21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

’’اسلامی بم‘‘ کا معمار بھی رخصت ہوا ’’اسلامی بم‘‘ کا معمار بھی رخصت ہوا

یہ کہانی 1976 سے بھی پرانی ہے۔ 60 کی دہائی میں جب نوجوان ذوالفقار علی بھٹو ایوب کابینہ میں وزیر تھے تو وہ یورپ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں معلومات لیا کرتے تھے۔ بھٹو بطور وزیر صنعت جب بھی یورپ جاتے تو مختلف ذرائع استعمال کرکے ایٹمی طاقت بننے سے متعلق معلومات اکٹھی کرتے اور اس بات کو مغربی ممالک کی ایجنسیاں اور سی آئی اے بھی مانیٹر کیا کرتی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان شدید ترین مسائل کا شکار تھا اور اُس وقت دنیا بھر کے میڈیا اور بالخصوص بھارتی جھوٹے میڈیا نے یہ تاثر پھیلا رکھا تھا کہ مغربی پاکستان بھی جلد ختم ہوجائے گا اور یہ خطہ جلد ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے ہوگا۔ بھٹو ذہین و فطین عالمی رہنما تھے۔ آج تاریخ کے اوراق سے یہ حقیقت قارئین کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بھٹو نے دسمبر 1971 میں اقتدار سنبھالا اور جنوری 1972 میں پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ منیر احمد خان کو اس کمٹمنٹ کے ساتھ ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا کہ 1976 کے شروع میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنادیا جائے گا، لیکن 18 مئی 1974 کا دن تھا اور بھٹو بچے کھچے پاکستان کی بطور وزیراعظم ازسرنو تعمیر میں مصروف تھے تو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکا کرکے اس خطے کے امن اور پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے فوری بعد بھٹو نے عظیم محب وطن کا کردار ادا کیا اور جہاں انہوں نے عبدالقدیرخان کو پاکستان سمگل کیا، وہیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے متوازی کہوٹہ میں فوری ایٹم بم کی تیاری کے لئے ایک علیحدہ ادارے کی تیاری کروائی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں منیر احمد خان کی سربراہی میں کام کیا۔ یہ نصف صدی کا حقیقت پر مبنی قصہ ہے اور جب ہم اقوام عالم میں ایٹمی ملک ہونے کی وجہ سے اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہیں تو 1976 میں لاہور میں مشہور زمانہ امریکن وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی بھٹو کو ایٹمی پروگرام سے باز رکھنے کے لئے دی گئی دھمکی کے وہ الفاظ کہ ’’ہم تمہیں نشان عبرت بنا ڈالیں گے‘‘ کو کیوں بھول جاتے ہیں۔
بھٹو کی بطور وزیراعظم مختصر زندگی کا حاصل پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا تھا، جس کی کھوج میں وہ 60 کی دہائی سے سرگرم عمل تھے۔ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بھٹو کی کمٹمنٹ اور عالمی طاقتوں کے دباؤ سے انکار ہی تھا، جس نے انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچایا اور بھٹو نے اپنی گردن لمبی کروالی، لیکن ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔
بھٹو کے بہت قریبی ساتھی ملک غلام مصطفیٰ کھر نے مجھے بتایا تھا کہ جب بھٹو برسراقتدار تھے تو ایک مرتبہ مجھے حکم ہوا کہ میں سری لنکا پہنچوں، جہاں لیبیا کے معمر قذافی دورے پر تھے۔ کھر کے مطابق سری 
لنکا پہنچنے پر کرنل قذافی نے مجھ سے خصوصی ملاقات کی اور بھٹو صاحب کے لئے خصوصی پیغام کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے لئے بہت بھاری رقم میرے ساتھ پاکستان بھجوائی۔ 70 کی دہائی میں ایٹمی پروگرام شروع ہونے کے ساتھ ہی اس کے خلاف بھرپور مہم شروع ہوگئی تھی۔ سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ فیصل نے اس ایٹمی پروگرام کے لئے بھرپور مالی مدد فراہم کی تھی۔ لاہور میں 1974 میں ہونے والی عظیم اسلامی سربراہی کانفرنس بھی اس ایٹمی پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں بہت مددگار تھی۔ میں نے اپنے سکول کے زمانے میں اپنے مرحوم والد کی ذاتی لائبریری سے بھارت سے منگوائی ایک بھارتی جرنیل کی کتاب ’’Pakistan's Islamic Bomb‘‘ پڑھی تھی، جس میں مسلم امہ کے بھٹو سمیت تمام سربراہان مملکت کے مستقبل کے عزائم اور کشمیر اور فلسطین کی آزادی سے متعلق کفار کے خدشات تھے۔ بھٹو صاحب کی عالمی طاقتوں کے ایماء پر معزولی اور پھر پھانسی کا اصل مقصد ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنا تھا، لیکن جب بھٹو حکومت ختم کی گئی تو یہ پروگرام قریباً مکمل ہوچکا تھا اور پھر کسی کی بھی ہمت یا حوصلہ نہیں تھا کہ اس پروگرام کو ختم کرسکتا۔
’’پاکستان کے اسلامی ایٹم بم‘‘ کی اصطلاح کے پیچھے70 کی دہائی کے مسلم حکمرانوں کی بھٹو کی قیادت میں ایک تاریخ ساز جدوجہد اور لاتعداد مسلمان حکمرانوں کا خون شامل ہے، جو شاہ فیصل، حوری بومدین، بھٹو سے لے کر کرنل قذافی اور صدام حسین کی اموات تک پھیلا ہوا ہے۔ منیر احمد خان،
 ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے علاوہ سیکڑوں سائنس دانوں کی محنت اس عظیم ایٹمی پروگرام کی بنیادوں میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی اس قوم نے بہت عزت دی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے اسلامی ایٹم بم کے پروگرام کے لئے تمام کام کرنے والوں کو ہماری قوم نے ہمیشہ عزت، احترام اور تکریم دی، لیکن اس ناممکن کو انتہائی نامساعد حالات اور عالمی شدید دباؤ کے باوجود جاری رکھنے والے بھٹو سے اس قوم نے اچھا سلوک نہیں کیا اور اس کی جان بچانے کے لئے کردار ادا نہ کیا۔
اس الزام میں کوئی صداقت نہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر دبئی میں بیٹھ کر اپنا ذاتی نیٹ ورک چلارہے تھے۔ کوریا کو ایٹمی پروگرام دے کر جدید میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا سہرا محترمہ بینظیر کے سر تھا۔ بلاشبہ عظیم مسلم امہ کی بحالی کے لئے محترمہ نے کچھ کوششیں کیں، لیکن اب وقت تبدیل ہوچکا تھا۔ امریکہ کا اگر سپرپاور بننے کے بعد کا ریکارڈ دیکھا جائے تو دنیا بھر میں جس شخص یا حکمران سے اسے خطرہ ہو وہ یا تو اس کی حکومت ختم کرواکر مروا دیتا، یا اس کا جینا مشکل کردیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی مطالبہ جنرل مشرف کے دور میں بھی امریکہ کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو امریکہ کے حوالے کردیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے کے لئے جو حکمت عملی مشرف نے اپنائی، وہ بہترین تھی۔ جو کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو قید میں ڈال دیا انہیں اصل صورت حال کا ادراک ہی نہیں۔ اگر امریکہ ڈیرہ غازی خان سے ایمل کانسی کو اٹھا لے جاسکتا ہے تو پھر ڈاکٹر عبدالقدیر تو ہمارے ایٹمی پروگرام کے خالق تھے۔ پاک فوج نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی ان کی رحلت تک ہر طرح سے حفاظت کی اور اس قوم کے عظیم سپوت تک امریکنوں کی ہوا تک نہیں پہنچنے دی، جس کا ہمیں کھلے دل سے ناصرف اعتراف کرنا ہوگا، بلکہ داد بھی دینی ہوگی۔ مجھے مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر کی وہ دلکش مسکراہٹ آج بھی یاد ہے، جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت (جو بہرحال غلط فیصلہ تھا) تحریک تحفظ پاکستان بنائی تھی اور ایڈمرل جاوید اقبال کے ظفر علی خان روڈ والے بنگلے میں ایڈمرل صاحب کی جماعت میں شمولیت کی تقریب میں تشریف لائے تھے اور میں نے انہیں کہا تھا کہ ’’عبدالقدیر صاحب یہ قوم بھٹو کے بعد آپ کو والہانہ پوجتی ہے اور آپ سے اس قوم کی محبت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ آپ کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے تھا کہ پاکستان کی سیاست آپ کے آسمان جیسے قد کے سامنے ہیچ ہے اور اس سیاست میں آپ کا جیتنا ناممکن ہے۔‘‘ یہ سن کر ساتھ بیٹھے ایڈمرل جاوید اقبال، سابق ایم این اے میاں عبدالوحید اور ہمارے مرحوم دوست شفقت رحمان کو برا لگا تھا، لیکن عبدالقدیر صاحب نے ایک ہی جواب دیا تھا کہ ’’میں عوام کی حالت بدلنا اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف لڑنا چاہتا ہوں۔‘‘ بہرحال انہیں جلدہی پاکستانی سیاست کی اس گندگی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ختم کردی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے قومی ہیرو تھے اور رہیں گے اور پاک فوج نے ان کی تدفین سرکاری پروٹوکول کے ساتھ کرکے قوم کو بتادیا کہ ڈاکٹر صاحب کی اہمیت و عزت سب سے مقدم تھی اور ان کی نظربندی دراصل ان کی حفاظت اور سلامتی کے تناظر میں تھی۔ قوم کے اس محسن کی اللہ مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین)۔