21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

پنجاب پولیس میں اصلاح کی کوشش؟ پنجاب پولیس میں اصلاح کی کوشش؟

حکمرانوں کی خواہش ہے کہ پنجاب پولیس کو مثالی اور عوامی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے کئی تجربات اور اقدامات بھی کیے گئے۔ پنجاب پولیس کے افسران میں ردّوبدل بھی کیا گیا۔ مقصد پھر بھی حاصل نہ ہوا۔ اسی تگ و دَو میں تین سال گزر گئے۔ پنجاب کے موجودہ آئی جی پولیس رائو سردار علی بھی یہی ٹاسک لے کر آئے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے عوام سے رابطہ کرنے اور ان سے تجاویز لینے کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ وہ عوام کے ساتھ خود رابطے کررہے یا ان کے نمائندے کے طور پر ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب رائو منیر تحصیل ہیڈ کوارٹر کی سطح تک رابطے کررہے ہیں۔ جستجو اچھی ہے۔ کامیابی کا انحصار نیت پر ہوتا ہے۔ انہیں بھی کامیابی مل سکتی ہے۔ اسی سلسلہ کا ایک خصوصی اجلاس ڈی ایس پی وزیرآباد کے آفس میں ہوا، میٹنگ سے ایک روز قبل ڈی ایس پی وزیرآباد رانااسلام نے اس خصوصی میٹنگ کے لئے مخصوص شرکاء کی فہرست تیار کی، جو سرکل کے معززین پر مشتمل تھی۔ اس بندکمرے کی میٹنگ کی میڈیا کوریج کے لئے چار سے پانچ اخبار نویس بھی تھے۔ حاضرین سے تعارف کے دوران ہی ایس پی صدر عبدالوہاب تشریف لے آئے۔ 
بہرحال رائو منیر کی آمد کے بعد پولیس کے نظام میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے مشاورتی اجلاس شروع ہوا۔ رائو منیر نے سب سے پہلے موضوع کے اعتبار سے حاضرین کے لئے ایک لائن کا تعین کردیا کہ ’’ہم لوگ اچھے نہیں ہیں۔ ہمیں مشورہ دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، تاکہ عوام کو پولیس کی طرف سے راحت ملے اور وہ مطمئن ہوجائیں۔ رائو منیر نے اپنا یہ سوال بار بار دہرایا۔ مشاورت کے دوران معززین نے روایتی انداز اختیار کیا اور سب اچھا کی رپورٹ دینا شروع کی تو رائو صاحب کو اپنے موضوع کے حوالے سے مداخلت کرنا پڑی۔ پھر بھی یہ خاص میٹنگ کھلی کچہری کے ماحول سے آگے نہ بڑھ سکی۔ ایک گھنٹے بعد یہ خصوصی اجلاس ختم ہوا اور آئی جی پنجاب کے نمائندے رائو منیر کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا، البتہ ڈی ایس پی رانا اسلام خوش تھے کہ انہوں نے مہمان افسران کی تعریف کا ہدف باآسانی حاصل کرلیاتھا۔ ڈی ایس پی رانا اسلام اس خصوصی اجلاس کی افادیت، مقصد اور اپنے آئی جی کے مطمع نظر کو نہ سمجھ سکے اور تمام عمل کو روایتی انداز میں مکمل کردیا۔ 
ملازمین نے تو اپنی بساط اور علم کے مطابق مشورہ اور تجاویز دے دیں، لیکن یہ تو ڈی ایس پی یا ایس پی صدر کی ذمے داری تھی نا کہ وہ ایسے افراد کو تلاش کرکے وہاں بٹھاتے جو ’’جوں کا توں‘‘ اور اصلاحات میں فرق کو محسوس کرکے اچھی اور قابل عمل تجاویز سامنے رکھتے، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور آئی جی پنجاب کی وزیرآباد کی پِچ پر کھیلی گئی یہ اننگز بے مقصد رہی۔ ہم نے بعدازاں ایک اخبار نویس سے رابطہ کیا، انہوں نے اپنی دانست کے مطابق جو تجاویز دیں، وہ کچھ یوں ہیں۔آئی جی صاحب کو اپنے محکمے میں ایک دو بندے ایسے تلاش کرنا ہوں گے جو عمران خان کی سوچ کے مطابق پولیس کے نظام میں ریفارم لانے میں مخلص ہوں۔پولیس کی ریکروٹمنٹ پالیسی کو تبدیل کرنا پڑے گا، جو افسر یا اہلکار میرٹ پر بھرتی ہوگا، وہ میرٹ پر ہی کام کرے گا، اس طرح بدعنوانوں کی شرح میں خاطرخواہ کمی آسکتی ہے۔ پولیس اسٹیشن میں بیٹھے افسر یا اہلکار کا رویہ ان کے ایمان اور عقیدے کے قریب تر اور عوام دوست ہونا چاہیے، وہ تھانے میں آنے والے ہر فرد کو تیکھی نظروں سے نہ دیکھیں۔ پیشہ ور شکایتی افراد اور غلط بیانی کرنے والوں کا سدّباب ہونا چاہیے۔ اس طرح عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے، اس کے پاس تھوڑا سا 
ایمان بھی ہونا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ وہ فرشتہ ہی ہو، البتہ اس کے اندر کا محتسب متحرک ہونا چاہیے۔ سرکاری عمال کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہیںملک کا نظام چلانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، ان کی عزت اور رزق کا بندو بست ہوگیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو ایک دوسرے سے الگ کیا جائے۔ پولیس کا بندہ اینٹی کرپشن کے محکمہ میں، سی آئی ڈی کا بندہ سی آئی اے میں،آئی بی کا بندہ اپنے جیسے کسی اور محکمے میں، ایک محکمے کے بندے کو دوسرے محکمے میں بھیجنے کاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انکے اگلے اور پچھلے رابطے بڑی قباحتیں پیدا کرتے ہیں۔ ہر محکمہ اپنے کام کا خود ذمے دار اور ماہر ہونا چاہیے۔ جب ریکروٹمنٹ کیلئے ایک افسر شروع سے آخر تک غیر شفاف طریقوں سے گزر کر آئے گا تو وہ میرٹ پر بھی کام نہیں کریگا، بلکہ جب اس کے سامنے کوئی میرٹ کانام بھی لے گا تو اس کی بھنوئیں تن جائیں گی۔یہ تھے اس صحافی کے خیالات اور غیر رسمی تجاویز، جس کا نام خصوصی میٹنگ کے شرکاء کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے خیالات رکھنے والوں رابطہ کر کے  تجاویز لی جاسکتی ہیں۔ اگر ڈی ایس پی یا ایس ایچ او کو اپنے علاقے کے بندوں کی اہلیت، قابلیت، عادات و اطوار کا علم نہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہر تھانے میں ایک مخصوص رجسٹر تیار کیا جاتا ہے، جس میں اس کی حدود کے اندر رہنے والے افراد کا کچا چٹھا سب موجود ہوتا ہے اور بوقت ضرورت ہر اہم بندے کا ریکارڈ مل سکتا ہے۔ آئی جی اگر واقعی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر بھی یہ کام کرسکتے ہیں، جن کو ٹھیک کرنا ہے انہی سے مشورہ چہ معنی دارد۔ جتنا جی چاہے زور لگالیں، سب کچھ وہیں رہے گا، جہاں وہ ہے۔ کیا یہ پیغام دے کر بھیجا گیا کہ وزیرآباد بنجر ہے۔ ہم حیران ہیں کہ جسٹس ایس اے رحمان، جسٹس یعقوب،جسٹس جواد ایس خواجہ، آئی جی ذوالفقار قریشی، آئی جی موٹروے ذوالفقار احمد چیمہ، آئی جی حبیب الرحمان، سابق چیف سیکریٹری نوید اکرم چیمہ، منو بھائی، انتظار حسین، عطاء الحق قاسمی، سیاست کے کنگ حامد ناصر چٹھہ اور صحافت کے شہنشاہ مولانا ظفر علی خان کی زمین بے ثمر کیسے ہوسکتی ہے؟