21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

اعلیٰ ظرف لوگ… اعلیٰ ظرف لوگ…

عالم بالا میں کوئی ہے، پاکستان جس کا لاڈلا ہے، آج کی تحریر کے لئے ہارون الرشید کے فقرے سے موزوں فقرہ نہیں سوجھ رہا کہ اس ایک فقرے میں کئی راز پنہاں ہیں، کئی حقائق پوشیدہ ہیں جو حالات و واقعات سے ثابت ہیں، وگرنہ بھارت کے موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں یا تحریک آزادی کے وقت کو دیکھیں تو پاکستان کا معرض وجود میں آنا بذات خود معجزہ لگتا ہے۔ اس پس منظر میں ہارون الرشید کا یہ فقرہ حرف بہ حرف درست معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا میں کوئی ہے، پاکستان جس کا لاڈلا ہے وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ اپنے وقت کی دومکار ترین قوموں سے بابائے قوم مسلمانوں کے لئے ایک الگ آزاد ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے؟ بعدازاں آزادی کے حالات کو دیکھیں تو بھی یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ کئی ایسے مواقع آئے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ ہی اپنی بقا کے نازک ترین دور میں رہا اور آج بھی جب یہ دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ملک ہے، اس کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ دشمنان ہمہ وقت اپنی گندی نظریں وطن عزیز پر گاڑے ہوئے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ کسی بھی طور وہ اس کے وجود کو ختم (خاکم بدہن) کرنے میں کامیاب ہوسکیں، اس مقصد کے لئے الکفر ملت واحدہ کی عملی تصویر بنی ہے اور ان کے باہمی تعلقات اس ایک نکتے پر یکساں نظر آتے ہیں۔ 
قیام کے بعد، جو نامساعد حالات پاکستان کو درپیش رہے، ان سے نمٹنے کے لئے اللہ نے اس ملک کو ایسے نابغہ روزگار لوگوں سے لیس فرمایا کہ جن کی اوّلین ترجیح پاکستان کا دفاع رہی۔ سقوط ڈھاکا کے بعد بھارت بلندبانگ دعوے کررہا تھا، تکبر اور غرور ایسا تھا کہ مغربی پاکستان کو کسی بھی وقت ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، گو 1965 کی جنگ میں بری طرح شکست کھاچکا تھا، لیکن سقوط ڈھاکا کے بعد اس کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھٹو جیسی ولولہ انگیز قیادت نصیب فرمائی، جس نے ناصرف اقوام عالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کی ڈولتی کشتی کو بحفاظت کنارے لگایا، بلکہ بھارت کو مزید جارحیت سے بھی روک کر پاکستان کے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کروایا۔
1974میں بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکا کیا تو بھٹو صاحب پاکستان کے دفاع پر متفکر ہوگئے، انہوں نے اس کا جواب دینے کی ٹھان لی، لیکن افسوس کہ اُس وقت تک پاکستان ایٹمی قوت کے حصول میں ابتدائی مراحل میں تھا جب کہ بھارت ایٹمی تجربہ کرکے کئی قدم آگے بڑھ چکا تھا۔ اس کڑے وقت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو ہالینڈ میں سینٹری فیوج کی ایک فیکٹری میں ملازمت کررہے تھے، بھٹو صاحب کو خطوط لکھے اور اپنی خدمات پاکستان کو دینے کی پیشکش کی۔ بھٹو صاحب پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر دیکھنا چاہتے تھے اور جیسے ہی ڈاکٹر صاحب کا خط ان کی نظروں سے گزرا، انہوں نے فوراً ڈاکٹر صاحب کو پاکستان آنے کے لئے کہا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ملاقاتوں میں بھٹو صاحب نے اس گوہر نایاب کو مایوس نہیں کیا اور انہیں پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے کی ذمے داری سونپ دی۔ اس مقصد کے لئے ڈاکٹر صاحب کو ہر ممکن تعاون اور وسائل مہیا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، باقی تاریخ کا حصہ بن چکا کہ کیسے ڈاکٹر صاحب اور بریگیڈیئر زاہد علی اکبر نے مل کر کہوٹہ کی بنیاد رکھی، اسے انتہائی تیزی کے ساتھ مکمل کیا اور کس طرح عالمی منڈی سے مطلوبہ سازوسامان کی ترسیل ممکن ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کی مہارت تامہ دراصل یورینیم کو افزودہ کرنے میں تھی جب کہ بھارت نے جو تجربہ کیا تھا، وہ پروٹینیم بم کا تھا، لیکن اس کی کارکردگی یورینیم کی نسبت کہیں کم تھی تو دوسری طرف بھارت کا یہ کامیاب تجربہ بہرکیف کوئی بہت زیادہ کارگر ہرگز نہ تھا جب کہ یورینیم سے بننے والا ایٹم بم انتہائی کارگر ہوتا۔
بھٹو مرحوم کے اس اقدام پر عالمی طاقتیں، جو پہلے ہی بھٹو سے ناصرف ناخوش، بلکہ بہت حد تک تنگ تھیں، بھٹو صاحب کے مزید خلاف ہوگئیں اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا، تاہم بھٹو صاحب نے ببانگ دہل کہا کہ پاکستانی گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ امریکہ نے فرانس سے ہونے والے ایٹمی ری پروسیسر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لئے فرانس پر شدید دباؤ ڈالا اور فرانس اس معاہدے سے منکر ہوگیا، لیکن پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کا ارادہ ترک نہیں کیا، بلکہ ڈاکٹر صاحب کی سربراہی میں پاکستان اس میں بھی خودکفیل ہوگیا۔ یہاں پھر ہارون الرشید کا فقرہ لکھنے پر 
مجبور ہوں کہ قورمہ بنانے کے لئے گوشت بنیادی عنصر ہے بعینہ ایٹم بنانے کے لئے یورینیم کی افزودگی بنیادی عنصر ہے اور پاکستان اسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مہارت تامہ سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، البتہ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے رفقاء نے بھی ایٹم بم بنانے میں دن رات ایک کیے رکھے۔ آج پاکستان کے پاس ایٹمی سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، جو اس مشن کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں کوشاں ہے۔ اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ بوقت ضرورت جس اہلیت کے افراد کی پاکستان کو ضرورت رہی، وہ ملک کو مہیا ہوتے رہے، ان میں سرفہرست بھٹو صاحب تھے جو وقت کی ضرورت کے مطابق عالمی طاقتوں کا سامنا کرتے ہوئے اس پروگرام کو دیوانہ وار شروع کرنے کی اہلیت رکھتے تھے تو بعدازاں جنرل ضیاء تھے، جنہوں نے امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے صرف نظر کرنے کے لئے افغان جنگ کا حصہ بنائے رکھا، تاہم اگر افغان جنگ نہ بھی ہوتی تو کسی اور طریقے سے جنرل ضیاء امریکہ کو ایٹمی پروگرام سے دُور رکھنے کی پالیسی اختیار کرتے، اسی طرح غلام اسحاق خان نے اس پروگرام میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بناکر تاریخ میں امر ہوگئے۔
پاکستان کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایک وقت میں جب پاکستان اقوام عالم سے بھڑ کر اپنا دفاع ناقابل تسخیر بناچکا تو اس پر کیسے حکمران مسلط ہوئے، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کا کردار اس حوالے سے پھر بے نظیر رہا کہ انہوں نے ایٹمی اثاثوں کو مزید پُراثر بنانے کے لئے میزائل ٹیکنالوجی کا حصول بھی ممکن بنایا اور اس ضمن میں کسی بھی خطرے کو خاطر میں نہیں لائیں۔ اللہ کریم ان تمام شخصیات کو درجہ بدرجہ اس کا اجر عطا کرے اور جن حکمرانوں نے اس ملک کو لوٹا، اس کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا، انہیں دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرے۔ ڈاکٹر صاحب شدید علالت کے بعد آخرکار اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے اور ان کے جنازے پر آسمان بھی پھوٹ پھوٹ کر روپڑا، انا للہ وانا الیہ راجعون، عوام کے نزدیک یہ ان شخصیات کا اعلیٰ ظرف تھا کہ انہوں نے پاکستانی مفادات کے سامنے اپنی ذات کو کبھی ترجیح نہیں دی، ایسے اعلیٰ ظرف لوگ ناصرف اس دنیا بلکہ اپنے رب کے حضور بھی ہمیشہ سرخرو رہیں گے، ان شاء اللہ۔