21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

پاکستان کا معاشی نظام، قرضے اور امداد پاکستان کا معاشی نظام، قرضے اور امداد

انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سید اکبر زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پورا نظام قرضوں اور امداد پر چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے ہم اپنی اقتصادی صورت حال بہتر کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے لئے یونیسیف سے پیسے مانگتے ہیں جب کہ کرونا ویکسین امریکہ اور چین سے مانگتے ہیں۔ پاکستان ایسا ملک ہے، جہاں کثیر تعداد میں کروڑ اور ارب پتی رہتے ہیں، لیکن ملک کنگال اور کچھ لوگ بہت امیر ہیں۔ حالیہ پینڈورا پیپرز میں پاکستانیوں کی کثیرتعداد کی بیرون ممالک غیر قانونی جائیدادیں اور اثاثوں انکشاف ہوا ہے، جو لمحۂ فکریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مقروض ہیں اور اس قرض میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، آئی ایم ایف امداد کرنے نہیں آتا بلکہ قرض دینے آتا ہے اور قرض کی واپسی سود کے ساتھ ہوتی ہے۔ المیہ کہ ہم تاحال صرف سود ہی ادا کررہے ہیں، قرضوں کی ادائیگی تک ابھی پہنچے ہی نہیں۔ ہمارا پورا نظام قرضوں اور امداد پر چل رہا ہے، جس ملک کا انحصار قرضوں، آئی ایم ایف اور امریکہ پر ہوگا توآپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس کی بین الاقوامی سیاست کیا ہوگی اور وہ کسی ملک کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام کلیہ فنون و سماجی علوم کی سماعت گاہ میں تیسری شیخ مطاہر احمد میموریل لیکچر سیریز کے تحت منعقدہ سیمینار بعنوان ’’جس ریاست میں ہم رہتے ہیں: آج کا پاکستان‘‘ سے خطاب میں کیا۔ 
پاکستان میں حالات اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے والے افراد یا عناصر ملکی معاشی صورت حال سے بہت زیادہ پریشان ہیں، لیکن اس ملک کا المیہ کہ یہاں کے مقتدر حلقے شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپائے بیٹھے سمجھتے ہیں کہ حالات ٹھیک اور قابو میں ہیں۔ دنیا بھر میں جو بھی ممالک تباہ ہوئے، وہ اپنی معاشی صورت حال کے پیش نظر ہوئے۔ وہ اپنے داخلی انتشار کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ دنیا میں بہت طاقت ور ممالک رہے ہیں جو دیکھتے دیکھتے مٹی کا ڈھیر ہوگئے۔ میرے ذہن سے مصر کے پاکستان میں سفیر کے الفاظ کبھی محو نہیں ہوتے ہیں۔ کئی سال قبل وہ حیدرآباد آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، اس لئے اسے اپنی معاشی ترقی کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ پاکستان نے بحیثیت ریاست تو اس کا خیال نہیں کیا، البتہ اس کے دولت مند طبقے نے اس کا خیال اس طرح کیا کہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک بھیج دیا، جائیدادیں بنائیں، انہوں نے اپنے منتقل ہونے کے اسباب بھی پیدا کرلئے۔ ملک کی آج پیداواری صلاحیت ہی نہیں۔ آج کے مقابلے میں وہ اشیاء پیدا کرتا تھا، آج اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ برآمدی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہوگئی، لیکن برآمدی صلاحیت میں کئی گنا زیادہ اضافہ کرلیا ہے، جو بھی چیز کم پڑتی ہے، حکمران درآمد کی طرف دیکھتے ہیں۔ ٹماٹر اور پیاز تک تو درآمد کرلی گئی ہے۔ چینی اور گندم بھی بار بار درآمد کی جاتی ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اشیاء کی درآمد سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے برعکس زنگ لگادیا گیا ہے۔
سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کا کہنا تھا کہ پاکستان زرعی ملک ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس سے معیشت کی بہتری کے لئے استعمال کرنے سے قاصر ہیں، جس کی بڑی وجہ پالیسیوں کا عدم استحکام ہے۔ سیاسی رہنمائوں کا کام ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا رہ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کبھی اس موضوع پر کھل کر بحث ہی نہیں کرتی کہ بھلا قرضوں اور امداد پر بھی ملک چلا کرتے ہیں اور پاکستان اس طرح کب تک چلے گا۔ آئی ایم ایف کیوں قرضوں پر قرضے دے رہا ہوگا، 
جب وہ دیکھے گا کہ اب تو پاکستان کے پاس اثاثے ہی نہیں رہے۔ ہر چیز تو بیچ کھائی ہے۔ صورت حال تو یہ ہوگئی کہ قرضوں پر لگنے والے سود کی ادائیگی کے لئے بھی رقم قرض لینا پڑتی ہے۔ یہ تو لولا لنگڑا بھی نہیں ہوا، بلکہ ایسے محتاج شخص کی طرح ہوگیا ہے، جسے قدم قدم پر سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو کوئی بھی ہمیشہ سہارا نہیں دیتا۔ کسی بھی ملک کی محتاجی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ پاکستان کے ایسے معمر افراد جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، برملا کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست تو بنادیا گیا ہے۔ جب اس کی ناکامی کا معاملہ اس کے عوام پر کھلے گا تو اس ملک میں بہت بڑے پیمانے پر خونریزی ہوجائے گی، جس کے انجام سے اس ملک کا دولت مند طبقہ واقف ہونے کے باوجود احتیاط کرنے پر آمادہ نہیں۔ دولت مند لوگوں نے اپنی جو دولت بیرون ملک چھپا رکھی ہے، کیا وہ دولت ان کے کام آئے گی۔ پاکستان میں حالات ایسے ہیں کہ ہر شخص اس ملک سے فرار چاہتا ہے۔ لوگ کب تک ایک وقت کی روٹی کے لئے بھٹکتے پھریں گے۔ پہننے کے لئے ایک ایک جوڑے کے محتاج رہیں گے۔ کب تک اپنے بچوں کو ننگے پائوں دیکھیں گے۔ ایسی صورت میں انہیں کسی سے محبت نہیں ہوگی۔ دولت مند طبقہ بے شک اس خوش فہمی کا شکار رہے کہ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔ 
سیمینار میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ایک رہنما کے لئے ضروری ہے کہ اس میں عصر حاضر کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔ پاکستان میں سیاسی رہنمائوں میں یہ صلاحیت مفقود ہے۔ پاکستان میں ہر سیاسی رہنما حادثات کی صورت سامنے آیا ہے۔ کو ن سا سیاسی رہنما ہے جو پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی ادراک کا حامل ہو اور اس کے بارے میں اپنی رائے رکھتا ہو۔ یہاں تو جو بھی ہیں، انہیں اقتدار حاصل کرنے کی فکر ہے، اس کی ملک کو جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے، انہیں اس سے غرض نہیں۔