01 دسمبر 2021
تازہ ترین

زوال… زوال…

یہاں کچھ بھی نہیں بدلا، حالات اور نہ تحریریں، ہم وہی کچھ لکھتے آرہے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے لکھ رہے ہیں، صرف عنوان اور تاریخ بدل رہی ہے، باقی سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں پی ایچ ڈی، ایم فِل، ماسٹر اور گریجویشن کرنے کے بعد بھی نوجوان نسل کوئی ڈھنگ کی جاب یا کام نہ ملنے کی شکایت کررہی اور ذہنی مریض بن رہی ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور اداروں کی کارکردگی پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے، جن عوام کے لئے آزادی ایسی نعمت ہزاروں جانوں، مال و متاع اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کے نتیجے میں حاصل کی، وہ عوام آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اپنے بنیادی حقوق کے لئے رُسوا ہورہے ہیں۔ ایک الگ مملکت کی ضرورت کا بنیادی مقصد ایک ایسا خطہ حاصل کرنا تھا، جہاں خوش حالی، امن و سکون کے ساتھ آزاد فضا میں اپنے تمام افعال آزادی کے ساتھ ادا کیے جاسکیں۔ بانیٔ پاکستان کے پیش نظر یہی عوام کے مسائل تھے، لیکن بانیٔ پاکستان کی زندگی میں اور ان کی رحلت کے فوری بعد ایسے گروہ اس ملک کے اقتدار، پالیسی سازی کے اداروں اور تعلیم کے شعبے پر قابض ہوگئے، جنہوں نے عوام کو ایسے ’’نظریات کے خوش نما باغ‘‘ دکھائے کہ وہ باغ نہ اُگ سکے اور نہ ہریالی نظر آئی، مگر ملک ہر لحاظ سے بنجر بنتا گیا، اس وقت ہم ذہنی بنجرپن کا اعلیٰ نمونہ بن کر رہ گئے ہیں، جہاں عقل اور شعور کے سوتے نہیں پھوٹتے، بلکہ ذہنی وصوتی آلودگی کے نظارے اور مظاہرے بہرحال ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ 
جہاں 60 فیصد ملکی عوام کو روزگار کے مسائل، 40 فیصد سے زائد کو صحت اور آدھی سے زیادہ آبادی کو تعلیم اور نصف ہی آبادی کو رہائش کے مسائل نے جکڑ رکھا ہو، وہاں کسی ’معاشی و اقتصادی نظریے‘ کے احیا کا دُور دُور تک نشان نظر نہیں آتا جب کہ اس کے برعکس ان نظریات کا فروغ روز افزوں ہے، جو ان سب مسائل کی جڑ ہیں۔ عوام کے مسائل کے دفاع یا حل کے بغیر ’’تبدیلی کے اکٹھ‘‘ کے اکٹھ گلی گلی محلے محلے، سمجھ سے بالاتر ہیں۔
خوشی جیسی انمول نعمت (جو کئی لوازمات کا مجموعہ ہے) سے ہم محروم کردئیے گئے ہیں۔ کسی بھی قوم کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ’’خوشی اور اطمینان‘‘ کا بہت اہم کردار ہے۔ اور یہ خوشی اور اطمینان ویژنری قیادت میں قائم حکومتیں عوام کو مہیا کرسکتی ہیں، جو منصوبہ بندی کرتے ہوئے عوام کی خوشی کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں، فنون لطیفہ کے اداروں کا جال بچھایا جاتا ہے، جدید تعلیم کا فروغ اور بہتر ہیلتھ کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، اس کے برعکس یہاں تعلیم، ہیلتھ اور فنون لطیفہ کا کیا حال ہے، یہ بات کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ بے بسی اور مایوسی کا عالم دیکھیے کہ ہماری قوم خوشی اور تبدیلی بھی چاہتی ہے تو کیسی؟ ’’بس اتنا ہی چاہتے ہیں کہ پانی کے کولر اور مٹکے کے ساتھ رکھا گلاس زنجیروں میں جکڑا نہ ہو، سجدہ کرتے ہوئے اس کا دھیان جوتوں کی چوری کی طرف نہ ہو، دو وقت کی روٹی کی خاطر کسی کو اپنی عصمت نہ بیچنی پڑے، کسی معصوم کے کاندھے پہ بوٹ پالش کا باکس نہ ہو، کوئی بڑا انقلاب، کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے۔‘‘
7 دہائیوں بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ عوام بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، اپنی چھت کاتو خواب بھی نہیں دیکھ سکتے، انسانی جان و مال عدم تحفظ کے شکار ہیں، روزگار کے دروازے بند ہیں، مہنگائی کے باعث خودکشیوں اور جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جب کہ معاشی دہشت گردی ایک اضافی بوجھ بن کر ملک اور معاشرے پر مسلط ہے، جس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں عوام ہی ہار رہے ہیں، مگر قومی سطح پر ابھی تک ہم معاشی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ بناسکے، یوں لگتا ہے جیسے یہ جنگ صرف غریب عوام کی ہے اور انہوں نے ہی لڑنی ہے اور وہی اس کا لقمہ بن رہا ہے۔
آزادی کے بعد گزشتہ سات دہائیوں سے سیاسی حکمراں ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے سیکڑوں سکیمیں، پروگرام اور منصوبے لاچکے ہیں۔ صورت حال میں کچھ تبدیلی ضرور آئی، لیکن غربت کی جو مجموعی صورت حال تھی، وہ کم و بیش آج بھی پہلے کی طرح اپنی جگہ موجود ہے، گذشتہ سات دہائیوں میں تمام سکیموں، حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کے باوجود ملک کے 70 فیصد عوام غریب ہی رہے۔ اسی مدت میں، انڈونیشیا، ملائیشیا، چین، کوریا اور تھائی لینڈ بلکہ بنگلادیش جیسے ایشیائی ملکوں نے غربت کے خاتمے میں زبردست کامیابی حاصل کی اور اب ان ممالک کا دنیا کے کامیاب ملکوں میں شمار ہورہا ہے۔ آزادی کے بعد سیاست پر شہروں کے امیر طبقے اور گاؤں کے زمیندار، جاگیرداروں، وڈیروں اور پیروں کی مکمل اجارہ داری قائم ہوگئی۔ سیاست اس طبقے کے ذاتی مفاد کی تکمیل کا ذریعہ بن گئی۔
پاکستان میں ایک نیا سیاسی حکومتی طبقہ بادشاہوں اور انگریزوں کے سامراجی دور سے بھی زیادہ طاقتور اور دولت مند بن گیا۔ ریاستی اور قومی سطح کے کئی سیاسی رہنما اتنے طاقتور اور دولت مند ہوچکے ہیں کہ ماضی میں بڑے بڑے شہنشاہوں کے پاس اتنی طاقت اور دولت نہیں ہوا کرتی تھی۔ نئی نسل کے ان نئے سیاسی بادشاہوں نے جمہوری نظام کا سب سے زیادہ استحصال کیا۔ ملک کا سیاسی نظام اب ایک مختلف ڈگر پر ہے۔ ملک کی بے چین اکثریت طویل عرصے سے موثر جواب دہ، فیصلہ کن طرز کے نظام کی خواہاں ہے، جس کی امید انہیں کہیں نظر نہیں آتی۔ پی ٹی آئی ہو یا کسی بھی پارٹی کی جمہوری حکومت، ایسا کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا گیا، جس سے عوامی مسائل کے خاتمے یا انسانی وسائل میں کوئی ترقی ہوتی ہوئی نظرآئی ہو۔
جمہوری حکمرانوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو مستقبل کا پاکستان کیسا ہونا چاہیے، کے بارے میں چنداں فکر نہیں۔ حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی تمناؤں اور خوابوں کی نمائندگی کررہے ہیں، لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، بدلتی ہوئی دنیا کے جدید تقاضوں کا انہیں فہم و ادراک ہے یا نہیں۔
مہنگائی، بے روزگاری، صحت عامہ کی بدترین صورت حال، تعلیم کی جگہ پر جہالت، گھر گھر قیامت برپا کررہی ہے، جمہوری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈتی ہیں، مگر یہ جمہوری حکمران عوام سے ریلیف بھی چھین رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ عفریت غریبوں کا خون خشک کررہا ہے، مہنگائی کا گراف بہت ہی بلند ہے، خورونوش کی اشیا قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں، غریب کی پریشانیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں، لوگوں کو ابھی دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہورہا، عوام کی محرومیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ لاکھوں خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔
مہنگائی کے باعث ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ملک میں لاکھوں محنت کش بے روزگار ہیں، ملک کا 45 فیصد پڑھا لکھا طبقہ بے روزگار ہے، اگر مہنگائی کو قابو نہیں کیا جاسکتا تو پھر تنخواہیں اس قدر بڑھائی جائیں، تاکہ غریب عوام زندہ رہ سکیں۔ المیہ دیکھئے سات دہائیوںکے بعد بھی ہماری بے حسی میں کوئی فرق نہیں آیا اور ہم آج بھی سوچ کے اس زاویے پر ہیں جہاں ماضی میں تھے، ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے ملک حاصل کرنے کا مقصد پالیا ہے؟ آج جس مقام پر ہم ہیں، ہم نے یہی راستہ چنا تھا، ہمیں یہاں پہنچنا ہی تھا۔ ہماری سوچ، ثقافت، تہذیب، تعلیم، یہاں تک کہ پورا نظام گزشتہ ساٹھ ستر برسوں سے مسلسل زوال پذیر ہے۔ یہ زوال ہی اب ہمارا ورثہ ہے، جس پر ہمیں فخر بھی ہے۔