21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

عظیم قومی نقصان… عظیم قومی نقصان…

70 کی دہائی اپنا ایک تہائی سفر طے کرچکی تھی، بھٹو کا زمانۂ اقتدار تھا، سید ضامن علی نقوی کور کمانڈر لاہور تھے، ایک گھریلو تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کئی اپنے کئی پرائے موجود تھے، میں نے دیکھا ایک شخصیت سب کی توجہ کا مرکز ہے، مَردوں کے علاوہ خواتین بھی انہیں گھیرا ڈالے کھڑی تھیں، دراز قد، دبلا جسم، گھنے سیاہ بال، گندمی رنگ، سیاہ سوٹ، چہرے پر متانت ، سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی، وہ خوبصورت و نستعلیق اردو میں گفتگو کررہے تھے، سب ان کی باتیں انہماک سے سن رہے تھے، موضوع کوئی خاص نہ تھا، معلوم ہوا وہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور ہالینڈ سے آئے ہیں، عقدہ حل ہوگیا، اُس زمانے میں ولایت پلٹ نوجوان ہر تقریب میں مرکزِ نگاہ ہوا کرتے تھے، کھانے کی میز پر اُن سے مفصل تعارف ہوا، یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری پہلی ملاقات تھی، انہوں نے بتایا وہ عرصۂ دراز سے پاکستان سے باہر ہیں، پھر ملکی حالات اور اس کے ٹوٹنے پر بات شروع ہوگئی، انہوں نے مجھے احساس نہ ہونے دیا کہ وہ بہت بلند علمی سطح پر فائز اور میں ان کے ساتھ فقط طفلِ مکتب ہوں، ان کا انکسار، ان کی شخصیت کا بہت بڑا وصف تھا، انہوں نے براہ راست سوال کیا، پاکستان کو دولخت کرنے کے ذمے دار کون ہیں۔ میں نے بھی براہ راست جواب دیا، انہیں مجھ سے اس بات کی توقع نہ تھی، انہوں نے چمچہ اور کانٹا پلیٹ میں رکھ دیا اور پوچھا، وہ کیسے؟ میں نے کہا، اُس وقت اقتدار پر ٹولہ بھی بڑا ذمے دار ہے، لیکن جنگ کے بعد سلامتی کونسل میں ہمیں موقع ملا کہ ہم پولینڈ کی قرارداد کے مطابق سیاسی تصفیہ کرلیں اور ہزیمت سے بچ جائیں، قرارداد 
پیش ہونے کے آئندہ روز اس پر رائے شماری ہونا تھی، بجائے اس کے کہ قرارداد کے حق میں مختلف ممالک کے نمائندوں سے مل کر راہ ہموار کی جاتی، قرارداد پھاڑ پھینکی گئی، پاکستان اور اہلِ پاکستان پر نزع کا عالم طاری تھا، سرکاری طور پر بتایا گیا کہ بھٹو کو زکام ہوگیا ہے، یہاں کوئی محب وطن ہوتا، اس کے سامنے اس کی روح قبض کرنے کے لئے عزرائیل بھی آجاتے تو وہ پاکستان کو بچانے کی مہلت مانگ کر اس اجلاس میں شریک ہوتا اور سیاسی تصفیے کی سوچ کو عملی جامہ پہناتا، یوں پاکستان توڑنے کی سازش کو اپنے انجام تک پہنچایا گیا۔ یہ سب کچھ یقیناً ڈاکٹر قدیر کے علم میں تھا، میری بات سن کر انہوں نے ایک لمبی سے ہوں کہی اور بس ایک فقرہ کہا، آپ سے مل کرخوشی ہوئی، ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی، پھر وہ رخصت ہوگئے، ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ تعلق بھوپال سے ہے، مجھے محسوس ہوا وہ بنارس، اودھ اور بھوپال کی تہذیب کا مرقع ہیں، طویل عرصہ گزر گیا، پھر ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہوگئی، جنرل ضیاء الحق اقتدار میں تھے، ان کے دور سے جڑی کئی مثبت یادیں ہیں، میں پاکستان ٹیلی وژن کے شعبہ حالات حاضرہ سے منسلک تھا، میرے ہفتے میں چھ پروگرام آن ایئر ہوتے تھے، ہارس اینڈ کیٹل شو کے آخری روز جنرل ضیاء الحق مہمان خصوصی تھے، انہوں نے انعامات تقسیم کرنا تھے، لاہور چھائونی کا سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، صدر مملکت کا انتظار کیا جارہا تھا، ان کے ساتھ ایک اور وجیہہ شخصیت تھی، یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، یہ اُن سے دوسری ملاقات تھی، اُس وقت تک ان کے نام کے ساتھ سابقے لاحقے نہیں لگے تھے، یوں بھی انہیں نام و نمود کی خواہش نہ تھی، وہ یقیناً سرجھکائے خاموشی سے اپنے مشن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے، ہمیں اکٹھے بیٹھنے کا موقع ملا، میں نے انہیں برسوں پہلی ملاقات یاد دلائی، جو یقیناً ان جیسی مصروف شخصیت کو کہاں یاد رہی ہوگی، لیکن انہوں نے اپنی مسکراہٹ و گرم جوشی سے باور کرایا کہ انہیں سب کچھ یاد ہے، پھر قریباً ایک دہائی بعد ان سے ایک عزیز کی شادی میں ملاقات ہوئی، انہوں نے برسبیل تذکرہ پوچھا، صورت حال کیسی ہے؟ میں نے انہیں بتایا ماڈل ٹائون کے ایک گھر میں دو ہفتوں سے وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کو سبق پڑھایا جارہا ہے کہ ایٹمی دھماکے کرنے سے پاکستان کو شدید نقصان ہوگا، اس پر سخت پابندیاں لگ جائیں گی، 
جن کے بعد پاکستان تباہ و برباد ہوجائے گا، اس فلسفے کا پرچار کرنے اور اس کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ایک سینئر کالم نگار کو بھاری بجٹ کے ساتھ ٹاسک دے دیاگیا ہے، ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں فائیوسٹار ہوٹلوں کے کمرے بک ہوچکے ہیں، جہازوں کے سیکڑوں اوپن ٹکٹ اور گاڑیاں مہیا کردی گئی ہیں، اب ’’پے رول‘‘ پر مخصوص ٹیم اس حوالے سے ملک بھر میں سیمینار منعقد کرکے قوم کو گمراہ کرے گی۔
ڈاکٹر قدیر صاحب نے سوال کیا، آپ کو یہ اطلاعات کیسے پہنچیں؟ میں نے انہیں بتایا، میں ان اجلاسوں میں شریک رہا ہوں اور حکومت کی اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتا، ایٹمی دھماکے ہونے چاہئیں اور ضرور ہونے چاہئیں، اپنی بات ختم کرنے کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی، وہاں تشویش کے آثار نمایاں تھے، میں نے انہیں مزید بتایا کہ میری معلومات کے مطابق انہیں اس پروگرام سے دُور کرنے پر بھی سوچ و بچار شروع ہوچکا ہے، آپ براہ کرم وزیراعظم سے اپنے رابطے جاندار بنائیں، غالباً اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی تصدیق کرنے کے بعد انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک مثبت خط تحریر کیا، جو بعد از زوال میڈیا میں شائع بھی ہوا، تاکہ معزول حکومت اپنے کریڈٹ کو دوچند کرسکے، ایٹمی دھماکے روکنے والوں نے بھرپور کوششیں کیں، لیکن کرنے والوں نے کر دکھائے۔ پہلے ایٹمی دھماکے پھر کارگل پر اختلافات پیدا ہوئے، جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا، بہت کچھ تہہ و بالا ہوگیا، جنرل مشرف کو کئی 
امتحانات درپیش تھے، امریکہ کا حکم تھا، ڈاکٹر قدیر ہمارے مجرم ہیں، انہیں ہمارے حوالے کیا جائے، جنرل مشرف جانتے اور سمجھتے تھے، ڈاکٹر قدیر محسن پاکستان ہیں، انہیں بہرصورت امریکہ سے بچانا ہے، انہوں نے حالات کے مطابق اپنی دانست میں جو بہتر سمجھا وہ کیا، انہوں نے ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا، کچھ لوگ ان سے اختلاف کرتے ہیں، جمالی صاحب نے بھی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، ایک ووٹ سے بنوایا گیا وزیراعظم کتنا طاقتور ہوتا ہے سب جانتے ہیں، پھر جیسے پہلے ہی بتایا گیا ہو کہ آپ ایک مختصر وقت کے لئے لائے جارہے ہیں، اصل وزیراعظم آنے والا ہے، وہ کتنا صاحبِ اختیار ہوسکتا ہے، دنیا کو دکھانے کے لئے کہا بھی گیا تھا کہ وزیراعظم اور حکومت نہیں مانتے۔ 
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب منصب سے ہٹائے جانے کے بعد حفاظتی حصار میں رہے، لیکن دیگر قریبی دوستوں کی طرح مجھے بھی شرف ملاقات بخشتے رہے، پھر یہ تمام ملاقاتیں لاہور میں صدر کے علاقے میں ہوتی رہیں، جہاں وہ لاہور تشریف لاتے تو قیام کرتے، ان ملاقاتوں کی تفصیل کے لئے کالم کا دامن کم کتاب درکار ہے۔ وہ بلاشبہ محسن پاکستان تھے، ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، حدیث نبوی کے مطابق جس نے دین اسلام کی حفاظت کے لئے تیر اٹھایا، تیر پکڑا، یا تیر چلایا وہ سب جنت میں جائیں گے۔ یقیناً ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دنیا میں جنت کمائی، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، ان کا دنیا سے جانا عظیم قومی نقصان ہے، جس کی تلافی نہ ہوسکے گی۔   (جاری ہے)