی امیدوں اور حاصل میں توازن پیدا کرنے کی سعی کرنے کے بجائے اَڑیل گھوڑے کی طرح سرپٹ بھاگے جانے کو کامیابی تصور کرلیتے ہیں۔ 
توقعات اور امیدیں، دو ایسے ندی کے کنارے ہیں جو کبھی مل نہیں سکتے، لیکن ان کے درمیان ایسا ہی توازن برقرار رکھنا ہماری کامیابی ہے، جیسے ندی کے دو کنارے کبھی مل نہیں پاتے لیکن کوئی ایک کنارہ بھی دوسرے کے بنا مکمل نہیں 
ہوپاتا اور ندی بنتی ہی ان دو کناروں سے مل کر ہے۔ زندگی میں پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ توقعات کا امیدوں پر حاوی ہوجانا ہے۔ امید ایک روشنی ہے، لیکن بے جا توقعات ایسے گھپ اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں، جو اس روشنی کو گُل کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ میانہ روی، اور جو ہے، اس پر مطمئن ہونا، کامیابی کی سعی کرنا لیکن توقعات و امیدوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دینا ہی بنیادی طور پر کامیاب زندگی کی علامات ہیں۔ ہم زندگی کی کامیابی دوسروں کی کامیابی سے منسلک کیے رہتے ہیں اور اپنی زندگی کو جہنم بنالیتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی کامیابی پر خلوصِ دل سے ان کو سراہنے کے ساتھ اپنی سی سعی کرنا عادت بنالیں تو ناصرف معاشرے میں مثبت روش پروان چڑھنا شروع ہوجائے، بلکہ ہماری ذات میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوجائیں گی۔ بطور مجموعی یہ رویہ کہ فلاں کے پاس یہ کیوں ہے اور میرے پاس کیوں نہیں؟ ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یاد رہے کسی چیز، مقام یا مرتبے کی کوشش بُری بات نہیں، لیکن توقعات باندھ لینا کہ ہر حال میں کامیابی ہوگی تو ایسی صورت میں وہ توقعات ہمیں حسد میں مبتلا کردیتی ہیں، جو ہماری ذات کو پستی میں دھکیلنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ 
رویوں میں منفی تبدیلی ناصرف کامیابی کو دُور کردیتی بلکہ انسان سے جڑی معاشرے کی دیگر اکائیاں بھی مسائل کا شکار ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً خاندانی مسائل، کاروباری الجھنیں، نفسیاتی عارضے بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں اور ان کا بڑھنا معاشرے کو بھی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسلام انسان کو کوشش کا حکم دیتا ہے، کامیابی یا ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر انسان کوشش کے عمل کو روک دے تو زندگی ایسی ساکت جھیل کی مانند ہوجاتی ہے، جہاں کائی جمنے سے بدبو پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جو اردگرد کے ماحول کو بھی بدبودار بنادیتی ہے۔ زندگی کی کامیابی یہی ہے کہ ہم توقعات و امیدوں کو مشعل راہ ضرور بنائیں، لیکن یہ کوشش سے پہلے ہی طے نہ کرلیں کہ ہماری ہر امید ہماری توقع کے مطابق پوری ہوگی۔ بدقسمتی سے آج کا نوجوان توقعات اور خواہشات سے لبریز زندگی کا عادی ہوچکا۔ تھوڑی سی ناکامی پر دل برداشتہ ہوجاتا اور خودکشی ایسے حرام فعل کو اپنالیتا ہے۔ دنیا کی تیز رفتاری نے اس کے اندر غور و فکر، تدبر اور سوچ بچار کی روح یکسر ختم کردی ہے۔ درحقیقت یہی وہ عناصر ہیں جو انسان میں خواہشات کو پنپنے سے روکتے ہیں۔