21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

دُنیا اُمید پر قائم ہے دُنیا اُمید پر قائم ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا امید پر قائم ہے۔ ہم بھی اسی امید کے سہارے ایک نئے راستے پر چل نکلے ہیں، جو پرخار تو ضرور ہے مگر بے مُراد نہیں۔ گزشتہ دنوں پریس اینڈ لائرز جوائنٹ ایکشن فورم پاکستان کا قیام عمل میں لانے کے لئے مل بیٹھے۔ فورم کا مقصد مظلوم طبقے کی آواز کو بلند کرنا، قانونی مدد فراہم کرنا اور وکلاء اور حقیقی صحافیوں کے حقوق کے لئے مل کر کام شامل ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مایہ ناز قانون دان سلیم اللہ خان جتوئی کے چیمبر میں پہلی مشاورتی میٹنگ ہوئی، جس میں سینئر صحافیوں اور وکلا نے فورم کی تشکیل کو خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ظلم اور ناانصافی کا شکار مظلوم طبقے کو انصاف کی فراہمی اور ظلم و زیادتی کی حوصلہ شکنی کے لئے پریس اینڈ لائرز جوائنٹ ایکشن فورم کے نام سے ایک ملک گیر تنظیم کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ اس حوالے سے سابق صدر بار اور سینئر قانون دان سلیم اللہ خان جتوئی ایڈووکیٹ، بندۂ ناچیز اور نیشنل کالمسٹ کونسل کے چیئرمین تحسین بخاری کے درمیان پہلی مشاورتی میٹنگ ہوئی۔ باہمی مشاورت سے طے پایا کہ وقتی 
طور پر 15 ارکان لائرز اور 15 ارکان صحافیوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو بعدازاں اس تنظیم کے دائرہ کار کو وسیع کرے اور تنظیم کے بڑے شہروں میں یونٹ بنا کراسے فعال کیا جائے۔
باہمی مشاورت کے بعد سینئر وکلا حسان مصطفیٰ ایڈووکیٹ، ایاز محمد شاہ ایڈووکیٹ، انور قمر جتوئی ایڈووکیٹ، رئیس نیاز چاچڑ ایڈووکیٹ، غلام جیلانی دھریجہ ایڈووکیٹ، سینئر صحافی و رپورٹر نور سومرو، حیات خاور، کالم نگار عبدالقدوس سرخ پوش، کالم نگار اسد مہر سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے فورم کی تشکیل کے لئے مشاورت کی گئی اور تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی تو انہوں نے اس دعوت کو ناصرف کھلے دل سے
 قبول کیا، بلکہ اس فورم کو خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ان شاء اللہ اس فورم کے ذریعے مظلوم ناانصافی کا شکار طبقے کی بھرپور مدد کریں گے۔ ہم اس فورم کی کامیابی، ترقی اور مضبوطی کے لئے قدم بہ قدم آپ  کے ساتھ ہیں۔ دریں اثناء بہت جلد فورم کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا اور ذمے داریوں کا تعین کیا جائے گا۔ 
دوسرے دن دوسری بیٹھک ہوئی، جس میں سینئر صحافی ممتاز مونس، جاوید اقبال، عامر خالطی، ظہیر ملک، وسیم چودھری، محمد احمد کانجو ایڈووکیٹ، راشد عزیز بھٹہ، معروف سماجی رہنما فہیم رضا، اسلم ملک آف اوباڑو شریک ہوئے، جنہوں نے مزید مفید مشورے دیے اور تنظیم میں شمولیت کی ہامی بھری۔ اسی طری تیسری بیٹھک معروف نوجوان پارلیمنٹرین مخدوم ارتضیٰ ہاشمی کے دولت خانے پر ہوئی، اس موقع پر مخدوم دامن سائیں، سردار در محمد مستوئی، جمیل خان کورائی اور اصغر حمیدی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ چولستان اور بیٹ کے مسائل بھی ایڈریس کیے جائیں۔ ہم نے کہا، بالکل کریں گے بلکہ سندھ دریا سے ستلج کے لئے نئی نہر نکالنے کی کیمپین چلائیں گے۔ اس موقع پر پاکستان میں صحافت کے زوال پر بھی بات کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ پڑھے لکھے اور باشعور جاگیرداروں اور سرمایہ داروں اور نئے چہروں کو ٹاک شوز میں آنا چاہیے، تاکہ نئے خیالات سامنے آئیں۔
تنظیم کا پیپر ورک مکمل کرنے میں مزید کچھ دن لگیں گے، کیونکہ دنیا امید پر قائم ہے اور ہمیں بھی امید ہے کہ یہ تنظیم معرض وجود میں آکر کچھ منفرد اور اچھا کرے گی۔