01 دسمبر 2021
تازہ ترین

جیلوں میں کرپشن… جیلوں میں کرپشن…

سرکاری محکموں اور خصوصاً ان محکموں سے متعلق عوامی سطح پر شکایات عام ہوتی ہیں، جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہوتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر انسدادِ رشوت ستانی کے محکموں کے باوجود بعض محکموں کے ملازمین دیدہ دلیری سے کرپشن کرتے ہیں، جس کی وجوہ میں ایک بڑی وجہ انہیں اپنے افسران کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، وگرنہ یہ ممکن نہیں کوئی سرکاری ملازم سرعام رشوت لیتا پھرے۔ بدعنوانی کے ناسور نے معاشرے میں اس طرح کی صورت حال پیدا کردی ہے، کوئی کام رشوت دئیے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں تو ایک اردو معاصر کی خبر پڑھ کر حیرت ہوئی۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے حساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں پنجاب کی جیلوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں کے انسداد کے لئے تمام سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ تحریر کیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات بذات خود کئی جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ رہ چکے۔ کیا وہ جیلوں میں ہونے والی کرپشن سے لاعلم ہیں؟ 
حسّاس اداروں نے جیلوں میں ہونے والی کرپشن کی جو نشان دہی کی ہے، ہم ایک سال پہلے اپنے کالموں میں ان کی نشان دہی کرچکے۔ اس کے باوجود اصلاح احوال کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ حسّاس اداروں کی رپورٹ میں جیلوں کے لنگرخانوں میں قیدیوں سے ’’سب اچھا‘‘ لینے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ عدالتوں سے سزایاب ہونے کے بعد قیدیوں کو اگلے روز ملاحظہ میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں ڈپٹی اور سپرنٹنڈنٹس قیدیوںکی مشقت ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جب کسی کھاتے پیتے قیدی سے مال پانی زیادہ لینا ہو تو اس کی مشقت لنگر میں ڈال دی جاتی ہے، پھر وہ اچھی خاصی رقم دینے کے بعد اپنی مشقت جیل کی مسجد یا پھر بالکل ’’سب اچھے‘‘ پر ہوجاتا ہے۔ سینٹرل جیلوں میں کم از کم 5 سو قیدیوںکی مشقت لنگرخانے میں ہوتی ہے، جن میں سے نصف تعداد کم ازکم پانچ ہزار روپے ماہانہ ’’سب اچھا‘‘ دینے کے بعد لنگر میں اپنے کمروں میں فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔ کوئی دن کے اوقات میں جیل جاکر لنگرخانے کا اچانک دورہ 
کرے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، مگر یہ کرے کون؟ جب ’’سب اچھا‘‘ اوپر تک جاتا ہو تو اچانک چھاپہ کیوں مارا جائے؟ جیلوں کی فیکٹریوں میں قیدیوں کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے، جو پانچ چھ ہزار ماہانہ ’’سب اچھا‘‘ دے دیتا ہے، وہ اپنی بیرک میں پورا دن فارغ رہتا ہے۔ 
’’سب اچھا‘‘ نہ کرنے والوں سے قالین بانی اور فرنیچر سازی کا کام لیا جاتا، یا انہیں جھاڑو پنجے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ عام لوگ جھاڑو پنجے سے واقف نہیں ہوتے۔ جھاڑو پنجے والے قیدیوں کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں اور انہیں جیل سے باہر باغیچہ یا افسران کے گھروں میں صفائی کے لئے لگادیا جاتا ہے۔ دوپہر کو ایک بالٹی میں سالن اور چادر میں روٹیاں جیل کا کوئی وارڈر لنگر سے لے کر انہیں کھانے کو دے دیتا ہے۔ ان قیدیوں کے لئے سب سے بڑی اذیت رات دن بیڑیوں میں رہنا ہوتی ہیں۔ جھاڑو پنجے پر ایسے قیدیوں کو بھیجا جاتا ہے، جن کی قید ایک دو ماہ رہ گئی ہو۔ لمبی قید والے مجرموں کو جیل سے باہر نہیں بھیجا جاتا، انہیں فیکٹری یا لنگر میں بھیج دیا جاتا ہے۔ جیلوں میں پائی جانے والی بدعنوانی کا سراغ لگانا اس لئے مشکل ہوتا ہے، 
کوئی قیدی کسی جیل ملازم یا افسر کے خلاف شکایت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ اگر اس نے شکایات کی تو اسے کسی دوسری جیل بھیج دیا جائے گا۔ درحقیقت ہوتا بھی یہی کچھ ہے، جب کوئی قیدی کسی جیل ملازم کی شکایت کرے تو اس کا چالان نکال دیا جاتا ہے، جس کے بعد قیدی اور اس کے اہل خانہ دربدر ہوتے ہیں۔ اہم بات جن قیدیوں کا چالان چلا جائے، انہیں جس جیل سے شفٹ کیا جاتا ہے، اس کی اس جیل میں واپسی ناممکن ہوتی ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ کہ بعض جیل افسران قیدیوں سے نذرانہ لے کر اس کے مخالف قیدی کا چالان بھیج دیتے ہیں۔ جب کسی قیدی کے خلاف کوئی شکایت نہ بھی ہو تو اس کے ہسٹری کارڈ پر انتظامی امور تحریر کردیا جاتا ہے۔ ایسے قیدیوں کی دوسری جیلوں میں پہنچنے کے بعد اچھی خاصی درگت بنائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں پی پی اکاؤنٹ میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں کی نشان دہی کی گئی ہے، حالانکہ اس سے قبل سینٹرل جیل راولپنڈی میں تحقیقات کے دوران قیدیوں کے اکاؤنٹ سے قرض لینے کا سکینڈل سامنے آچکا۔ قیدیوں کے ملاقاتی پی پی اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانے کے بعد رسید حاصل کرلیتے ہیں۔ قانونی طور پر جب قیدیوں کو سامان کی ضرورت ہو تو سرکاری کینٹین سے سامان کے حصول کے لئے رسید دکھاکر سامان لکھوایا جاتا ہے۔ اصل میں بے قاعدگی اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی قیدی اپنی پیسوں والی رسید سے نقد پیسے لینا چاہے تو پی پی اکاؤنٹ والے دس فیصد رقم کاٹ کر باقی رقم نقدی کی صورت قیدی کو دے دیتے ہیں۔ جیلوں میں کرپشن کا ایک بڑا ذریعہ پی پی اکاؤنٹ بھی ہوتا ہے، جہاں ڈیوٹی لگوانے کے لئے ہیڈ وارڈرز باقاعدہ ہفتہ وار بھتہ دیتے ہیں۔ لنگرخانوں میں سب اچھے کی رقم اور وہ سامان جو ایک مرتبہ گودام سے لنگر پر آتا ہے، اسے بچاکر لنگر کا انچارج دوبارہ گودام میں بھیج دیتا ہے، جہاں سے وہی سامان جیل سے باہر دُکانوں پر فروخت ہوجاتا ہے۔
لنگر میں سپرنٹنڈنٹس جیل ہر روز سالن اور روٹی چیک کرتے ہیں، جس روز سیشن جج یا سول جج کا دورہ ہو، تمام جیل لاک اپ ہوتی ہے۔ جب تک جج صاحبان کا دورہ ختم نہیں ہوتا، قیدیوں میں کھانا تقسیم نہیں ہوتا۔ جج صاحبان جیل آتے ہی سب سے پہلے لنگرخانے میں جاتے ہیں، سالن دیکھ کر وہ انہیں تسلی بخش قرار دے دیتے ہیں، جب جج صاحب چلے جاتے ہیں، اسی سالن میں اچھا خاصا پانی ڈال کر قیدیوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے، لہٰذا دورہ کرنے والا کوئی افسر کیسے کہہ سکتا ہے، کھانے کا معیار بہتر نہیں۔ جیلوں میں بدعنوانی کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے جب اچانک دورہ کیا جائے اور دورہ کرنے والوں کا تعلق جیل افسران سے نہ ہو تو سب کچھ واضح ہوسکتا ہے، لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟