21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

امریکہ کی طالبان سے توقعات امریکہ کی طالبان سے توقعات

حال ہی میں امریکہ کی نائب وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان کا مقصد حکومت کو یہ بات باور کرانا تھا کہ افغانستان مستحکم ہو اور کسی دہشت گرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کرے۔ امریکہ نے افغان طالبان کو ایک مرتبہ پھر اپنا وہ وعدہ یاد دلایا ہے، جس میں انہوں نے خواتین کے حقوق، ایک جامع افغان حکومت کی تشکیل، آزادی نقل و حرکت، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے علاوہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں مہیا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ سب سے پہلی بات تو یہ جب افغان طالبان نے اپنی حکومت کو امارات اسلامیہ سے منسوب کیا تو اس کا مطلب ایک اسلامی ریاست میں اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ کے بتلائے ہوئے اصولوں سے طالبان حکومت کیسے انحراف کرسکتی ہے۔ رہ گئی دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوںکی فراہمی تو اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا افغان طالبان جب امارت اسلامیہ کے دعوے دار ہیں تو ان کے لئے حضور ﷺ کے ایک اسلامی ریاست کے لئے وضع کردہ اصولوں سے پہلوتہی ممکن نہیں، اس کے ساتھ طالبان نے عالمی برادری کے ساتھ جن وعدوںکو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، طالبان حکومت کو ہر صورت اپنے وعدوں کی تکمیل کرنا ہوگی۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے یہ بات واضح کردی کہ پاکستان طالبان حکومت کے عالمی برادری سے وعدوں کو پورا کیے بغیر اس حکومت کو تسلیم نہ کرے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان یہ بات واضح کرچکے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خطے کے ملکوں سے مشاورت کیے بغیر نہیں کریں گے، اس لئے امریکہ کو انتظار کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان جو پہلے ہی افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اس کو تو صرف یہ کہہ کر تسلی دے دی جاتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کیا ہے، تاہم یہ حقیقت تسلیم کرنے کے باوجود ملک عزیز پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی نوید سناکر یہاں کے رہنے والوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاں 
خودکُش دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قندوز کی مسجد میں خودکُش دھماکے کی ذمے داری داعش خراسان نے قبول کرلی ہے۔ اس دھماکے میں سو نمازی شہید ہوئے اور بے شمار زخمی ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا، ہم اپنے پہلے کئی کالموں میں یہ بات واضح کرچکے، افغانستان میں امن قائم ہونا خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے، جس کی بڑی وجہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ ٹی ٹی پی اور دیگر کئی گروپس سرگرم ہیں، جنہیں بیرونی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ خصوصاً بھارت اور امریکہ ہی دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کر تے ہیں۔
درحقیقت امریکہ کو طالبان حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کسی طور ہضم نہیں ہورہے جب کہ طالبان حکومت بھی کہہ چکی، وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی خواہاں نہیں۔ بھارت کے ساتھ طالبان حکومت کا تعلق واجبی رہ گیا ہے، بھارت نے تو افغان حکومت کی پروازوں کو اپنے ہاں اجازت دینے سے انکار کردیا ہے، جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واسطے بھارت کے لئے محفوظ مقام نہیں رہ گیا ہے۔ قابل ذکر بات کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایک بار پھر 
پُرامن اور مستحکم افغانستان کو خطے کے ملکوں کے لئے اہم قرار دیا ہے۔ افغانستان میں امن قائم نہ ہونے کی صورت میں ہمارا ملک کس طرح اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ افغانستان کی مسجد میں خودکُش دھماکے کے مقاصد بڑے واضح ہیں، کسی طرح افغان طالبان کی حکومت کو غیر مستحکم کیا جاسکے، جس کے پس پردہ حقائق جاننے میں کسی کو مشکل نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان ہر صورت افغانستان میں امن قائم رکھنے کا خواہش مند ہے۔ افغانستان میں امن وامان کی خراب صورت حال کے اثرات سے ہمارا ملک کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن امریکہ کو اپنے مفادات کے سوا کسی دوسرے ملک کے مفاد سے سروکار نہیں۔ 
قابل توجہ پہلو یہ ہے، افغان پناہ گزینوں کو وسط ایشیائی ملکوں میں سے کوئی رکھنے پر آمادہ نہیں جب کہ افغان مہاجرین کو لینے سے انکار کے باوجود کوئٹہ، چترال اور خیبر میں پناہ گزینوں کے لئے کیمپ قائم کردئیے ہیں۔ نہ جانے امریکہ کو پاکستان سے کس طرح کا تعاون درکار ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو امریکہ دوغلی پالیسی پر گامزن ہے، ایک طرف افغانستان میں امن کا خواہاں تو دوسری جانب بھارت سے باہم مل کر افغانستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کررہا ہے۔ تازہ ترین حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اب امریکہ کے افغانستان سے متعلق مقاصد واضح ہوچکے۔ قندوز کی مسجد میں خودکُش دھماکا کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی کی اجازت ہے۔ مساجد میں دھماکا کرنے والے خود کو مسلمان کہلوانے کے حق دار نہیں، بلکہ وہ تو کافروں سے بھی ایک قدم آگے ہیں۔ امریکہ کے لئے یہ بات بھی قابل برداشت نہیں کہ طالبان حکومت چین کے ساتھ روابط رکھے، لیکن طالبان حکومت یہ بات پہلے ہی واضح کرچکی کہ اسے چین سے ہر صورت تعاون درکار ہوگا۔ 
امریکی سینیٹروں کی طرف سے پاکستان پر پابندیوں کا بل کانگریس کے حوالے کرنے کا مقصد ملک عزیز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں، تاکہ پاکستان سے من مانے فیصلے کرائے جاسکیں، لہٰذا ان حالات میں حکومت پاکستان کو ایران، چین، ترکی اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہوگا، تاکہ ہمارا ملک امریکیوں کے گرداب سے باہر نکلے سکے۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جس میں بڑا مسئلہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں ہیں۔ اگرچہ دہشت گردوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہماری بہادر افواج ہمہ وقت تیار رہتی ہیں، اس کے باوجود ہمیں بھارت اور امریکہ سے چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔