30 نومبر 2021
تازہ ترین

علاج زخم دل۔ رخسانہ نور اور بینا گوئندی! علاج زخم دل۔ رخسانہ نور اور بینا گوئندی!

آج کے کالم کا آغاز بینا گوئندی کے اس شعر سے:
نہ چہرہ ہی بدلتا ہے، نہ وہ تیور بدلتا ہے 
وہ ظالم صرف اپنے ہاتھ کا پتھر بدلتا ہے
شاعروں اور شاعری کے شدید قحط الرجال میں بہت عرصے کے بعد کوئی بہت اچھا شعر دیکھا اور وہ بھی ہماری پیاری اور خوبصورت دوست بینا گوئندی کی جانب سے میرے ایک درد دل سے لکھے کالم کے کمنٹس میں۔ بینا گوئندی کا یہ شعر میرے دل میں تیر ہوچکا۔ بینا اور ان کے شوہر حامد محمود سے میرے مراسم بہت پرانے ہیں۔ ان مراسم کا سبب مسلم لیگ ہاؤس کے خوبصورت آڈیٹوریم میں برسوں قبل ہونے والا ایک سیمینار تھا۔ اس سیمینار کا موضوع اردو زبان کا دنیا بھر میں پرچار اور پاکستانی ثقافت کی ترویج تھا۔ اس کے روح رواں بیرون ملک سے آئے فاروق نامی اوورسیز پاکستانی تھے۔ سٹیج پر جو اشخاص بیٹھے تھے، وہ صرف خوشامدی باتیں کررہے تھے۔ جب مجھے تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تو میں نے پاکستانی ثقافت کی بدحالی اور بالخصوص پچھلے دور میں پی ٹی وی کے چیئرمین سے متعلق بات کی تو منتظمین کو شدید تکلیف ہوئی۔ میری اس بات نے ان کو اور تکلیف پہنچائی کہ اردو اور بنگالی کے جھگڑے نے مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ کردیا تھا اور اب ہمیں پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کی ترجمانی کرنا ہوگی اور کسی ایک زبان کو لاگو کرنے کی ضد پاکستان کے لئے خطرناک ترین ہوسکتی ہے۔ جب میں نے نہایت احترام سے بیرون ملک سے آئے فاروق نامی پاکستانی سے گزارش کی کہ ہمیں پاکستان کی ثقافت کی بیرون ملک ترویج ضرور کرنی چاہیے، لیکن زبان کے حساس مسئلے کو نہیں چھیڑنا چاہیے کہ بیرون ممالک میں بھی ہر زبان بولنے والے پاکستانی مقیم ہیں اور پھر جب میں نے حاضرین سے مخاطب ہوکر یہ کہا تھا کہ ہمیں ایسی تقریبات صرف ’’فوٹو شوٹس‘‘ کے لئے منعقد کرنے کے بجائے انہیں بامقصد بنانا ہوگا تو فوراً سٹیج سے ایک لڑکی آئی اور اس نے ایک چٹ مجھے دی، جس پر لکھا تھا کہ آپ اپنی تقریر ایک منٹ میں ختم کردیں۔
اس چٹ نے مجھے اشتعال دلادیا تھا کہ اس سے پہلے میں فضول قسم کے لوگوں کی اناپ شناپ سن چکا تھا۔ میں نے فوراً ہی یہ کہہ کر اپنی تقریر ختم کردی تھی کہ ہمارا یہی المیہ ہے کہ ’’ہم سچ بولنا تو دُور سچ سننے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔‘‘ جب میں سٹیج سے اپنی تقریر دخل اندازی کی وجہ سے ادھوری چھوڑ کر نیچے آیا اور ہال سے نکل رہا تھا تو ایک شخص نے مجھے روکا اور کہا کہ آپ ایسے نہیں جاسکتے اور مجھ سے درخواست کی کہ آپ نے بات کرکے جانا ہے۔ جب سب چائے پی رہے تھے تو مجھے معلوم ہوا کہ ان صاحب کا نام حامد محمود ہے اور وہ محترمہ بینا گوئندی کے شوہر ہیں، وہاں پر ہی میری ملاقات بینا سے ہوئی تھی اور وہ بہت محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔ یقین جانیں کہ اس تقریب میں میری تقریر میں دخل اندازی کے بعد جتنا میرا مزاج خراب تھا وہ حامد محمود اور بینا گوئندی سے ملنے کے بعد خوش گوار ہوگیا تھا۔
بینا اور ان کے شوہر کے لئے میرے دل میں احترام اور عزت کا بے پناہ اضافہ چند سال قبل اُس وقت ہوا جب رخسانہ نور امریکہ گئیں اورپھرمعلوم ہوا کہ وہ کینسر کے باعث شدید علیل ہوگئی ہیں۔ رخسانہ نور سے میرا بہنوں جیسا رشتہ تھا۔ چونکہ رخسانہ خود بہت محنتی تھیں اور انہوں نے اوائل عمر میں ہی صحافت اور افسانے میں بھرپور محنت سے اپنا مقام بنالیا تھا، اس لئے وہ اچھا لکھنے اور بولنے والوں کی قدر کیا کرتی تھیں۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ رخسانہ نور شدید بیمار ہیں تو میں نے امریکہ میں بینا گوئندی کے سیل فون پر کال کی اور رخسانہ نور کی خیریت دریافت کی تو وہ بہت پریشان تھیں اور انہوں نے قریباً روتے ہوئے کہا کہ ’’کاشف صاحب پلیز دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ رخسانہ نور کو شفا عطا فرمائے، اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ پھر جتنا عرصہ رخسانہ نور امریکہ میں رہیں، میں قریباً روزانہ وہاں فون کیا کرتا تھا اور رخسانہ کے بچوں سے بات ہوتی اور میں خیریت معلوم کرلیا کرتا اور پھر رخسانہ جیسی شوہر پرست اور ہمدرد و صاف گو خاتون کی صحت یابی کے لئے دعا کیا کرتا۔ اس تمام عرصہ میں میری بات رخسانہ کے بچوں سے تو بلا ناغہ روزانہ ہوتی، لیکن بینا گوئندی سے کم کم ہی بات ہوپاتی۔ ایک دن میں نے رخسانہ نور کی بیٹی سے پوچھا کہ ’’بینا آنٹی سے بات کیوں نہیں ہوتی‘‘ تو اس کا جواب تھا کہ ’’انکل آنٹی ماما کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔‘‘ امریکہ جیسے مصروف ترین ملک میں بینا اور ان کے شوہر حامد کی رخسانہ نور سے محبت اور شدید علالت کے دوران تیمارداری کی مثال آج کے مادی دور میں تو ناپید نظر آتی ہے۔
پھر ایسا ہوا کہ رخسانہ نور صحت یاب ہوگئیں اور کچھ عرصہ امریکہ میں گزار کر پاکستان واپس آگئیں۔ رخسانہ نور جب پاکستان واپس آئیں تو ایک دن ان کا میسیج آیا کہ ’’کاشف صاحب میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ روزانہ میری خیریت دریافت کرتے رہے۔‘‘ رخسانہ نور نے ایک بات اور کہی تھی جو اپنے اندر زمانے بھر کا درد سمیٹے ہوئے تھی کہ ’’جب انسان 
مصیبت یا تکلیف میں ہوتا ہے تو جنہیں ہم سب کچھ سمجھتے ہیں، ان کا اصل بھی تب ہی کھلتا ہے۔‘‘ اس کے بعد رخسانہ نور بہت بہتر ہوگئی تھیں۔ ایک دن میرے کسی پروگرام کو دیکھ کر رخسانہ نور نے مجھے فون کیا اور بولیں، ’’کاشف صاحب میں آپ کی اس لئے بہت عزت کرتی ہوں کہ آپ نے چھوٹے چینلز پر رہ کر بھی بڑا نام کمایا اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے مافیاز کا للکارتے ہیں۔‘‘ یہ بات رخسانہ نور کی صاف دلی کا مظہر تھی جو مجھے ان کا گرویدہ کرگئی تھی۔ پلاک کی ڈی جی صغریٰ صدف نے لاہور کے آواری ہوٹل میں اپنے کالموں کی کتاب کی تقریب رونمائی رکھی تھی اور انہوں نے نہایت احترام و محبت سے مجھے اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا تھا۔ جب میں اس تقریب میں پہنچا تو بہت سے مہمان وہاں موجود تھے اور سید نور بھی وہاں ہی دکھائی دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد سید نور ہال سے رخصت ہوگیا، جس کے کچھ دیر بعد رخسانہ نور تقریب کے ہال میں پہنچیں۔ چونکہ رخسانہ کی نشست میرے برابر تھی تو انہوں نے بیٹھتے ہی سلام و دعا کے بعد پوچھا کہ ’’کیا میں نے شاہ جی کو دیکھا ہے؟‘‘میرا جواب تھا کہ ’’ہاں میں نے دیکھا تھا لیکن قریباً 30 منٹ قبل وہ ہال سے چلاگیا تھا‘‘ اس پر رخسانہ نور کا جواب آج بھی مجھے یاد ہے کہ ’’کاشف صاحب آپ میری نشست پر کسی اور کو مت بیٹھنے دیجیے گا، میں ذرا شاہ جی کو دیکھ کر آئی۔‘‘ تھوڑی دیر بعد رخسانہ نور واپس آئیں اور اپنی نشست سنبھالنے کے بعد بولیں کہ ’’شاہ جی نہیں ملے۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ وہ جاچکے ہیں‘‘  تو وہ خاموش ہوگئیں۔ تھوڑی دیر بعد خود ہی گویا ہوئیں کہ ’’کاشف صاحب میں شاہ جی سے عشق کرتی ہوں‘‘ ..میں تقریب میں شریک ہوتے ہوئے بھی یہ سوچتا رہا کہ یہ عورت کتنی شوہر پرست ہے۔ 
کچھ عرصہ بعد ہی ایک شام اس کا فون آیا کہ میں آج پلاک میں بہت عرصے بعد ایک تقریب میں آئی ہوں، اگر آپ آسکیں تو ملاقات ہوجائے گی، لیکن یہ ملاقات قسمت میں نہیں تھی کہ میں بھی اس دن شدید بیمار تھا اور پھر چند دنوں بعد ہی رخسانہ نور کے انتقال کی خبر آگئی۔ یہ شعر رخسانہ نور کی محرومیوں پر پورا اترتا ہے۔
ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے
لیکن اس حساس، ہمدرد اور خوبصورت دل رکھنے والی عورت رخسانہ نور کی محرومیوں کے گہرے زخم طویل مسافت کے بعد بھی بھر نہ سکے اور وہ اپنے ہمدرد اور پیار کرنے والوں کی تمام تر دعاؤں کے باوجود بہت جلدی قبر میں پہنچ گئیں۔