01 دسمبر 2021
تازہ ترین

پاکستان ریلوے، اہم قومی ادارہ! پاکستان ریلوے، اہم قومی ادارہ!

پاکستان ریلوے محض سفری یا فریٹ سروس کی سہولتیں ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ یہ قومی ادارہ ملک کے مختلف حصوں کو جوڑنے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کو معیاری اور آرام دہ سفری سہولتیں فراہم کرنا ریلوے کی ترجیحات میں اوّل ہے، جس کے لئے ٹرین آپریشن کو تسلسل کے ساتھ ریلوے انتظامیہ رواں دواں رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کرتی رہتی ہے۔ پاکستان ریلوے عوام الناس اور خصوصی طور پر اپنے مسافروں کی زندگیوں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے، جس کے لئے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر سیفٹی اور ٹریس پاسنگ کی روک تھام کے حوالے سے اکثر آگاہی مہم اخبارات، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلاتا رہتا ہے اور لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کے لئے ہر فورم کا استعمال کرتا ہے، جس میں بچوں اور بڑوں کو فزیکلی بھی جاکر بتایا جاتا ہے کہ ٹریک کو کہاں اور کس طرح سے عبور کرنا ہے۔ ریلوے ٹریک پر زیادہ تر حادثات انسانی غلطی اور لاپروائی سے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے ا ور ریلوے کے قیمتی اثاثوں کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ 
حال ہی میں پاکستان ریلوے نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا، جس میں صحافیوں کو ریلوے ٹریک پر موجود پھاٹک اور بغیر پھاٹک لیول کراسنگ کا معائنہ کروایا گیا اور اس سلسلے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ صحافیوں کو بتایا کہ صرف لاہور ڈویژن میں قریباً 800 لیول کراسنگ ہیں، جن میں 464 بغیر پھاٹک لیول کراسنگ ہیں اور باقی پھاٹک والے ہیں۔ پھاٹک والے لیول کراسنگ پر عوام کی سہولت کے لئے پھاٹک موجود ہوتا ہے، جو ٹرین کے آنے سے کچھ دیر قبل بند کردیا جاتا اور ٹرین گزرنے کے بعد کھول دیا جاتا ہے جب کہ بغیر پھاٹک لیول کراسنگ پر پھاٹک موجود نہیں ہوتا، یہاں سے ریلوے ٹریک کراس کرنے کی ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے، جس میں شہریوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ریلوے ٹریک کراس کرتے وقت دائیں یا بائیں جانب اچھی طرح دیکھیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ کوئی ٹرین تو نہیں آرہی اور اگر کوئی ٹرین آرہی ہے تو وہا ں رُک جائیں اور پہلے ٹرین کو گزرنے دیں اور پھر ٹریک کو کراس کریں۔ 
ہر قسم کے لیول کراسنگ پر شہریوں کو خبردار کرنے کے لئے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت صرف لاہور ڈویژن میں 185 لیول کراسنگ پر ٹرین ڈرائیور کے لئے 800 میٹر اور 400 میٹر پر ہارن بجانے کے لئے بورڈ آویزاں کیے گئے ہیں، جہاں پر ریلوے ڈرائیور کے لئے لازم ہے کہ وہ شہریوں کو خبردار کرنے کے لئے ہارن بجائے جب کہ 134 نان انٹر لاکڈ لیول کراسنگ پر ریلوے کے ڈرائیورز کے لئے خصوصی وارننگ بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ لاہور ڈویژن کے 96 پھاٹک لیول کراسنگ ایسے ہیں جو حادثات کے لئے بہت حساس ہیں۔ ایسے لیول کراسنگ پر ریلوے کا عملہ سڑک استعمال کرنے والے شہریوں کو عمومی طور پر اور بالخصوص دھند کے دنوں میں ٹرین کی آمدورفت سے آگاہ کرتا ہے۔ 112 لیول کراسنگ پر پختہ راستے تعمیر 
کردئیے گئے ہیں، تاکہ شہریوں کو گزرنے میں سہولت رہے۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ 970 مقامات پر باڑ لگادی گئی ہے جب کہ 277 مقامات پر خندق کھود کر عوام کی آمدورفت کو محدود کردیا گیا ہے۔ لاہور ڈویژن میں 54 مقامات پر ایسے بغیر پھاٹک لیول کراسنگ بند کردئیے ہیں، جہاں پر شہریوں کی آمدورفت بہت زیادہ تھی اور حادثات کا زیادہ خطرہ تھا۔ غیر قانونی طور پر ریلوے ٹریک کراس کرنے کے جرم میں مختلف شہروں میں سیکڑوں ایف آئی آر بھی درج کی ہیں، جن پر قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ لاہور ڈویژن کی طرح پاکستان ریلوے کے باقی ڈویژنوں میں بھی سیفٹی کے حوالے سے ایسے ہی اقدامات ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کی نگرانی میں کیے جارہے اور آگاہی کے لئے مختلف سیمینار بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔ 
یہاں یہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگ پر پھاٹک لگانے کے لئے فنڈز کی فراہمی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان ریلوے صوبائی حکومتوں کو گاہے بگاہے فنڈز کی فراہمی کے لئے خط و خطابت کرتا رہتا ہے اور جیسے جیسے فنڈ فراہم ہوتے جاتے ہیں تو بغیر پھاٹک والی جگہوں پر پھاٹک لگادئیے جاتے ہیں۔ وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی کی ہدایت کی روشنی میں ٹرین سیفٹی اور ٹریس پاسنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سیکریٹری؍ چیئرمین ریلویز حبیب الرحمٰن گیلانی سیفی اور ٹریس پاسنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اسی طرح چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز نثار احمد میمن روزانہ کی بنیاد پر ٹرین سیفٹی اور ٹرین پنکچوالیٹی کے حوالے سے پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔