01 دسمبر 2021
تازہ ترین

عدالتیں اور مقدمات عدالتیں اور مقدمات

ام رباب نامی لڑکی نے ضلع دادو (سندھ) کی ایک عدالت میں سوال اٹھایا ہے کہ وہ چار سال سے انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کے چکر لگارہی ہیں، انہیں بتایا جائے کہ مزید کتنا وقت لگے گا۔ ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو 2018  میں ان کے گھر کے باہر گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ام رباب نے اپنے گھرانے میں ہونے والے تہرے قتل کی رپورٹ چانڈیو قبیلے کے سرداروں پر عائد کرنے کے لئے پولیس سے رجوع کیا تھا، لیکن پولیس کی کیا مجال تھی کہ چانڈیو قبیلے کے سردار برادران (جو پیپلز پارٹی کے اراکین سندھ اسمبلی ہیں) کے خلاف رپورٹ درج کرتی۔ ام رباب کو جو خود بھی چانڈیو ہیں، مختلف عدالتوں سے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ تک سے رجوع کرنا پڑا تھا، جس کے بعد عدالت کے حکم پر پولیس نے چانڈیو سردار، سردار خان اور ان کے بھائی برہان خان کو ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا تھا۔ ام رباب نے جمعہ کو ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو میں کہا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور گواہوں پر گواہی تبدیل کرنے کے لئے دبائو بھی ڈالا جارہا ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس لئے انہیں بتایا جائے کہ انہیں کب تک انصاف فراہم کیا جائے گا، کیوںکہ وہ چار سال سے عدالتوں کے چکر لگارہی ہیں، لیکن مقدمہ نہیں چلایا جارہا۔ ام رباب نے واقعتاً عدالتوں کے چکر لگا لگا کر زمین ناپ ڈالی ہے۔ مقدمے کی سنجیدہ سماعت کے بارے میں وہ پھٹ پڑی تھیں۔ ام رباب نے اپنے والد، دادا اور چچا کی لاشیں خون میں لت پت دیکھی ہیں اور انہوں نے لاشوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دلائیں گی۔
ام رباب ایک لڑکی ہیں۔ انہوں نے پہلے تو 
قاتلوں کو تلاش کیا، اس کے بعد دادو سے اسلام آباد تک وہ انصاف کے لئے دوڑ رہی ہیں۔ تھرپارکر کے دودو بھیل قتل کیس، ضلع ٹھٹھہ کے ناظم جوکھیو قتل کیس، دادو کی فہمیدہ سیال قتل کیس وغیرہ حال ہی کے مقدمات ہیں، جن میں مبینہ ملزمان اور پولیس کی جانب سے تاخیری حربوں نے مقتول کے لواحقین کی اس قدر ہمت شکنی کی ہے کہ خطرہ ہے، کہیں وہ سمجھوتوں پر مجبور نہ ہوجائیں۔ امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب کے عدالتی نظام میں کیا خوبی ہے کہ وہاں مقدمات کے فیصلے غیر ضروری تاخیر کے بغیر ہوجاتے ہیں، اگر ان ممالک کے عدالتی نظام میں اچھائیاں ہیں تو انہیں پاکستان میں بھی نافذ کیا جائے۔ مقدمات کی بھرمار کے باعث فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر ہورہی ہوتی ہے۔ اس سے سب سے زیادہ متاثر وہ فریق ہورہا ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا یا ناانصافی ہوئی ہے، اس لئے اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے، لیکن پولیس کی جانب سے تاخیری حربوں کے علاوہ معاشرتی دبائو 
متاثرین کو مجبور کردیتا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ واپس لے لیں۔ قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ لاہور میں ایک بااثر شخصیت کے بیٹے سے سڑک پر حادثے میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ ہلاک شدہ نوجوان کی والدہ کا سوشل میڈیا پر بیان وائرل ہوا تھا کہ وہ مقدمہ لڑنا نہیں چاہتیں، کیوں کہ ان کی تین جوان بیٹیاں ہیں اور انہیں دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ ایسے معاملات سے لوگوں کا دن رات واسطہ پڑتا ہے اور انہیں افسوس ہوتا ہے کہ ان کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے۔
عاصمہ جہانگیر کی یاد میں ہونے والی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ میں اگر اپنی سپریم کورٹ کے بارے میں کہوں تو میرے سارے سپریم کورٹ کے ججز پوری تندہی کے ساتھ، اضافی وقت لگاکر محنت سے کام کررہے ہیں اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی، بنیادی حقوق کی فراہمی اور قانون کی عمل داری اور ایک جمہوری ملک کی خوش حالی کے لئے مستقل کام کررہے ہیں۔ میری ماتحت عدلیہ بھی محنت اور لگن کے ساتھ لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے، ان کے جو مقدمے ہیں ان کو سنتے ہیں اوراس پر قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں۔ اگر کسی کے مقدمے میں کسی کو اعتراض ہوتا ہے تو اس کا قانونی حق ہوتا ہے کہ وہ اس کو چیلنج کرے۔ 
چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے کہا کہ علی احمد کُرد نے کچھ باتیں کہی ہیں، جس کے بارے میں ذکر کرنا بہت ضروری ہے، لوگوں کوکسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ عدلیہ کے ادارے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے یہ مجھ پر لازم ہے کہ جہاں تک بن سکتا ہے میں ان باتوں کا کسی حد تک جواب دوں۔ سب سے پہلی بات کہ جو علی احمد کرد نے اگر میری عدالت کے بارے میں کوئی بات کہی ہے تو میں بالکل اس سے اتفاق نہیں کروں گا۔ میں نے کبھی کسی ادارے کا کوئی دبائو نہیں لیا اور نہ میں نے کبھی کسی ادارے کی بات سنی۔ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کریں۔میں اپنے ادارے کے بارے میں بات کرتا ہوں، لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں، انتشار نہیں پھیلائیں، اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں، یہ کام نہیں ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ملک پاکستان ہمارے لئے قائم ودائم ہے اور قائم ودائم رہے گا اوراس میں قانون کی حکمرانی ہے، انسانوں کی حکمرانی نہیں۔