21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

پارکنگ فیس دو، محفوظ رہو… پارکنگ فیس دو، محفوظ رہو…

کراچی میں پانی کی عدم فراہمی اور ابلتے گٹروں سمیت سیوریج کے سنگین مسائل سے پریشان عوام کے لئے پارکنگ بھی بہت بڑا مسئلہ بن چکا، کراچی ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر ان مسائل سے دوچار ہے، جہاں پانی، بجلی، گیس، سیوریج اور صفائی کے ناقص انتظامات کے بعد اب پارکنگ بھی مسائل میں شامل ہے۔ چند دن پہلے سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں غیر قانونی پارکنگ کی الاٹمنٹ اور پارکنگ فیس کو غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کس قانون کے تحت پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے، چارجڈ پارکنگ کے نام پر بھتہ خوری بند کی جائے۔ معزز عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک، کمشنر کراچی اور بلدیاتی اداروں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ کس قانون کے تحت پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پارکنگ کے نام پر شہریوں کی بے عزتی کی جارہی ہے۔ فیس نہ دینے پر بدتمیزی کرتے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کس نے جگہ کیلئے پارکنگ کی اجازت دی۔ معزز جج نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں کو پارکنگ کیلئے ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے، کارروائی کرینگے اور پارکنگ فیس کے نام پر بھتہ نہیں لینے دینگے۔ 
عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں پر پارکنگ فیس وصول کرنا نہ شروع ہوجائے اور اگر ایسا ہوا تو عزت دار لوگ عزت بچانے کے لئے 20 سے 30 روپے دے دیں گے۔ عدالتیں اپنا فرض ادا کررہی ہیں۔ کراچی کے چھوٹے مسئلے توجہ نہ ملنے سے اب بڑے مسائل بن چکے۔ شہر میں پارکنگ کے مسائل کا تعلق بے ہنگم ٹریفک، بڑھتی ہوئی آبادی اور سرکاری ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے سے ہے، سندھ حکومت کی طرف سے پچھلے 13 سال میں کوئی ماسٹر پلان نہیں بنایا گیا۔ 2017 سے پہلے کی رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر339 موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہوتی تھیں، یہ تعداد پہلے سے بڑھ کر 702 ہوچکی، 2018 میں سندھ حکومت نے قانون میں ترمیم رول نمبر 47 (3) ایس پی پی آر اے اینڈ بی آر ٹی ایس کو عوام کو ایک بہتر پلان دینے کی کوشش کی تھی، اُس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ 4.137 ملین وہیکلز کراچی میں رجسٹرڈ ہیں، 6457 مختلف سائز کی بسیں 192 روٹس پر چل رہی ہیں، شہر کو اس وقت 10600 بسوں کی ضرورت تھی۔
کراچی میں 30 فیصد سے زیادہ موٹر سائیکل اور 27 فیصد سے زیادہ کاریں چل رہی ہیں، 3.5 ملین وہیکلز روزانہ شہر کی سڑکوں پر دوڑتی ہیں، ذرائع کے مطابق اب روزانہ 15 سو کے قریب موٹر سائیکل رجسٹر ہورہی ہیں۔ 3 کروڑ آبادی والے شہر میں پارکنگ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پچھلے 13 سال سے قائم ہے، لیکن صوبائی حکومت کراچی کے عوام کو ٹرانسپورٹ اور اس سے وابستہ دوسرے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کا استعمال کاغذوں کی حد تک محدود ہے۔ کبھی گیس اور بجلی بلوں میں بلدیاتی ٹیکسز کی وصولی کا منصوبہ اس بات کی عکاسی تھا کہ سندھ حکومت اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کمشنر کراچی اور بلدیاتی ادارے پارکنگ سے حاصل شدہ آمدن کا حساب نہیں دے سکتے، اس کی بنیادی وجہ تمام ٹھیکے غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر دیئے گئے ہیں۔
پارکنگ کے مسائل پیدا ہونے کی بنیادی وجہ حکومت سندھ کی نااہلی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت ان مسائل کا حل کرنا چاہتی ہے یا پچھلے 13 سال کی طرح وقت گزاری کرنا چاہتی ہے، صوبائی حکومت سرکلر ریلوے کے نظام کو فعال کرلے تو ٹریفک اور اس سے جڑے کافی مسائل سے چھٹکارا ممکن ہے، 
اس طرح حکومت کی ساکھ بھی بہتر ہوجائے گی۔ پارکنگ کے لئے پرچی سسٹم کو ختم کیا جائے، اس کی جگہ پنجاب وارڈنز والا نظام لایا جائے۔ شہر میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے صرف 3200 کے قریب نفری ہے، جو انتہائی کم ہے۔ پارکنگ مافیا اور ٹریفک والوں کی ملی بھگت سے سندھ حکومت اربوں کے ٹیکسز کی وصولی میں ناکام ہے۔ عوام کو سرعام لوٹا جارہا ہے۔ سندھ حکومت نے ہر دفعہ شارٹ ٹرم اقدامات کیے، جس سے رشوت میں اضافہ ہوتا ہے دولت چند خاندانوں تک سمٹ جاتی ہے، منی لانڈرنگ، افراتفری، لاقانونیت بڑھنے کے ساتھ انسانی حقوق اور نظام عدل پامال ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، چالان کے نظام میں بہتری لائی جائے۔ غلط پارکنگ پر قانونی کارروائی کو سخت کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کے اثررسوخ کو ختم کیا جائے۔ میڈیا پر ہزاروں ایسی رپورٹس چلتی ہیں، لیکن کسی حکومتی نمائندے پر اثر نہیں ہوتا۔
سڑکوں پر موجود قبضہ مافیا کو ختم کیا جائے۔ ٹھیلے، پتھارے لگانے والوں کے لئے جگہ مختص کی جائے،یہ سب کچھ ممکن ہے، اگر حکومت سندھ عوامی فلاح کے لئے اقدام کرنا چاہتی تو ان 13 سال میں کراچی میں حالات بہت بہتر ہوتے۔ پیپلز پارٹی اور وفاق کے ہر دور میں اختلافات رہے۔ اگر یہ اختلافات عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہوتے تو کراچی آج مافیاز کے ہاتھوں بے بس نہ ہوتا، کھنڈر نہ بنتا، صرف لڑائی کو ذاتی مفادات تک رکھا گیا۔ ایئرپورٹ پر قائم پارکنگ کو بھی ختم کیا جائے۔ من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر ایئرپورٹ کے مہمانوں کی زندگی مشکل بنائی ہوئی تھی۔ ایئرپورٹ پر قائم پارکنگ والوں کی بدمعاشی انتہا کو تھی، وہاں کام کرنے والوں سے بھی پارکنگ فیس چارج کررہے تھے۔ احتجاج سے تھوڑی بہتری اور غریب ملازمین کی جان بخشی ہوئی۔ آج بھی پارکنگ مافیا ایئرپورٹ کا مالک بنابیٹھا ہے۔ ٹھیکیدار کے ملازمین کی کوئی ٹریننگ نہیں ہے۔