01 دسمبر 2021
تازہ ترین

بچوں پر سرمایہ کاری۔ چند اہم پہلو! بچوں پر سرمایہ کاری۔ چند اہم پہلو!

کیا انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے بچے نہیں؟ بظاہر تو یہ سوال نہیں بنتا، کیونکہ یقیناً انسان کی سب سے قیمتی متاع بچے ہی ہیں، مگر ہمارا عمل ہمارے دعوے پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے سے قاصر ہے۔ امسال بچوں کا عالمی دن ’’اپنے بچوں پر سرمایہ کاری، بہتر مستقبل کی ضمانت‘‘ کی تھیم کے تحت منایا گیا۔ اپنے ہاں ہر کوئی اپنے انداز سے اپنے بچوں پر ’’سرمایہ کاری‘‘ کرتا اور اپنے تئیں خود کو مطمئن کرلیتا ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق (بسا اوقات اُس سے بھی بڑھ کر) اچھے سکول میں بچے کو داخل کروایا جاتا ہے، ایسی ’سرمایہ کاری‘ عموماً ’سرمایہ داری‘ کا روپ دھار لیتی ہے۔ دکھاوے کے لئے بھاری فیس والے سکول کا انتخاب کیا جاتا ہے، تاکہ معاشرے میں ناک اونچی رہے، پھر اچھی اکیڈمی یا گراں ٹیوشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کی مالی حالت بہت کمزور ہوتی ہے اور وہ اس راز کو جان چکے کہ ہم نے جیسے تیسے گزار دی، اب بچوں کا مستقبل تابناک ہوجائے، وہ اپنا پیٹ کاٹ (اور زیور بیچ) کر بھی بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ غربت کی نام نہاد لکیر سے نیچے ایسے گھرانے بھی ہیں، جو بچوں کی تعلیم سے ناصرف بے نیاز بلکہ اسے غیر ضروری جانتے ہوئے بچوں کو معاشی معاملات میں اپنا معاون بنالیتے ہیں، یوں جن بچوں نے پڑھ لکھ کر سُودمند شہری بننا ہوتا ہے، وہ اپنی تمام معصومیت سے محروم ہوکر اس گرداب میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
کیا اپنی دولت اپنی اولاد پر لُٹا دینے سے سرمایہ کاری کا حق ادا ہوجاتا ہے؟ یا پیٹ کاٹ اور زیور بیچ کر اولاد پر لگادینے سے کام پورا ہوگیا؟ شاید ایک اور قیمتی چیز بھی ہے، جو والدین میں سے بہت ہی کم لوگ اپنی اولاد کو دیتے ہیں، یا یوں کہیے کہ اس کا صحیح حق کوئی، کوئی ادا کرتا ہے۔ وہ ہے ’’وقت‘‘، بچوں پر پیسوں کی سرمایہ کاری کے لئے تو اکثر والدین خم ٹھونک کر میدان میں ہیں، مگر وقت کی سرمایہ کاری کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ والدین کا وقت حاصل نہ کرسکنے والے 
بچوں کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں کوئی کمی یا محرومی ضرور رہ جاتی ہے۔ کتنے فیصد والدین ہیں جو اپنے بچوں کی سکول کی سرگرمی پر روزانہ کی بنیاد پر نگاہ ڈالتے ہیں، اُن کی تعلیمی مصروفیات کا جائزہ لیتے ہیں، کمی کوتاہی وغیرہ کی صورت میں سکول سے رابطہ کرتے ہیں؟ یقیناً آٹے میں نمک کے برابر۔ 
بچوں کی تربیت میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے، والدین کی ایک بڑی تعداد سکول تو جاتی ہے، مگر صرف جھگڑا کرنے، اپنا مسئلہ بیان کرنے میں بھی جذبات کا مسالہ ڈالناکبھی نہیں بھولتی۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ بچے کی معمولی شکایت پر والدین لٹھ اٹھائے سکول پہنچ گئے اور یک طرفہ فیصلہ سناتے ہوئے سکول انتظامیہ پر چڑھائی کردی، انہیں کوسنا شروع کردیا، مجمع بندھ گیا، تماشا لگ گیا، کئی دوسرے بھی جذبات کی رو میں بہہ کر ہمنوا ہولئے، یوں بچے کی تربیت کرنے والا ایک اہم فریق معتوب ٹھہرا، استاد کو سرِبازار رُسوا کرکے فتح کا پرچم لہراتے والد صاحب گھر لوٹتے اور تادیر اپنے کارنامے پر فخر کرتے ہیں، مگر اپنے عمل سے بچے کے ذہن میں استاد سے نفرت 
اور بے عزتی کا جو بیج وہ بو آتے ہیں، وہ زندگی بھر ثمرآور ہوتا رہتا ہے۔ معاشرے سے استاد کی عزت قصہ پارینہ ہوچکی، بچے کی تعلیم و تربیت کے لئے والدین اور استاد کو مل کر لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تھا، اگر یہ دو پارٹیاں ہی باہم دست و گریباں ہوجائیں گی، تو بچے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، دو ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان بچوں کا ہی ہوتا ہے۔
بچوں کی تربیت بہترین سرمایہ کاری ہے، جس کا بڑا فقدان پایا جاتا ہے، بچوں کی والدین کے ساتھ بے تکلفی تو حد سے بڑھ چکی، مگر طاقِ نسیاں پر رکھی تربیت مصروفیت کی گرد میں دب کر رہ گئی ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق تعلیم دلوانے والے والدین بچے کے سکول سے کم ہی مطمئن دکھائی دیتے ہیں، کتابوں کی دکان پر چلے جائیں، والدین کی سکول والوں کو بھیجی گئی صلوٰتیں سننے کو وافر دستیاب ہوتی ہیں۔ کوئی وقت تھا جب سکول سرکاری ہی تھے، مار پٹائی کا رواج بھی عام تھا، کبھی کسی مہم کے تحت سکول میں صفائی وغیرہ بھی کروالی جاتی تھی، مگر استاد کا بے حد احترام تھا، اس کے خاتمے میں والدین کا کردار نمایاں ہے۔ جب تک والدین اور اساتذہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ بندی کا عملی مظاہرہ نہیں کرتے، اپنی تلواریں نیاموں میں نہیں ڈالتے، اُس وقت تک بچے کے بہتر شہری بننے کے امکانات بھی مخدوش ہی رہیں گے، یوں والدین کی صرف دولت کی سرمایہ کاری بچے کے مستقبل کو بہتر نہیں کرسکتی۔
بچوں کو لازمی تعلیم کا حکومتی فریضہ دعووں اور نعروں سے آگے نہیں بڑھ رہا، تعلیم ہر حکومت کی اوّلین ترجیح ہوتی ہے، مگر صرف منشور، دکھاوے اور نعرے کی حد تک۔ اس جدید دور میں بھی کروڑوں بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہی ہیں، حکومتیں سکول سے باہر بچوں کو سکولوں میں داخلے کی مہمات چلاکر وسائل کا ضیاع کرتی اور انہی وسائل سے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام لیتی ہیں۔ کم از کم دو دہائیوں سے ملکی شرح خواندگی میں اضافہ دکھائی نہیں دیتا، سکولوں میں داخلے کے عملی مناظر دھندلا کر رہ گئے، بلکہ سموگ زدہ ہوچکے ہیں۔ پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن حکومتِ پنجاب کا ایک خودمختار اور نیک نام ادارہ ہے۔ گزشتہ سات برس سے فی کس بچے کی مد میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا، پرائمری میں ساڑھے پانچ سو اور مڈل میں چھ سو روپے ادا کیے جاتے ہیں، اتنی کم فیس میں معیار پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔ اتنی تھوڑی فیس میں سکول کا نظام چلانا بھی ناممکن ہورہا ہے۔ بچوں کا عالمی دن مناتے ہوئے اس ضمن میں کیا اربابِ اختیار دل پر ہاتھ رکھ کر اظہارِ اطمینان کرسکتے ہیں؟