30 نومبر 2021
تازہ ترین

ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے 50 سال ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے 50 سال

موجودہ حالات میں دنیا کا ہر ملک یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں خودکفیل ہوجائے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے اور طاقتور ممالک چھوٹے ملکوں کو آپس میں لڑاکر رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ ان سے دب کر رہیں، کیونکہ اگر طاقتور ممالک ایسا نہیں کریں گے تو اپنا اسلحہ و بارود کسے بیچیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے ہی ممالک اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی خاطر کوششیں کررہے ہیں۔ اس پس منظر میںپاکستان نے بھی اپنی فوج کو جدید تقاضوںسے ہمکنار کرنے کے لئے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا قائم کی تھی۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا قیام آج سے قریباً 50 سال قبل 1971 میں عمل پذیر ہوا تھا۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے اپنے قیام سے لے کر آج تک جتنی ترقی کی ہے، وہ ہمارے جیسے معاشی کمزوری کے حامل ممالک کے لئے ایک مثال ہے۔ جنگی مصنوعات میں توپ خانے، جنگی گاڑیاں، ٹینکس اور جدید اسلحہ وبارود اور میزائل تیار کیے جاتے ہیں، یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا جدید ترین مشینری کی تیاری کا حامل ادارہ ہے، جس نے پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے لئے جدید ترین جنگی سازوسامان تیار کیا ہے، اس ضمن میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اپنے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ادارے کے قیام کا بہت اچھا فیصلہ کیا تھا۔
ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں انجینئرنگ را ت دن کام کررہے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے، جس کے ذریعے پاک افواج ناصرف ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کررہی ہیں بلکہ اضافی جنگی سازوسامان بنانے کے بعد انہیں بیرون ملک فروخت بھی کیا جارہا ہے، جس سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے، ادارے کے اس اقدام سے ایک طرف وطن کا دفاع مضبوط ہورہا ہے تو دوسری جانب ملکی معیشت پروان چڑھ رہی ہے، پوری دنیا کے ممالک اپنا دفاع مضبوط بنانے کے لئے بیرونی مدد حاصل کرتے ہیں، لیکن پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ ہم خود اپنے دفاع کے لئے سامان تیار کریں، اس سلسلے میں پاکستان نے اپنے بااعتبار دوست چین سے مدد حاصل کی ہے، چین کی مدد سے پاکستان نے جدید جنگی طیارے بنانے شروع کردئیے ہیں، جس میں جے ایف تھنڈر17- سرفہرست ہے، جس کی باقاعدہ پروڈکشن بھی شروع ہوچکی اور بہت جلد پاکستان اسے بیرون ملک سپلائی بھی کرنا شروع کردے گا، جس کے آرڈرز بھی مل چکے ہیں۔ یہ ادارہ جنگی جہاز کے علاوہ جاسوسی گاڑیاں، اینٹی ٹینک، ایئر ڈیفنس میزائل کیریئر، بکتر شکن اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل اور تمام تر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی پر مشتمل نظام بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے، یہ ادارہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ایچ آئی ٹی پاکستان کی فوج اور سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے انجینئرنگ کے بھاری کام انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کے پاس پاکستان کی مسلح افواج کے لئے ٹریک شدہ بکتربند فائٹنگ گاڑیوں کی اوور ہال اور اپ گریڈیشن کا وسیع تجربہ ہے۔ادارہ پاکستان کی فوج کے لئے ملٹری گیئرز بھی فراہم کرتا ہے، کریٹرون کی تعمیر اور سالڈ اسٹیٹ لائٹنگ پر مشتمل ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے۔ چند سال قبل تک ادارے کے پاس قریباً 6 ہزارانجینئرز اور انتہائی ہنرمند افراد پر مشتمل افرادی قوت تھی، جس میں وقت اور ضرورت کے حساب سے اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلانے الخالد ٹینک، الضرار ٹینک بناکر دنیا بھر میں پاکستان کا نام 
روشن کیا ہے، اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس دیگر جنگی سازوسامان بھی تیار کیا جارہا ہے، جن میں خودکار توپ، کلاشنکوف، میڈیم مشین گن، اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل اور دیگر جدید ترین آلات تیار کیے جارہے ہیں۔ اس ادارے کی 50 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کی فوج کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، کیونکہ یہ ادارہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاننگ کرتا ہے، پاکستان نے چین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات بناکر پاکستان کے دفاع کو ناصرف مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جنگی سازو سامان سمیت جدید آلات بیرون ممالک فروخت کرکے بڑے پیمانے پر زرمبادلہ پاکستان لانے کا سبب بھی بن رہا ہے، جس سے پاکستانی معیشت میں استحکام آرہا ہے۔ 
دوسری طرف پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے لیس آلات اور جنگی سازوسامان بنانے میں خودکفیل ہورہا ہے، جس سے ملک کا دفاع مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے میزائل تیار کیے جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی میں شمار کی جاتی ہے، پاکستان کے پاس چھوٹی بڑی رینج کے کئی اقسام کے میزائل شامل ہیں، جن میں زمین سے زمین پر وار کرنے والے، زمین سے آسمان کی طرف مار کرنے والے اور فضا سے زمین پر وار کرنے والے شامل ہیں۔ پاکستان کے پاس ایسا میزائل بھی موجود ہے، جس کی رینج میں ازلی دشمن ملک کے کئی بڑے بڑے شہر آسکتے ہیں، پاک بحریہ کے لئے بھی جدید ترین آبدوز تیار کی گئی ہے، ابھی گزشتہ ماہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا پاک بحریہ نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی آبدوز کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔