01 دسمبر 2021
تازہ ترین

چودھری رحمت علی، محسن پاکستان! چودھری رحمت علی، محسن پاکستان!

جنوری کی یخ بستہ اور تاریک شب کے دوران 114 ہیری ہٹن روڈ پر مسٹر ایم سی کرین کے گھر میں مقیم ادھیڑ عمر کرایہ دار موسم کی شدت سے بچاؤ کے لئے ضروری لباس پہنے بغیر چہل قدمی کی خاطر گھر سے باہر چلا گیا، واپسی پر وہ بخار میں مبتلا ہوگیا۔ 29 جنوری کو نمونیہ میں مبتلا اس مریض کو شدید بیماری کی حالت میں کوایولائن نرسنگ ہوم میں داخل کرادیا گیا، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق روبہ صحت نہ ہوسکا اور آخرکار وہیں 3 فروری 1951 کو صبح وہ غریب بوڑھا اس دار فانی سے ہمیشہ کوچ کرگیا۔ 17 روز تک سرد خانے میں ہم وطن اور ہم مذہب لوگوں کا انتظار کرتے کرتے بالآخر 20 فروری، 1951 کو دو مصری طلبہ نے اس غریب الوطن کے جسد خاکی کو انگلستان کے شہر کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی- 8330 میں لاوارث کے طور پر امانتاً دفن کردیا اور پاکستان کا نام تجویز کرنے والا یہ مردِ مجاہد اپنی تجہیز و تکفین کی مد میں 200 پونڈ کا قرض کندھوں پر لئے سات دہائیوں بعد آج بھی یوں ہی دیار غیر میں چند گم نام قبور کے درمیان امانتاً دفن ہے۔
پاکستان کا نام تجویز کرنے والا، پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی پاکستانی کہلوانے والا آزادی کے لئے now or never’’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘ نامی شہرۂ آفاق پمفلٹ لکھنے والا، آزادی کے فوراً بعد اقوام عالم کے سامنے کشمیر کا مقدمہ لڑنے والا، جی ہاں میری مراد 16 نومبر، 1897 کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے گاؤں موہراں میں ایک متوسط زمیندار حاجی شاہ گجر کے ہاں پیدا ہونے والا پروانہ حریت چودھری رحمت علی ہیں۔ ابتدائی تعلیم مکتب سے جب کہ میٹرک اینگلو سنسکرت ہائی سکول جالندھر سے کیا۔ 1914 میں مزید تعلیم کے لئے لاہور تشریف لائے اور اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ 1915 میں ایف اے اور 1918 میں بی اے کیا، تشنگی علم کچھ عرصہ بعد انہیں انگلستان لے گئی، جہاں جنوری 1931 میں انہوں نے کیمبرج کے کالج ایمونوئل میں شعبہ قانون میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے داخلہ لے لیا۔ کیمبرج اور ڈبلن کی یونیورسٹیوں سے قانون اور سیاست میں اعلیٰ تعلیم کی اسناد حاصل 
کیں۔ دور طالب علمی سے پیرانہ سالی تک آپ کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ محض 18 برس کی عمر میں تقسیم ملک کا انقلاب آفرین نظریہ پیش کیا، اخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کیا۔ آپ نے ’’پاکستان دی فادر لینڈ آف پاک نیشن‘‘، ’’مسلم ازم‘‘ اور ’’انڈس ازم‘‘، ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ وغیرہ کتابچے بھی تحریر کیے۔ 1933 میں لندن میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔
یوں پہلی بار برصغیر کے مسلمانان لفظ ’’پاکستان‘‘ سے آشنا ہوئے۔ آپ کے مطابق آپ نے یہ نام پنجاب (پ)، افغانیہ (ا)، کشمیر (ک)، سندھ (س) اور بلوچستان (تان) سے اخذ کیا، جہاں مسلمان 1200 سال سے آباد ہیں۔ آپ نے دیگر مسلمان اکثریتی علاقوں کو ملاکر برصغیر میں چھوٹے بڑے دو تین اور ممالک کے نام اور نقشے بھی تجویز کیے، 1935 میں آپ نے ایک ہفت روزہ اخبار ’’پاکستان‘‘ کیمبرج سے جاری کیا اور اپنی آواز پہنچانے کے لئے جرمنی اور فرانس کا سفر کیا۔ اسی سلسلے میں امریکہ اور جاپان وغیرہ کے سفر بھی اختیار کیے، 1940کو کراچی میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی سپریم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حیدرآباد دکن کے لئے ’’عثمانستان‘‘کے نام سے آزاد اسلامی ریاست کا خاکہ پھر سے پیش کیا۔
آپ23 مارچ 1940 کے مسلم لیگ کے تاریخ ساز جلسے میں شرکت نہ کرسکے کیونکہ خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث کشیدہ صورت حال کو بنیاد بناکر پنجاب حکومت نے آپ کے پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اگرچہ اس کو قراردادِ لاہور کا نام دیا گیا تھا، تاہم برصغیر کے ہندو اخبارات نے طنزاً اسے قرارداد پاکستان لکھنا شروع کردیا اور بالآخر 14 اگست 1947کو یہ طنز سچ کا روپ دھار گیا۔ حکومتِ پاکستان ان کی یاد میں ہیروز آف پاکستان سیریز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کرچکی ہے۔