01 دسمبر 2021
تازہ ترین

الیکشن اور ووٹنگ مشین الیکشن اور ووٹنگ مشین

چلو بل تو منظور ہوئے، اپوزیشن کے نعرے کلبھوشن کا جو یار ہے غدار غدار ہے، سپیکر کو آزاد کرو، ووٹ چورو جان چھوڑو، شیم شیم، ووٹ کو عزت دو… یہ وہ  نعرے ہیں جو اجلاس کے دوران گنتی کے موقع پر ایوان میں گونجتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کالے قوانین سے بلز منظور کروانا چاہتی ہے، اگر یہ کالا قانون پاس ہوا تو پاکستان کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی ذمے داری سپیکر قومی اسمبلی پر عائد ہوگی، شہباز شریف نے کہا، جب سے یہ حکومت آئی ہے تین الفاظ کے معنی بدل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بربادی کا نام تبدیلی، انتقام کا نام احتساب اور دھاندلی کا نام الیکٹرونک ووٹنگ مشین ہوگیا ہے۔
حکومت نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور تمام بلز ایک ہی وقت میں منظور کروالئے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق، سٹیٹ  بینک خودمختاری بل، خواتین و بچوں سے زنا بالجبر کیس میں جرم کی فوری سزا کا بل اور کلبھوشن کیس سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور فکر 2021، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ بل 2021  اور مسلم عائلی قوانین بل 2021 کثرت رائے سے منظور کرالئے گئے۔
ان تمام بلز کے پاس ہونے کو کامیابی تصور کیا جارہا ہے۔ حکومت کے لئے واقعی خوشی کی بات ہوگی، کیوںکہ حکومت تمام کام آرڈیننس پر چلارہی 
تھی۔ حکومت کے اتحادی بھی ساتھ کھڑے خاموش ہیں۔ دوسری طرف عوام کا دبائو بھی بڑھتا جارہا ہے۔ اس وقت اتحادیوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے، یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں۔
اپوزیشن میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر شور مچانے والی مسلم لیگ (ن) کو اگلا الیکشن ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما تنویر حسین کا ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ووٹنگ مشین پر مسلم لیگ (ن) 2017 سے کام کررہی تھی۔ حکومت نے جتنے بل منظور کروائے ہیں، کیا اس کے نتائج عوامی مفاد میں نہیں ہوں گے۔ اگر ووٹنگ مشین کی بات کریں تو کیا یہ اقدام بہتر نہیں ہے۔ اپوزیشن اس بات کو واضح کرے اور عوام میں ایسی صورت حال پیدا نہ کرے، جس سے سسٹم میں بہتری لانا ناممکن ہوجائے۔
پوری دنیا کے ممالک میں عوام کی فلاح کے لئے نئی ایجادات اور ریسرچ کررہی ہے۔ ممالک اپنی قوم کے لئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں۔ صاف شفاف نظام بنایا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ضمانت دی ہوئی ہے۔ جب تک ان کے ایجنڈے پر چلتے رہیں گے، ان کے بچوں کے ویزوں کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے سربراہاں کی زندگی کے محافظ بھی ہیں۔ پاکستان میں الیکشن اب الیکٹرانک مشین سے ہوں گے، لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ووٹ کو چوری کرنے کا پلان نیا ہے۔ عوام کو بھی سمجھنا ہوگا کہ پچھلے برسوں میں ہونے والے انتخابات کو کبھی بھی سیاسی جماعتوں نے صاف شفاف تسلیم نہیں کیا۔
انتخابات کا نام لڑائی جھگڑا اور پگڑیاں اچھالنا رہ گیا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے زیادہ نقصان کا اندیشہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ہوگا۔ بنیادی نکتہ مشین کے استعمال سے عوام کی لاعلمی ہے۔ پیپلز پارٹی کی وننگ سیٹ کا موازنہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔ مُردے اب زندہ نہیں ہوسکیں گے، دوسری بات انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بلاجواز تنقید مناسب نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اپنے دور حکومت میں کلبھوشن یادیو کے حوالے سے کی گئی تمام ڈویلپمنٹ سے عوام باخبر ہیں۔ ریاست کو نظام کے ساتھ چلانا تھا، لیکن پاکستان میں طاقت ور حلقوں نے سسٹم کو پاؤں کے نیچے رکھا۔ پوری دنیا ٹیکنالوجی سے مستفید ہورہی ہے۔ نئی نئی تحقیق کرکے آنے والے خطرات کا ادراک کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ احتساب کرنے والے اداروں کو بھی تقید کا نشانہ بناکر ذاتی مفادات حاصل کیے گئے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کی گریڈنگ کم ہورہی ہے۔ اس کے ذمہ دار عوام نہیں سابق حکمرانوں کی غلط پلاننگ ہے۔