01 دسمبر 2021
تازہ ترین

سچ کی فوقیت سچ کی فوقیت

ملک میں مافیاز کا ہولڈ ہے۔ مافیا جہاں چاہتا، جس سیکٹر کو چاہتا لوٹ لیتا ہے اور ہمارا نظام ان مافیاز کے مدمقابل بے بس اور مجبور ہوجاتا ہے۔ جرائم نے عام پاکستانی کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ اوپر سے مہنگائی اور چور بازاری عروج پر ہے۔ ان سب بحرانوں کا ایک ہی حل ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ ادارے مضبوط، آزاد اور فعال ہوں۔ ہمارے زمانے میں یہ ملک عظیم بن رہا تھا۔ 60 کی دہائی میں جب میں بڑا ہورہا تھا۔ ہماری جو بیوروکریسی تھی، وہ پورے ایشیا میں نمبرون سمجھی جاتی تھی۔ اس کا ایک معیار تھا، پھر آہستہ آہستہ ہم دوسرے راستے پر چلے گئے، جو ہماری تباہی کا راستہ تھا۔ پھر ہماری اخلاقیات آہستہ آہستہ تباہ ہوتی چلی گئیں۔ آہستہ آہستہ ہمارا زوال کا دور شروع ہوگیا۔ 
تیسری دنیا کے غریب ممالک میں جو چیز مشترک ہے وہ بدعنوانی ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کے امیر ترین اور ترقی یافتہ ممالک دیکھ لیں، ان میں ایک دوسری قدر مشترک ہوگی اور وہ یہ کہ ان میں انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت اور اخلاقی قوت بدرجہ اتم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک ہر چھوٹے بڑے، کالے گورے کو انصاف فراہم کرنا اہم ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقیات نہ ہوں وہ معاشرہ انصاف بھی نہیں کرسکتا۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث پاک ہے کہ ’’تم سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں۔ ان کی تباہی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان میں طاقتوروں کے لئے ایک قانون تھا اور کمزوروں کے لئے دوسرا قانونِ تھا۔‘‘ 60 کی دہائی سے ہمارا قومی اخلاق گرنا شروع ہوا اور اب ہوتے ہوتے ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ اخلاقیات کے ساتھ ہمارا معاشی نظام بھی دن بہ دن گرتا جارہا ہے۔ اخلاقی طور پر انحطاط پذیر ممالک میں کسی نہ کسی سچے آدمی کو سچ پر کھڑے ہوجانا چاہیے۔
قارئین یہ الفاظ کسی اور کے نہیں۔ وزیراعظم 
عمران خان کے ہیں، جو انہوں نے چند ہفتے قبل پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 44 ویں خصوصی تربیتی پروگرام کی تقسیم اسناد و اعزازات تقریب سے اپنے صدارتی خطبہ میں کہے۔ وزیراعظم کو اندازہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقیات کے میدان میں کس طرح روز بروز پسپا ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں ہر طبقہ فکر کو ہنگامی بنیادوں پر اخلاقیات کے قیام اور ترویج کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں۔ انحطاط، زوال اور ناقدری و بے قدری کے اس زمانے میں بھی مایوسی کفر ہے، کیونکہ ان حالات میں بھی فرزندان پاکستان میں بڑے بڑے باصلاحیت، قدرشناس، قدردان، حق شناس، معاملہ فہم، ذمے دار اور قابل لوگ موجود ہیں، جو ناصرف موجودہ نسل کی آبیاری کررہے بلکہ آنے والی نسلوں کی تیاری بھی انہی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے نصب العین سے کررہے ہیں۔ 
اگر ایک استاد اپنے شاگردوں کو دنیا کے قابل ترین انسان قرار دے کر انہیں اخلاقیات کے جس پہلو پر بھی کاربند رہنے کی تلقین کرتا ہے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ شاگرد تمام زندگی اخلاقیات کے اس سبق کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ اس تقریب سے خطاب میں ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمر رسول کا کہنا تھا کہ سچ فقط سچ ہے اور ہم نے اپنے تربیت یافتگان کو ایک نقطہ بطور سبق دیا ہے کہ سچ پر قائم رہنا ہے۔ انہوں نے سورہ انفال کا بھی حوالہ دیا کہ جو لوگ سچ پر قائم رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صدیقین میں شمار فرماتا ہے۔ بعدازاں ان چالیس تربیت یافتگان میں سے ٹاپ کرنے والی کوئٹہ کی فروابتول کو انعام بھی دیا گیا۔ تقریب میں دیگر آفیشلز کے ساتھ اعلیٰ ترین اساتذہ، پرنسپلز اور سابق بیورو کریٹس بھی شریک تھے۔ سب نے نئے بیورو کریٹس کو ملک وقوم کی خدمت کا مشورہ دیا۔ راقم الحروف نے موجودہ ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمررسول موصوف کو اس سے قبل متعدد اداروں کی سربراہی کرتےدیکھا ہے، وہ ہر حال میں دیانت، خدمت اور اصول پسندی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اس تقریب کے دوران بتایا کہ حق، سچ اور اخلاقی جرأت کا سبق لے کر جانے والے ان سول  افسران میں ملک بھر کے تمام صوبوں اور ثقافتوں کی نمائندگی شامل ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ آج کا دور ایک جدید دور ہے۔ ان آفیسرز کی تربیت میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیونیکیشن کی مہارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارت، تعلقات عامہ کی جدید ترین مہارت اور سماج کی جدید خطوط پر تشخیص کی مہارت سے لیس کرکے ملکی تاریخ کی مختلف اور جدید بیوروکریٹس کی یہ کھیپ میدان میں اتاری گئی ہے۔ دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں جس طرح بیوروکریٹس کو مہارت دے کر محکموں میں بھیجا جاتا ہے، یہ تربیت یافتہ افراد بھی سابقہ تربیت یافتگان سے یکسر مختلف ہیں۔ 
پوری قوم صدق دل سے یہ چاہتی ہے کہ ان کے ملک کو چلانے والی مشینری (بیورو کریسی) بھلے کتنی ہی مراعات حاصل کرتی رہے، لیکن اس کے مقابلے میں قوم کو ڈیلیور بھی تو کرے۔ کاش کہ دنیا کے شماریاتی اور اعدادوشمار اکٹھے کرنے والے ادارے آئندہ ایک دو سال میں یہ رپورٹ بھی دیں کہ جو مراعات پاکستانی حکومتی اور سرکاری مشینری حاصل کررہی ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ قوم کو ڈیلیور بھی کررہی ہے۔ کاش کہ پوری قوم صرف ایک نکتے پر متفق ہو جائے کہ صرف سچ کو اولیت اور فوقیت دی جائے گی۔ ایسا کرنے سے یقیناً ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔