21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

کھیلوں کیساتھ فنون لطیفہ پر بھی توجہ ضروری ہے کھیلوں کیساتھ فنون لطیفہ پر بھی توجہ ضروری ہے

آج کل لاہور کا قدافی سٹیڈیم دنیا کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے، جو خوش آئند ہے، قذافی سٹیڈیم پاکستان میں واقع سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے، ابتدا میں یہ صرف کرکٹ کے لئے مخصوص کیا گیا ، جس میں 60 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، یہ سٹیڈیم 1959 میں تعمیر ہوا، ابتدا میں اس کا ڈیزائن نصرالدین مراد خان نے تیار کیا تھا۔ اس میدان پر پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین 1959 میں 21 سے 26 نومبر کے دوران کھیلا گیا۔ قذافی سٹیڈیم کا پہلا نام لاہور سٹیڈیم رکھا گیا تھا، جس کو 1974 میں تبدیل کرکے قدافی سٹیڈیم رکھ دیا گیا، جب لیبیا کے صدر معمر قذافی نے اسلامی کانفرنس میں پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے حق میں خطاب کیا تھا۔ اس سٹیڈیم کو 1996 میں کرکٹ عالمی کپ کے لئے دوبارہ مرمت کیا گیا۔ نیّر علی دادا نے اس کا نقشہ بنایا، جو مغل طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ 1996  کے عالمی کرکٹ کپ کا فائنل یہاں سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ فاتح سری لنکا کے کپتان ارجنا رانا تنگا نے اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے ٹرافی وصول کی تھی۔
بین الاقوامی معیار کے اس سٹیڈیم میں اس کی تعمیر سے اب تک سیکڑوں مقابلوں کا انعقاد کیا جاچکا، بعدازاں یہاں عالمی معیار کا ہاکی سٹیڈیم تعمیر کیا گیا، جو کھیلوں کے شائقین کے لئے گراں قدر اضافہ تھا، پھر آہستہ آہستہ یہاں دیگر کھیلوں کے فروغ کے لئے مزید تعمیرات کی گئیں، جس سے سٹیڈیم کے احاطے میں ایک طرف کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے کافی کام ہوا تو دوسری جانب یہاں کلچرل ایکٹویٹی کے لئے کلچرل سٹیڈیم بنایا گیا، جہاں ملکی ڈراموں کے ساتھ پلاگ میں فنون لطیفہ کے فروغ کے لئے بے بہا کام ہورہا، جو اس سے قبل کہیں دیکھنے سننے کو نہیں ملا تھا۔
ہم سمجھتے ہیں حکومت اگر فلم، کھیل اور سیاحت میں کوئی بڑا کام کرجائے تو اس ملک کی قسمت سنور سکتی ہے، اس ملک کے بچے جو شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں، انہیں مثبت رخ دے کر بکھرنے سے بچایا جاسکتا ہے، اس کا واحد ذریعہ آج فنون لطیفہ کی تمام اقسام کی ترویج کے ساتھ کھیلوں کا فروغ ہے، اس ضمن میں ہم بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل کے لئے ہم پنجاب میں کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے بڑی تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ہمارا نوجوان طبقہ مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوکر صحت مند مقابلوں کے ذریعے دنیا میں اپنا مقام بنانے کے ساتھ خود بھی صحت و تندرستی والی زندگی گزارے۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب تعلیم، صحت اور ذرائع مواصلات کے ساتھ کھیلوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔
ملک سے اگر انتہاپسندی، دہشت گردی جیسی بیماریوں کا خاتمہ کرنا ہے تو یہاں فنون لطیفہ کے ساتھ کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہوں گے، جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ اور صحت مند معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔ اسی حوالے سے آج کل لاہور کا قدافی سٹیڈیم کھلاڑیوں کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے، لاہور کے اس کثیر الثقافتی سٹیڈیم  میںکرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں خصوصاً علاقائی کھیل کبڈی کے بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کرواکر لاہور کے نوجوانوں کو تحفہ دینا چاہیے، تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا مثبت امیج  اجاگر کرنے کا پیغام دیا جاسکے، بلکہ قبضہ گروپوں سے زمینیں چھڑاکر کھیل کے میدان اور تعلیمی ادارے بنائے جائیں، تاکہ نوجوان نسل بہتر ماحول میں پرورش پاسکے۔ 
پنجاب حکومت صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کئی ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ صوبے بھر میں کھیلوں کے نئے میدان بنائے جارہے ہیں، جن میں ہاکی، کرکٹ اور فٹ بال کے ساتھ علاقائی کھیل شامل ہیں۔ صوبے کے پانچ شہروں میں ہاکی کے سٹیٹ آف دی آرٹ سٹیڈیم بنائے گئے ہیں جب کہ دیگر شہروں میں بھی کھیلوں کے میدان بنائے جارہے ہیں۔ صوبے بھر میں 
بہترین جمنازیم قائم کیے گئے ہیں، جہاں قوم کے بچے اور بچیوں کو مختلف کھیلوں کی سہولتیں ملیں گی، جس سے بچے ذہنی طور پر تندرست اور توانا ہوسکیں گے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کُل آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان پاکستان کے لئے امید کی کرن اور مستقبل میں ملک و قوم کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اگر انہیں بہتر ماحول اور ڈائریکشن مہیا کی جاسکے۔ پاکستان میں اس وقت کھیلوں اور تفریح کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔ کبھی یہاں جشن بہاراں عوامی سطح پر منایا جاتا تھا۔ گلیوں، محلوں اور کھیتوں کھلیانوں میں رنگ و نور کے دلکش مناظر ہوتے تھے، جو انسانی ذوق کی تسکین کے ساتھ اس کی فرسٹریشن کو دور کرنے کا بھی ذریعہ تھے۔ کبھی نئی آبادیاں بنتی تھیں تو وہاں کھیل کے میدان ضرور بنائے جاتے تھے، لیکن اب ہوسِ زر میں مبتلا معاشرے کی زمین کے ایک ایک انچ پر کمرشل تعمیرات ہوتی نظر آرہی ہیں اور کھیلوں کے میدان اور پارک کم ہوتے جارہے ہیں جب کہ ان کی ضرورت آبادی میں اضافے کے ساتھ بڑھتے جانا ایک فطری عمل ہے، جس پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مہذب ممالک کی طرح اگر ہم بھی بچوں کے جنون کی نکاسی کی راہیں کھلی رکھتے تو آج ہم سماجی ٹوٹ پھوٹ سمیت انتہاپسند معاشرے کے قالب میں نہ ڈھلتے۔ جاپان، چین، روس اور مغربی ممالک میں نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لئے نت نئے طریقے اور کھیل دریافت کیے جاتے ہیں اور ان کے لئے کھیلوں کے میدان اور سٹیڈیم بنائے جاتے ہیں، جہاں یہ بچے اپنے شوق کی تسکین کے ساتھ صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
مغربی ممالک نے کار، موٹرسائیکل اور سائیکل کے کرتب دکھانے کو باضابطہ کھیل کا درجہ دے رکھا ہے، جس کی وجہ سے ان کھیلوں میں حفاظتی اقدامات بھی اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ تو اس چیز کو محفوظ بنانے کے لئے سرکاری سرپرستی ہے اور دوسری صورت اس سے روکنے کے لئے کوئی متبادل منصوبہ بندی بھی نہیں۔ جو ادارے اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کام کررہے ہیں، حکومت کو ان کی سرپرستی کرنی چاہیے، تاکہ ہمارا آج کا نوجوان مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے کر تعمیری سوچ کا حامل بن سکے۔ حکومت کو اس ضمن میں ماں باپ کا رویہ اپنانے اور بچوں کی ضروریات کے مطابق کھیل اور تفریح کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ ہم بھی تحمل اور رواداری کا حامل ایسا معاشرہ بن سکیں، جس کی مثال دنیا دے۔ جس طرح پنجاب حکومت معاشرے کو نارمل بنانے کے لئے کھیلوں کے فروغ کے لئے کام کررہی ہے، اسی طرح فنون لطیفہ کے فروغ اور ترویج کا اہتمام بھی ہر سطح پر کیا جانا چاہیے، اسی عمل سے ہم دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ کھیل کے مزید میدان مقامی سطح پر بھی آباد کیے جائیں۔ ہمارے نوجوانوں میں بہت ٹیلنٹ ہے مگر درست سمت میسر نہ ہونے سے بے راہ روی کا شکار ہورہا ہے، جس سے ہمیں اسے بچانا ہے۔