21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

ڈاکٹر عبدالقدیر: کچھ یادیں، کچھ باتیں ڈاکٹر عبدالقدیر: کچھ یادیں، کچھ باتیں

ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق پشتون خاندان کے اورکزئی قبیلے سے تھا۔ آپ کے بہن بھائی 1947 میں ہی بھوپال سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے، تاہم ڈاکٹر اے کیو خان 1951 میں والدین کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر انہوں نے کراچی میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں ملازمت اختیار کی، جس کے بعد وہ سکالرشپ کے تحت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے جرمنی اور پھر ہالینڈ گئے، جہاں میٹریل ٹیکنالوجی میں ایم ایس اور بعدازاں بیلجیئم سے میٹلراجیکل انجینئرنگ میں ہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 31 مئی 1976 کو انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی، اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو تبدیل کرکے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربات کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر اے کیو خان نے ہی کی تھی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے ناصرف ایٹم بم بنایا، بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچر، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سنسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لئے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کے واسطے متعدد آلات بھی بنائے۔ 
ڈاکٹر اے کیو خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اس کو پروان چڑھایا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان سوشل ویلفیئر کے کاموں میں حددرجہ دلچسپی رکھنے والے شخص تھے۔ اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور سوشل ورک کے کام میں پیش پیش ہوتے تھے۔ وہ صحافیوں اور لکھاریوں سے میل 
ملاقاتوں سے کبھی نہیں کتراتے تھے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی بنی خان سے شادی کی تھی۔ جو اَب بھی بنی خان ہی کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اب تو ڈاکٹر اے کیو خان نانا بھی بن گئے تھے۔ آپ کو مختلف اوقات میں جو طلائی تمغے ملے، ان کی تعداد 19 تھی۔ آپ نے 150 سے زائد سائنسی و تحقیقی مضامین لکھے۔ 1993 میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند بھی دی تھی۔ 14 اگست 1996 میں اس وقت کے صدر نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز بھی دیا تھا جب کہ 1989 میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی ان کو عطا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچیٹsechet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں اب بھی سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 2012 میں ایک سیاسی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد بھی رکھی، تاہم 2013 کے انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنی سیاسی جماعت تحلیل 
کرنے کا بھی اعلان کردیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ میں ہی گزارے اور گزشتہ چند برسوں سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی تھم چکا تھا۔ 
10 اکتوبر 2021 کو پاکستان کا یہ محسن اگلے جہان سدھار گیا۔ پچھلے ماہ اگست میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کرونا وائرس کا بھی شکار ہوئے تھے۔ پہلے الشفاء ہسپتال اور بعد میں ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ان کو وہاں علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی گئیں، جن کے بعد وہ ملٹری ہسپتال میں کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد گھر منتقل ہوگئے تھے۔ ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق ہفتہ اتوار کی رات ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی۔ انہیں پھیپھڑوں کی تکلیف کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق اتوار کی صبح چھ بجے انہیں خون کی قے آئی، جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دونوں بیٹیاں ان کی ناسازی طبع کی اطلاع پاتے ہی ان کے پاس آگئی تھیں۔ 
ان کی وفات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پورے اعزاز کے تدفین کی جائے گی اور تدفین کے متعلق جو فیصلہ ان کی فیملی کرے گی، اس پر وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے عمل کریں گے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان نے بھی ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کی تدفین اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں کی گئی۔ قبل ازیں ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کی میت فیصل مسجد پہنچی تو ایمبولینس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ نماز جنازہ کے وقت اسلام آباد میں طوفانی بارشوں کے باوجود لوگوں کی کثیر تعداد چھتریاں لے کر فیصل مسجد پہنچی جب کہ بارش کے باعث بہت سے لوگ جنازہ پر بھی نہیں پہنچ پائے۔ اس کے باوجود ایک بڑا جنازہ دیکھا گیا۔ نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الغزالی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ کے بعد جب میت تدفین کے لئے ایچ ایٹ قبرستان میں لے جائی گئی تو بھی بارش تیز تھی، جس سے تدفین میں تھوڑی تاخیر ہوگئی۔ اس دوران پاک فوج اور اسلام آباد پولیس کے چاق وچوبند دستے میت کے گرد حصار بناکر کھڑے رہے۔ سکس آزاد کشمیر رجمنٹ نے عظیم جوہری سائنسدان کو گارڈآف آنر بھی پیش کیا۔ پاکستان کے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کبھی بھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کو دنیا کی بڑی اسلامی جوہری طاقت بنانے والے اس عظیم سائنس دان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین)۔