21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

شانِ رحمت اللعالمین ﷺ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ

خالق کائنات نے نبی کریم ﷺ کو پوری کائنات کے لئے رحمت اللعالمین بناکر بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسا بنایا کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ اعلیٰ، اجمل، افضل، اکمل، ارفع، انور، احسب اور سب سے انسب، ایسے تمام کلمات مل کر بھی آپ ﷺ کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں، اللہ رب العزت کا قرآن کریم میں فرمان ہے، ’’اے محبوب ﷺ ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا ہے۔‘‘ جس ہستی کا ذکر خالق کائنات بلند کرے اور خود درود و سلام بھیجے، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبیﷺ ہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے متعلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو بے شمار خصوصیات عطا فرمائیں، جن کو لکھنا تو درکنار شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سراج منیرکا لقب دیا، یہ لقب صرف آپ ﷺ کو ہی دیا گیا، جس کا مطلب ہے ’’روشن چراغ‘‘ آپ ﷺ نبوت کا روشن آفتاب ہیں۔ آپﷺ کے آفتاب کی کرنیں سب سے پہلے اصحاب پر پڑیں، پھر تمام دنیا پر پھیل گئیں۔ اور انہی کرنوں کی بدولت دنیا کے تمام خطوں پر اسلام پھیل گیا۔ اور ان کرنوں نے چپے چپے پر ہدایت کا نور پھیلایا۔ 
شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کو اگر صحیح معنوں میں سمجھنا ہے تو قرآن مجید کو سمجھنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںحضور اکرم ﷺ کو یوں مخاطب فرمایا: وما ارسلنٰک الا رحمۃ اللعالمین۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی رسالت وبعثت کو جہانوں کے لئے رحمت ہونے کے ساتھ محصور فرمادیا کہ آپ سراپا رحمت ہیں اس کے علاوہ نہیں اور اس رحمت سے تمام عالمین میں سے کسی کا استثنیٰ بھی نہیں۔ اس قوت قرآنی سے آپ ﷺ کے مقام ِرسالت و بعثت کی عظمت کا بیان یقیناً اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ علمائے امت اپنے علوم کو اور خطبائے امت اپنے خطبات کو اور ادباء اپنی ادبی کاوشوں کو اور کالم نویس اپنی تحریروں کو اور مقررین اپنی تقاریر کو اس حسین وجمیل عنوان سے ضرور زینت بخشیں اور رحمت للعالمینﷺکو موضوعِ سخن بناکر خالق کائنات اور کون ومکان کے تمام عالموں کو رحمت للعالمین ﷺکے انوار سے منور اور اس کی خوشبو سے معطر کرتے کرتے راہِ سعادت کو سدھار جائیں۔
رحمت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ تمام جہانوں کے لئے رحمت کا مطلب ابن حجر رحمہ اللہ نے یوں واضح کیا ، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی رحمت تو آپﷺ کے دشمنوں پر بھی رہی کہ آپ نے اپنے مخالفین کی کبھی جلد پکڑ نہیں چاہی۔ قرآن کریم میں یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کفار نے کہا: اے اللہ! اگر یہ آپ کی طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادیں یا دردناک عذاب دیں، تو باری تعالیٰ نے ان کے رد میں فرمایا کہ حق تعالیٰ ان کفار کو جب تک آپ ﷺ ان کے درمیان ہیں عذاب نہیں دیں گے اور نہ اُس وقت تک عذاب دیں گے جب تک وہ طالبِ مغفرت ہوں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺپر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: ’’تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے بہت مصیبتیں اٹھائی ہیں، لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب میں (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کو دعوت حق دینے گیا، لیکن اس نے میری دعوت کو رد کردیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہوکر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا تب میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل (علیہ السلام) اس میں موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپﷺکے بارے میں آپﷺ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے، وہ بھی سن چکا۔ آپ ﷺ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپﷺ ان کے بارے میں جو چاہیں اسے حکم دیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے سلام کیا۔ اور کہا، اے محمدﷺ اگر آپﷺ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لاکر ملادوں۔ اس پر میں نے کہا کہ مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔‘‘ 
یہ ہے نبی رحمت اللعالمین ﷺ کی اپنے شدید ترین اذیت دینے والے دشمنوں کے لئے رحمت و شفقت۔ آپ ﷺ نے اُن سے ناصرف انتقام نہیں لیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی ان کے لئے رحمت کی دعا فرمائی۔ بطور امتی ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم نبی اکرمﷺ کی سیرت کو عام کریں اور ایسے واقعات کو کھل کر بیان کریں، جن کی روشنی ان دلوں کو بھی منور کردے جو رحمت اللعالمین ﷺ کی محبت سے محروم ہیں۔ سیرت نبویﷺ کا مطالعہ جس قدر زیادہ ہوگا، یقیناً صاحب مطالعہ کے سامنے نئی راہیں روشن ہوتی جاتی ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ہی سیرت نبوی ﷺ کو عام کرنا ہے۔گزشتہ روز گورنر ہائوس پنجاب میں رحمت اللعالمینﷺ کانفرنس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی، یقیناً ایسا روح پرور منظر دیکھ کر جذبۂ ایمانی میں اضافہ ہوا۔ اس وقت وزیراعظم عمران خان نے سرکاری سطح پر جس انداز سے شان رحمت اللعالمین ﷺ کو اجاگر کرنے پر زور دیا ہے، یقیناً اس کا پیغام ان نامُرادوں تک پہنچے گا جو نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم مسلمان اپنے فردا کی فکر میں ایسے مگن ہوئے کہ شان رحمت اللعالمینﷺکو اجاگر کرنے کے بجائے فرقہ واریت کو اہمیت دے بیٹھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے بچوں تک کو سیرت نبویﷺسے آگاہی نہ رہی۔ ہمارے بچے ان کرداروں کو اپنا ہیرو سمجھ بیٹھے جو زمین پر فساد پھیلانے کا سبب بنتے رہے۔ بلاشبہ ہم بطور مسلمان ناموس رسالتﷺ پر اپنا سب کچھ قربان کرنے سے کسی صورت نہیں گھبراتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آپﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ رحمت اللعالمینﷺ کی محبت پیدا فرمائے، اور ہمیں آپﷺ کی سیرت و کردا رکو اپنا کر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی سے منسلک افراد کو اس پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ عالم کفر کو شان رحمت اللعالمین ﷺ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔