21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

اصلاحات اور ہماری ذمہ داریاں اصلاحات اور ہماری ذمہ داریاں

اگر ’’اصلاحات‘‘ کو آسان الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے معنی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق سوچ بچار اور اس کی بنیاد پر پالیسی تشکیل دے کر اس پر عمل درآمد کے ہیں۔ اصلاحات کا عمل کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، بلکہ یہ طویل اور صبر آزما ہوتا ہے، لیکن اگر اس پر عمل پیرا ہوا جائے تو اس کے نتائج پہلے دن سے سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی عہدے پر چند ماہ کے لئے بیٹھتے ہیں، لیکن وہ اس دوران اپنی اہلیت اور صلاحیت سے اصلاحات کی طرز پر یا ادارے کی بہتری کے لئے ایسے کام یا سمت کا تعین کرجاتے ہیں جو اس عہدے پر بیٹھنے والے بعض ذمے داران برسوں نہیں کرپاتے۔ ایسا ہی ایک نام وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل فرحان شہزاد کا ہے، جنہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وکلاء کے بڑے ادارے کے لئے جو عملی اقدامات کیے، وہ قابل ستائش ہیں۔ ایک دوست کے توسط سے فرحان شہزاد کے پنجاب بار کونسل کی بہتری کے لئے اقدامات سے متعلق معلوم ہوا۔ فرحان شہزاد نے پنجاب بار کونسل کے نان پرافٹ آرگنائزیشن کے طور پر سب سے پہلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے انکم ٹیکس چھوٹ دلانے میں ناصرف خط و کتاب کا آغاز کیا، بلکہ اس پر عملی پیش رفت ہوئی اور پنجاب بار کونسل کو چھوٹ مل گئی، جس سے پنجاب با رکونسل کے ادارے کو کروڑوں کی بچت ہوگی، فرحان شہزاد کا عزم ہے کہ اب یہی رقم بار کے ارکان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگی۔ 
اس کے بعد پنجاب بار کے اثاثے جسے بینکوں میں سرمایہ کاری کے طور پر جمع کرایا جاتا ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے تحرک کیا گیا اور اس کے لئے ایک نجی بینک سے اچھی شرح پر معاہدہ کرلیا گیا، اب پنجاب بار کونسل کو سرمائے پر قریباً 75 لاکھ روپے اضافی میسر آئیںگے۔ فرحان شہزاد نے بار کونسل کے نظام کو جس سطح پر اپ گریڈ کرنے اور وکلاء سے رابطوں کے لئے اقدامات تجویز کیے، اگر ان پر عمل درآمد ہوگیا تو وکلاء کو ایک کلک پر قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں اور بار کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہوگی۔ سب سے بڑھ کر پنجاب بار کونسل میں ڈسپلن کو سختی سے لاگو کیا گیا ہے اور حال ہی میں ہائی کورٹ کاپی برانچ میں پیش آنے والا واقعہ، جس میں ایک وکیل نے کائونٹرز کے شیشے توڑے، اس کے خلاف کسی گروپ کا دبائو لئے اور بغیر کسی تاخیر کے اس وکیل کا لائسنس معطل کیا گیا اور اس کے لائسنس کو منسوخ کرانے کے لئے معاملہ ٹریبونل کو بھجوادیا گیا۔ یہاں کسی شخصیت کا ذکر ہرگز اس کی تعریف کرنا مقصد نہیں، بلکہ اس کے ذریعے کوشش ہے کہ دوسر ے اداروں کے لوگ بھی اس سے انسپائریشن حاصل کریں۔ 
میں اس سے قبل راہ انسانیت کے پلیٹ فارم سے کام کرنے والے حق نواز اور ان کی اہلیہ طاہرہ کا بھی ذکر کرچکا۔ میں سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز دیکھ کر خود بڑا متاثر ہوا اور اسے شیئر بھی کرتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میرے اور بعض دوستوں کے پاس جتنے بھی وسائل ہیں، ہم ان کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے۔ زرعی اصلاحات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کا ذکر کرچکا اور ان کے بارے میں اس لئے تحریر کیا کہ پاکستان میں کئی دہائیوں بعد زراعت میں حقیقی اصلاحات پر کام شروع کیا گیا ا ور اس کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ عادت بن گئی ہے کہ ہم سب کچھ حکومتوں کے ذمے ڈال دیتے اور اپنی ذمے داری سے عہدہ برآ ہوجاتے ہیں۔ اکثر دوستو ں سے بات ہوتی ہے کہ اگر پاک فوج اپنے ملازمین اور اس کے ساتھ سویلینز کے لئے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) جیسا ادارہ بناسکتی ہے تو سویلین ادارہ پاکستان ریلوے اپنے وسائل جمع کرکے اس طرز کے ہسپتال کیوں نہیں بناتا، جس سے ناصرف اس کے اپنے ملازمین استفادہ کریں، بلکہ قریبی آبادیوں کے لوگ بھی علاج کراسکیں۔ اس پر رونے کو دل کرتا ہے کہ ریلوے کے جو طبی ادارے پہلے سے موجود ہیں، وہ کئی کنال پر پھیلے ہوئے ہیں، جس کی بڑی مثال لاہور میں کیرن ہسپتال ہے، لیکن اس کی حالت محلے کی ایک ڈسپنسری سے بھی بدتر ہے، لیکن آج تک جتنے بھی وزیر ریلوے آئے، انہوں نے اس کی حالت بہترکرنے کے بجائے یہی موقف اپنایا کہ سکول اور ہسپتال چلانا ہماری ذمے داری نہیں، ہم اسے پرائیویٹائز کردیں گے۔ 
کیا آرمی کا ادارہ اپنے تعلیمی ادارے نہیں چلارہا، 
آرمی کے سکول اور ہسپتال معیار کے اعتبار سے مثالی ہیں۔ پنجاب سول سیکریٹریٹ سرکاری محکموں کا ہیڈ کوارٹر ہے، اگر یہاں سے تحرک کیا جائے توکیا یہ ممکن نہیںکہ سرکاری ملازمین اور اہل خانہ کے لئے بہترین سہولتوں کا حامل الگ سے سرکاری ہسپتال بن سکے اور یہاں شہریوں کا بھی علاج ہو، تاکہ دوسرے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوسکے۔ چیف سیکریٹری اسے حکومت کی اجازت کے بعد پنجاب سیکریٹریٹ کے منصوبے کے طور پر شروع کریں اور نیک نیتی ہو تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں، یہ منصوبہ برسوں نہیں مہینوں میں مکمل ہوسکتا ہے۔ آج سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے پروٹوکول والے مریضوں کی بڑی تعداد بیوروکریسی سے تعلق رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوا م قطاروں میں لگے دکھائی دیتے ہیں اور سفارشی مریض ناصرف پروفیسر کی سطح کے ڈاکٹر سے چیک اپ، ٹیسٹ اور ادویہ لے کر گھروں کو چلے جاتے ہیں، غریب مریض باری نہ آنے پر اگلے روز دوبارہ تازہ دم ہوکر قطار میں لگنے کے لئے پہنچ جاتا ہے۔ بیوروکریسی تو ایسا طاقتور حلقہ ہے، اگر (قانون، سرکاری قواعدوضوابط) اجازت دیتے ہوں تو یہ کوئی منصوبہ شروع کریں تو ان کے کہنے پر بہت سے سرمایہ کار اور مخیر افراد اس کے لئے فنڈنگ بھی کرنے کو تیار ہوجائیں گے۔ اگر ایسا نہیں تو پبلک پرائیویٹ وینچر کے طور پر ہسپتالوں کے منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں۔ 
اس کیلئے صرف سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے اور اگر آپ اپنے ادارے، اس سے وابستہ لوگوں کی بہتری اور فلاح کے لئے کام کریں تو یہ اصلاحات کا عمل ہے۔ اگر اس طرح کے منصوبے شروع ہوں گے تو یہ کسی کرپشن اور غیر معمولی تاخیر کا بھی شکار نہیں ہوں گے، بلکہ بروقت پایۂ تکمیل تک پہنچ کر عوام کو سہولتیں پہنچانے کا ذریعہ بنیں گے۔ اسی طرح ہمیں اپنے گلی محلے میں خاکروب کے نہ آنے پر اسے کوسنے کے بجائے ہمت کرکے خود آگے بڑھنا اور صفائی ستھرائی کرنی چاہیے، اگر کوڑا لینے والا نہ آئے تو کوڑا کھڑکی سے نیچے پھینکنے یا شاپر بیگ میں بند کرکے گلی میں پھینکنے کے بجائے جب کوئی سودا سلف لینے نکلیں تو اسے کوڑے دان میں ڈال دیں۔ یہ اقدامات اصل میں اصلاحات کی ہی ایک شکل ہیں اورسب انفرادی طو ر پر اس فارمولے کو اپنالیں تو یہی اجتماعی صورت اختیار کرجائے گا اور ایک دہائی میں حقیقی معنوں میں نیا پاکستان وجود میں آجائے گا۔